کیا آپ غیرت کے نام پر قتل کو جائز سمجھتے ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 57
  •  

 

ساری دنیا میں قاتلوں کی کئی قسمیں ہیں

بعض لوگ غیروں کو قتل کرتے ہیں بعض اپنوں کو

بعض لوگ دشمنوں کو قتل کرتے ہیں بعض دوستوں کو

بعض لوگ مذہب کے نام قتل کرتے ہیں بعض سیاست کے نام پر

بعض لوگ نفرت کے نام پر قتل کرتے ہیں بعض محبت کے نام پر

اور بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو غیرت کے نام پر قتل کرتے ہیں۔

غیرت کے نام پر اکثر اوقات عورتیں اور لڑکیاں قتل ہوتی ہیں اور ان کو قتل کرنے والے ان کے باپ‘ بھائی‘ شوہر یا بیٹے ہوتے ہیں۔

مغرب میں غیرت کے نام پر قتل HONOR KILLING کہلاتا ہے تا کہ اسے دوسری اقسام کے قتل سے مختلف سمجھا جائے۔

جب ہم غیرت کے نام پر قتل کا نفسیاتی اور سماجی تجزیہ کرتے ہیں اور قاتلوں کے انٹرویو پڑھتے ہیں تو ہمیں احساس ہوتا ہے کہ قاتل ایسے قتل کے کئی جواز پیش کرتے ہیں۔

پہلا جواز یہ پیش کیا جاتا ہے کہ لڑکی کے ماں باپ اس کی ارینجڈ شادی کرنا چاہتے تھے لیکن اس لڑکی نے انکار کر دیا تو اسے قتل کر دیا گیا۔

دوسرا جواز یہ دیا جاتا ہے کہ لڑکی چھپ کر اپنے محبوب سے مل رہی تھی اور جب گھر والوں کو پتہ چلا تو اسے قتل کر دیا گیا

تیسرا جواز یہ پیش کیا جاتا ہے کہ عورت کے ساتھ زنا بالجبر کیا گیا تھا اور چونکہ وہ زنا خاندان کے لیے باعثِ شرمندگی تھا اس لیے اسے قتل کر دیا گیا

چوتھا جواز یہ دیا جاتا ہے کہ بیوی اپنے شوہر کو چھوڑ کر جا رہی تھی اور خاندان والے نہیں چاہتے تھے کہ وہ طلاق لے اس لیے اسے قتل کر دیا گیا۔ یہ بات اہم ہے کہ ان شادیوں میں اکثر اوقات شوہر بیوی کی تذلیل بھی کرتے تھے اور مارتے پیٹتے بھی تھے۔

پانچوں جواز یہ دیا جاتا ہے کہ اس لڑکی نے فیس بک پر اپنا اکائونٹ بنا لیا تھا اور اس نے انٹرنیٹ پر نامحرم مردوں سے دوستی کر لی تھی اس لیے اسے قتل کر دیا گیا۔

غیرت کے نام پر ساری دنیا میں عورتیں قتل ہو رہی ہیں اور پچھلی چند دہائیوں میں ان کی تعداد کم ہونے کی بجائے بڑھ رہی ہے۔ پاکستان میں ہر سال سینکڑوں اور ساری دنیا میں ہزاروں عورتیں غیرت کے نام پر قتل کر دی جاتی ہیں۔

2008 میں جب پاکستان میں عمرانی قبیلے کی پانچ عورتوں کو غیرت کے نام پر قتل کیا گیا تو بلوچستان کے ایک سیاست دان نے قتل کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا ’ یہ ہماری سینکڑوں سالوں کی روایت ہے۔ میں اس روایت کا دفاع کرتا رہوں گا مجھے کسی کا کوئی خوف نہیں۔ ان لوگوں کو خوف زدہ ہونا چاہیے جو غیر اخلاقی حرکات کرتے ہیں۔

جب ہم تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں اندازہ ہوتا ہے ایک ہزار قبل مسیح کے دور میں بھی مشرقِ وسطیٰ‘ چین‘ شمالی امریکہ اور ایران میں غیرت کے نام پر عورتوں کو قتل کیا جاتا تھا۔ اس دور کے قوانین میں عورتیں اور بچے مرد کی ملکیت سمجھے جاتے تھے۔ اس دور میں اگر کوئی کسی عورت سے زنا بالجبر کرتا تو عورت کو اس لیے قتل کر دیا جاتا کہ اس کے لیے موت‘ اس کی بغیر عزت کے زندگی سے‘ بہتر سمجھی جاتی تھی۔ وہ قتل اس پر رحم کھا کر کیا جاتا تھا۔ جیسے ہندوستان میں شوہر کی وفات کے بعد بیوی کو ستی کے نام پر جلا دیا جاتا تھا۔

پچھلی چند صدیوں میں ساری دنیا میں سماجی ‘معاشرتی اور سیاسی تبدیلیاں آئی ہیں۔ مختلف ممالک کے قوانین بدلے ہیں اور عورتوں کی آزادی اور خود مختاری کی تحریک نے عورتوں کے انسانی حقوق کا دفاع کیا ہے۔

ان سماجی تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ کچھ نفسیاتی تبدیلیاں بھی آئی ہیں۔ ایک ٹیلی ویژن کے انٹرویو میں جب امریکی دانشور جوزف کیمبل سے پوچھا گیا کہ پچھلی چند صدیوں میں انسانوں کے رومانوی رشتوں میں بنیادی طور پر کیا تبدیلی آئی ہے تو انہوں نے فرمایا کہ ایک دور میں رومانوی اور ازدواجی رشتوں کی بنیاد TRIBIDO ہوتی تھی لیکن آہستہ آہستہ ان کی بنیاد LIBIDO بن گئی۔ جب انٹرویو کرنے والے نے وضاحت چاہی تو جوزف کیمبل نے کہا کہ ایک وہ دور تھا جب مرد اور عورت کے رومانوی رشتے اور شادی کا فیصلہ ان کا قبیلہ TRIBE کرتا تھا لیکن اب جوان لڑکے اور لڑکیاں اپنی محبت اور شادی کے فیصلے خود کرتے ہیں اور پھر نتائج کی ذمہ داری لیتے ہیں۔ ایک وہ دور تھا جب شادی روایت کی بنیاد پر کی جاتی تھی اب وہ محبت کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔ یہ علیحدہ بات کہ بعض ممالک میں روایت کی شادی کرنے والے محبت کی شادی کو غیر اخلاقی‘ غیر مذہبی اور غیر قانونی سمجھتے ہیں۔ بعض کی غیرت تو اتنی جوش میں آ جاتی ہے کہ وہ اس عورت کو قتل کر دیتے ہیں۔۔

 پشاور میں مجھے ایک پٹھان نے بتایا کہ افغانستان میں ایک قبیلہ محبت کے رشتے کے خلاف ہے لیکن وہ عورت کو قتل کرنے سے پہلے مرد کو قتل کرتے ہیں۔ اگر مرد گائوں سے بھاگ جائے تو وہ عورت کو اس وقت تک قتل نہیں کرتے جب تک مرد کو پکڑ کر قتل نہ کر دیں۔

 سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اکیسویں صدی میں بھی کیا ہم جوان مرد اور عورت کی محبت اور اپنی مرضی سے شادی کرنے کے لیے تیار ہیں یا نہیں اور کیا ہم محبت کی شادی کا ذمہ دار صرف عورت کو سمجھتے ہیں۔ یہ ہم سب کے لیے ایک لمحہِ فکریہ ہے۔

 اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہم اپنے جوان بچوں اور بچیوں کو خوش دیکھیں تو ہمیں انہیں گھروں اور سکولوں میں جنسی اور نفسیاتی تعلیم دینی چاہیے تا کہ وہ اپنے مستقبل کے بارے میں دانشندانہ فیصلے کر سکیں اور ایک خوشحال ازدواجی زندگی گزار سکیں چاہے وہ شادی روایت کی ہو یا محبت کی۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 57
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 190 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail