فتوی نمبر 143709200014: اسلام میں حلالہ کا حکم اور حیثیت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 10
  •  

 

جون 2016ء میں جامعۃ العلوم الاسلامیہ، بنوری ٹاؤن، کراچی کے داراافتا سے ایک سول کے جواب میں حلالہ کے بارے میں ذیل کا موقف بیان کیا گیا۔

سوال: کیا اسلام میں حلالہ کرنا جائز ہے؟ تفصیل سے بتائیں، کیا اس طرح نکاح ہوجاتا ہے؟ کیا کوئی حدیث ہے کہ حلالہ کروانے والا اور کرنے والا دونوں گناہگار ہیں؟ زنا زیادہ برا ہے یا حلالہ کی حالت میں کسی کی بیوی سے ہمبستری کرنا؟

جواب: واضح رہے کہ جس عورت کو طلاق مغلظہ یعنی تین طلاقیں واقع ہوجائیں تو قرآن کریم اور احادیث مقدسہ کی رو سے اس عورت کا اپنے سابقہ شوہر سے دوبارہ نکاح اس وقت تک جائز نہیں جب تک کہ پہلے شوہر کی عدت گذر جانے کے بعد اس عورت کا کسی اور جگہ نکاح نہ ہوجائے اور وہ دوسرا شوہر حقوق زوجیت ادا کرنے کے بعد اس کو طلاق دیدے یا اس شوہر کا انتقال ہوجائے، پھر اس دوسرے شوہر کی عدت بھی گذر جائے تو اب سابقہ شوھرسے نکاح جائز ہے، اسی کو ہمارے عرف میں حلالہ کہتے ہیں۔ البتہ حلالہ کی شرط لگا کر نکاح کرنے والے اور کروانے والے پر حدیث میں لعنت وارد ہوئی ہے اگرچہ اس کے باوجود بھی عورت اپنے سابقہ شوہر کے لیئے حلال ہوجائے گی اس لیے کہ نکاح کے جائز ہونے کے لیے جو شرط تھی وہ بہرحال پائی جا رہی ہے۔

اب رہی یہ بات حلالہ کا ثبوت کہاں ہے ؟جواباً دو دلیلیں عرض ہیں۔ 1 ۔کتاب اللہ، 2۔ سنت رسول ؐاللہ۔

پہلی دلیل سورہ بقرہ آیت نمبر:۔۲۳۰ ارشاد باری تعالی ہے :فان طلقہا فلاتحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ۔ ترجمہ: اگر مرد اپنی بیوی کو تیسری طلاق بھی دے دے پس یہ عورت اس مرد کے لئے حلال نہیں ہو سکتی جب تک یہ اس کے علاوہ کسی اور مرد کے ساتھ نکاح صحیح سے حقوق زوجیت ادا نہ کرلے۔ یہ ہے حلالہ کا قرآن سے ثبوت ۔

دوسرا حدیث شریف میں ہے۔ ایک صحابیہ عورت کو شوہر نے طلاق دے دی اور اسی عورت نے ایک اور مرد سے نکاح کرلیا اب اس عورت کا پہلے شوہر کے ساتھ نکاح کا خیال ہوا مگر دوسرے شوہر سے مجامعت نہ ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئی پہلے شوہر کے پاس نکاح کے ساتھ جانے کا خیال ظاہر کیا اور اشاروں اشاروں میں عرض کیا کہ حقوق زوجیت ادا نہیں ہوئے (دوسرے شوہر سے) تو نبی اکر م صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تک ایک دوسرے کا شہد نہ چکھا جائے (یعنی حقوق زوجیت ادا نہ ہوں) تم پہلے شوہر کے لئے حلال (بطور بیوی) نہیں ہو سکتی (رواہ ابن ماجہ) یہ حلالہ کے ثبوت پردلیل حدیث نبوی سے ہے۔

ذکر کردہ تفصیل کے مطابق اصل حلالہ نکاح صحیح کے ساتھ حقوق زوجیت کی ادائیگی کا نام ہے اور یہ ایک ایسا امر ہے جو عین شریعت کے مطابق ہے اس کا موازنہ زنا اور بدکاری کے ساتھ کرنا جو کہ قطعی حرام عمل ہے شریعت سے ناواقفیت اور جہالت پر مبنی ہے۔ واللہ اعلم

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 10
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں