قدیم سائنس یا مذہب کی اندھی پیروی؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بھارت میں سنیچر کو سائنس کانفرنس کا افتتاح ہوا جس میں قدیم بھارت میں طیارے کی ٹیکنالوجی پر مقالہ پڑھا گيا

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے ایک خطاب میں ہندو دیوتاگنیش کے سر پر ہاتھی کا سر ہونے کو زمانۂ قدیم میں بھارت میں تبدیلیِ اعضا کی سائنس میں مہارت کے دعوے کے طور پر پیش کیا تھا۔

ابھی اس مضحکہ خیز دعوے پر قہقہہ جاری ہی تھا کہ سنیچر کو شروع ہونے والی انڈین سائنس کانفرنس سنہ 2015 نے لوگوں کو حیران ہونے کا ایک اور موقع فراہم کر دیا۔

سائنس کانفرنس میں دو نام نہاد ماہرین کیپٹن آنند جے بوڈاس اور اميا جادھو نے ’قدیم ہندوستان میں طیارہ ٹیکنالوجی‘ پر ایک مقالہ پڑھا جس پر بھارت میں بحث شروع ہو گئی ہے۔

آسمان میں پرندوں کی طرح اڑنے کا خواب کون نہیں دیکھتا۔ دنیا کی تمام تر تہذیبوں کے اساطیر، قدیم رزمیوں اور تخلیقات میں اڑنے والے ’دیومالائی کرداروں، غیر حقیقی جانوروں اور جادوئي اڑن كھٹولوں کے قصے بھرے پڑے ہیں۔

ان قصوں کو حقیقت مانیں تو گلگمیش اور ہنومان کے پاس اڑنے کی جادوئي طاقت تھی۔ جبکہ ایكارس نے پرندوں کے پروں کو موم کی مدد سے اپنے بدن پر چپکا کر سورج تک اڑانے کی کوشش کی اور جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی سائنس کانفرنس سے خطاب کیا

والمیکی کی رزمیہ داستان ’رامائن‘ میں راون کے پاس ایک ایسا طیارہ تھا جو سوار کی مرضی کو از خود جان کر نہ صرف زمین پر کہیں بھی پہنچ سکتا تھا بلکہ دوسری دنیاؤں میں بھی پلک جھپکتے ہی لے جاتا تھا۔

ایودھیا کے راجکمار رام کے پاس شاید قدرے پسماندہ ٹیکنالوجی تھی اس لیے وہ پیدل ہی راون سے لڑنے پہنچ گئے تھے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ تصور کی یہ اڑان واقعی دلچسپ ہے۔

سائنس کانفرنس میں شامل دو ’ماہرین‘ کیپٹن آنند جے بوڈاس اور اميا جادھو

اگر انجن سے بغیر گلائیڈر اور گرم ہوا کے غباروں کو چھوڑ دیں تو رائٹ برادران نے سنہ 1903 میں پہلی بار انجن سے چلنے والے ہوائی جہاز ایجاد کیا۔ اور یہ کام خلا میں نہیں ہو گیا، بلکہ آسمان میں اڑنے کے خیال کو حقیقت میں تبدیل کرنے کے لیے انسانی عقل کو کئی گتھیاں سلجھانی پڑیں۔

پہلے تو ہلکی مخلوط دھاتیں ایجاد کرنی پڑیں، جو پرواز میں معاون ثابت ہو سکیں۔ پھر تھرموڈائنیمكس اور ایئروڈائنیمكس کے قدرتی اصولوں کو سمجھنے کی مشقت بھی کرنی پڑی جس کا ہندوستان کی کسی بھی قدیم سنسکرت کی کتاب میں کوئی ذکر نہیں ملتا۔

18ہویں صدی میں سوئس سائنس داں برنولي کے ہوا کے چکر کھانے کی سطح پر بہنے سے کم دباؤ بننے کے اصول کی تلاش کے بغیر ہوائی جہاز کے پروں اور روڈولف كلیسيئس کے حرارت کے تبادلے اور تحفظ کے اصولوں کی تلاش کے بغیر انجن کی ایجاد ممکن ہی نہیں تھی۔

سائنس کی ترقی قدیم صحیفوں کے محض مطالعوں اور تبصروں سے نہیں بلکہ قدیم سائنس کے استعمال اور جانچ کی کسوٹی پر رکھنے سے ہوتی ہے۔

ہندو دیوتا گنیش کا سر ہاتھی کا ہے جس کے بارے میں روایتاً بہت کچھ کہا جاتا ہے لیکن حال میں وزیر اعظم نریندر مودی نے اسے بھارت میں قدیم زمانے میں تبدیلیِ اعضا کی موجودگی کا ثبوت بتایا تھا

بھارت میں اس سائنسی طریقہ کار کی واحد مثال آریہ بھٹ تھے جن کا نظریاتی قتل آج سے ڈیڑھ ہزار سال قبل نیم حکیم نجومیوں نے کر دیا تھا اور بھارت میں سائنس کی جڑ پر ہی کلھاڑی چلا دی تھی۔

آج کے دور میں جب کمپیوٹر مشینوں کو دماغ سے براہ راست منسلک کر کے دماغ میں جاری ہلچل اور خیالات کو جاننے کی ٹیکنالوجی پر دنیا بھر میں کام ہو رہا ہے، تب سائنس کے اجلاس میں اس طرح کی قدامت پرست روش سے ملک کے بچے کیا سیکھیں گے، یہ سوچ کر ہی جی ڈرنے لگتا ہے

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 7649 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp