بجلی پرسیاست اور عوام کی حالت زار


دنیا میں سیاست پالیسیوں، قانون سازی اورعوام کے لئے نئے منصوبوں پرہوتی ہے جبکہ پاکستان میں بدقسمتی سے آج بھی نالیاں، گلیاں پکی کرنے اور ٹرانسفارمر، بجلی پول لگانے پر ہوتی ہے۔ مشرف کے دورسے جان بوجھ کر بجلی کی شدید کرائسزپیدا کرکے بجلی کی سیاست زیادہ زورپکڑی ہے۔

لوڈ شیڈنگ، ٹرانسفارمر، پول کی تنصیب سے لے کر بجلی میٹر لگانے تک سیاست کی نذر ہوچکی ہے۔ اور اگر کسی کا سیاسی اثر رسوخ نہ ہو تو مطلوبہ آالات کے جائزطریقے سے لگانے پر بھی بندہ ذلیل و خوار ہوگا۔ واپڈا کا محکمہ شتربے مہار اختیارات کا مالک بن چکا ہے۔ افسر شاہی کے اختیارات لامحدود ہیں اوراپنی مرضی و سیاسی وابستگی سے عوام کا جینا حرام کیا ہوا ہے۔ بلکہ اکثر علاقوں میں اپنے من پسند نمائندوں کو الیکشن میں جتوانا بھی ان افسر شاہی کا کام بن چکا ہے۔ مشاہدے سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ جہاں پر افسر شاہی اپنے من پسند نمائندے کو جتوانا ہو وہاں پر سرکاری فنڈ سے بغیر کسی کاغذی کارروائی اور پروسیجر کے ٹرانسفارمرز، پول، لین لگاتے ہیں اور لوڈ شیڈنگ میں بھی رعایت کرواتے ہیں۔

ایک وقت تھا کہ واپڈا پورے پاکستان میں خسارہ پورا کرنے والا ادارہ تھا۔ آج واپڈا کے لاکھوں نئے کنکشنز لگنے کے باوجود خسارے میں بھی ہے اور بجلی بھی پوری نہیں کرسکتا ہے۔ ڈیموں کی صفائی، لائن لاسز، ریکوری میں ناکامی جو کہ خالص انتظامی مسئلہ ہے کوکنٹرول نہیں کرسکتے ہیں۔ کیونکہ واپڈا کی افسر شاہی میں سیاسی اثر رسوخ، رشوت ستانی، کمیشن خوری تمام اداروں سے زیادہ ہے۔ حکومت بھی بجلی پر سیاست تو کرتی ہے لیکن بجلی کے مسئلے کو ختم نہیں کرنا چاہتے ہیں۔ ان افسر شاہی اورسیاسی حکومت کی گٹھ جوڑ اورطاقتور مافیازکی بجلی چوری کرنے کا تمام بوجھ غریب اور کاروباری عوام پر پڑتا ہے۔

محکمہ واپڈا کے افسر صرف فگر پوراکرنے کے چکر میں ہوتے ہیں جو صرف زبانی جمع خرچ اور غلط اعداد و شمار پر مشتمل ہوتی ہے۔ واپڈا کے ملازمین کے لئے بھی کوئی قانون سازی یا حکمت عملی نہیں بناتے کہ ملازمین کو اتنے فری یونٹس فراہم کریں جس سے ایک نارمل گھر چلتا ہو اس لئے ملازمین کی اکثریت بھی بجلی چوری سے استعمال کرتے ہیں اور بے دریغ استعمال کرتے ہیں۔

ایک وقت تھا کہ بجلی میٹر گھروں کے اندر لگے ہوتے تھے اوربجلی چوری کوئی نہیں کرتا تھا اورکرتے ڈرتے بھی تھے۔ آج بجلی میٹر پولوں پر نصب ہیں ریڈنگ بھی کیمرے پر ہے چیکنگ ٹیمیں بھی زیادہ ہیں جرمانے بھی زیادہ لگتے ہیں اس کے باوجود چوری زیادہ بھی ہے اور کنٹرول سے باہر بھی ہے۔

بجلی کمی پوری کرنا اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہے لیکن بجلی پر سیاست کرنا اور بے لگام افسر شاہی کے اختیارات، عیش و عشرت اور کمیشن سازی سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ دوسری نمبر پر بجلی ریٹ بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ غریب آدمی کے برداشت سے باہر ہوچکی ہے غریب بھی علاقے کے معززین، واپڈا ملازمین اورافسر شاہی کو بجلی چوری کی بجلی چوری دیکھ کر مجبوراً بجلی چوری کرتے ہیں۔ اور ڈائیریکٹ استعمال کرتے ہیں۔ دیہاتی علاقوں میں بجلی چوری سب سے بڑا مسئلہ اس لئے ہی بن گیا ہے کہ غریب بجلی کے بل ادا کرنے کی طاقت ہی نہیں رکھتے ہیں اور سرمایہ دار، اثر رسوخ والوں کو تو کوئی کچھ کہہ نہیں سکتا۔

اب آتے ہیں بجلی کے مسئلے کے حل کی طرف جو کہ ناممکن بھی نہیں ہے اور بجلی کے مسئلے کا حل ضروری بھی ہے کیونکہ بجلی ایک بنیادی ضرورت بن چکی ہے۔ گھر کا کام ہو، کاروبار ہو یا دفتر کا کام ہو بجلی سے وابستہ ہے اور بجلی کا مکمل متبادل ابھی تک پاکستان میں نہیں ہے اگر ہے بھی تو بجلی سے مشکل بھی اور مہنگی بھی ہے۔ تین سو یونٹ تک بجلی خرچ کرنے والے پر ہر قسم ٹیکس ختم کرنے ہوں گے کیونکہ بجلی کے ریٹ سے زیادہ ٹیکسز بل میں شامل ہوتے ہیں۔ اور تین سو تک بجلی استعمال کرنے والے عام غریب محنت کش لوگ ہوتے ہیں۔ کنڈا کلچر کے خاتمے کے لئے علاقوں کے مشران، کونسلرز، اور سیاسی منتخب نمائندوں کے ساتھ مذاکرات کرنے ہوں گے۔

واپڈا کو سیاسی اثر رسوخ سے پاک کرنا ہوگا۔ واپڈا ملازمین کے لئے مناسب بندوبست اوراقدامات اٹھانی ہوگی جس میں فری یونٹس کو زیادہ کرنا اور چوری روکنے کے خلاف اقدامات کرنا شامل ہے۔ ڈیموں کی صفائی اور متبادل نیوکلیر بجلی بنانے کا انتظام کرنا ہوگا۔ عوام میں واپڈا کے بارے میں اعتماد سازی پیدا کرنے کے لئے ناجائز جرمانوں اووربلنگ کخاجاتمہ کرنا ہوگا۔ افسر شاہی کو دفتروں سے نکل کر علاقوں کے دورے کرنے ہوں گے اور کھلی کچہریوں اور عوامی مسائل کو حل کرنے کے لئے اقدامات کو یقینی بناناہوگا۔

سزا و جزا کی بنیاد پر ملازمین کی کارکردگی کو بھی دیکھنا ہوگا۔ تین سو زیادہ یونٹ استعمال کرنے والوں کے بلوں میں بے تحاشا ٹیکسزکا خاتمہ کرنا ہوگا اور یونٹ ریٹ کم کرنا ہوگا، ۔ بجلی چوری کے خاتمے کے لئے مستقل بندوبست کرنا ہوگا۔ میڈیا کے علاوہ علاقوں کے سروے کرکے بجلی چوری کرنے والے علاقوں میں لوگوں کو بجلی بلوں کو ادا کرنے اوربجلی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے اعتماد پیدا کرنا ہوگا۔ مسجدوں، حجروں اور دیگر عوامی مقامات پر عوام میں اعتماد پیدا کرنے کے لئے موبالائزیشن کا طریقہ کار اپنانا ہوگا۔

یہ وقت ہے بجلی کا مسئلہ عوامی امنگوں کے مطابق حل کرنے کا اگر اس وقت بجلی کے مسئلے کے حل کے لئے اقدامات نہیں اٹھائے گئے تو یہ مسئلہ اتنا گھمبیر ہوجائے گا کہ کوئی بھی اس کو حل نہیں کرسکے گا۔ صرف طاقت کے استعمال اور سزاوں کے خوف سے عوام کو دبانا اور ناجائز جرمانوں اور قید و بند سے یہ ممکن نہیں ہے۔ اس سے واپڈا کے اخراجات میں بھی اضافہ ہوگا اور عوام کی بداعتمادی بھی مزید بڑھے گی۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

قیصر خان کی دیگر تحریریں
قیصر خان کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں