متبادل ذرائع توانائی اور اٹھارہویں آئینی ترمیم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انسانی سماج کی مسلسل ترقی اور ارتقاء میں توانائی کا کردار سائنسی انقلاب کی آمد کے بعد بنیادی اہمیت کا حامل رہا ہے۔ بجلی و گیس کی سہولتوں نے انسان کو بہت سی قدرتی زنجیروں سے آزاد کردیا ہے۔ آج کے جدید زمانے میں نظر دوڑائیں تو ہر سو روشنیوں اور مشینوں کی بہار دکھائی دیتی ہے جو ہرلمحہ انسان کی آسانی میں مصروف عمل ہے تاہم آج کے اس جدیدترین دور میں بھی جہاں ایک جانب مریخ اور پلوٹو انسان کی پہنچ ہیں تو اسی کرہ ارض پہ ایک ارب سے زائد انسان بجلی جیسی بنیادی ضرورت سے محروم ہیں۔

انسانی استعمال میں آنے والی اس بجلی کی پیداوار کا بڑا ذریعہ پانی یا کوئلہ ہیں۔ پانی کے ڈیم یا کوئلہ جلانے کی فیکٹریاں انسانی استعمال کے لئے بجلی کی پیداوار میں مصروف تو رہتی ہیں مگر اس کے نتیجے میں عالمی حدت اور ماحولیاتی آلودگی کے مسائل نے جس قدر آج انسان کے رہائشی اس سیارہ زمین کو خطرات سے دوچار کیا ہے ایسا ماضی میں پہلے کبھی نہیں تھا۔ سائنسدان پر لمحہ ایسی کوششوں میں مصروف عمل ہیں کہ جن کے ذریعے تمام انسانوں تک بجلی جیسی بنیادی ضرورت کی فراہمی ممکن ہو اور اس سے آلودگی بھی نہ پھیلے۔

یہ کوششیں بہت محنت طلب ہیں۔ توانائی کے حصول کا وہ ذریعہ جس میں خام تیل یا کوئلہ جلانے کی ضرورت نہیں پڑتی توانائی کے حصول کا متبادل ذریعہ یا ”رینؤایبل انرجی“ کہلاتا ہے۔ یہی وہ ایک طریقہ ہے جسے بروئے کار لا کر اس خواب کی تکمیل ممکن ہے کہ ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ کیے بغیر تمام کرہ ارض کے باسیوں کو توانائی فراہم کی جا سکے۔

ہمارا ملک پاکستان ابھی تک عالمی سطح پر جاری ان کوششوں میں بہت پیچھے ہے جہاں توانائی کے حصول کے لئے روایتی طریقوں کی بجائے متبادل ذرائع کی جانب منتقل ہوا جا رہا ہے اگرچہ پاکستان میں توانائی کے حصول کے متبادل ذرائع کی جانب منتقلی کے اسباب بہت زیادہ ہیں۔ پاکستان کو اس تبدیلی کی بہت جلد ضرورت اس لئے بھی ہے کہ پاکستان ماحولیاتی آلودگی کے سبب لاحق خطرات میں سرفہرست پہلے دس ممالک میں شامل ہے۔

حالت یہ ہے کہ اس تحریر کو پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے ایک پوش سیکٹر میں لکھا جارہا ہے اور یہاں ابھی بجلی بند ہے۔ اگرچہ ملک کی مجموعی آبادی کا 27 فیصد بجلی کی سہولت سے یکسر محروم ہے تاہم آبادی کے جس حصے کو یہ بنیادی سہولت میسر ہے وہ طبقہ بھی دن کے 24 گھنٹوں میں سے تقریباً نصف میں اس سے محروم رہتا ہے کیونکہ پچھلی ایک دہائی سے پاکستان کو توانائی کے شعبے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

ملک میں پیدا ہونے والی بجلی میں اگر متبادل ذرائع سے پیدا ہونے والی بجلی کے اعداد و شمار دیکھیں تو حیرت ہوتی ہے کہ ملک میں بجلی کی مجموعی پیداوار کی استعداد 25 ہزار میگاواٹ ہے اور اس میں متبادل ذرائع سے بجلی کی پیداوار کی مقدار محض 1 ہزار 5 سو 58 میگاواٹ ہے۔ ایک ایسا ملک جو ایٹمی طاقت ہو، جہاں سارا سال سورج چمکتا ہواور ہزاروں کلومیٹر طویل ساحل پر ہمہ وقت ہوائیں چلتی ہوں اور ملک کا بنیادی انحصار زراعت پر ہو وہاں ”ونڈ انرجی، سولر انرجی، اور بائیو انرجی کے شعبوں کا ابھی بھی محض بنیادی سطح تک محدود ہونا ایک فکرمند سوال ہے۔

اگر ملک کی مجموعی ترقی پر نظر دوڑائیں تو پاکستان کو معاشی مشکلات سے نکلنے کے لئے مسلسل معاشی ترقی اور استحکام کی ضرورت ہے جس کے بنیادی ذرائع غیر ملکی سرمایہ کاری اور صنعتوں کا فروغ ہے۔ یہ شعبہ ایک بار پھر توانائی کی مسلسل فراہمی چاہتا ہے۔ پاکستان نے عالمی سطح کے ”پیرس معاہدہ 2015“ جیسے معاہدوں پر بھی دستخط کررکھے ہیں جو اسے پابند بناتے ہیں کہ توانائی کے حصول کے ایسے ذرائع اپنائے جائیں جو کہ محفوظ ہیں اور ان کے ذریعے ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ نہیں ہوتا۔

اس صورتحال میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے کہ وہ متبادل توانائی کے ذرائع کی پیداوار میں اضافے میں کوششیں تیز کریں۔ اپریل 2010 میں حکومت پاکستان نے اٹھارہویں آئینی ترمیم پاس کی۔ جس کے نتیجے میں اختیارات کی منتقلی کا وہ دیرینہ مطالبہ پورا ہوا جو چھوٹے صوبے ایک لمبے عرصے سے کررہے تھے۔ اختیارات کی منتقلی سے صوبے اب بہت سی پالیسیاں بنانے میں خود مختار ہیں۔ توانائی کے حصول کے ذرائع بھی اب صوبائی عملداری میں ہیں۔ تاہم پچھلے 8 سالوں میں ہونے والی اس شعبے میں پیش رفت سے اندازہ ہوا ہے کہ صوبائی خود مختاری کی اٹھارہویں ترمیم کے آنے کے بعد متبادل توانائی کے شعبے میں صوبوں کی کوششیں کم ہوئی ہیں اور یہ شعبہ مسلسل نظرانداز ہورہا ہے۔

اس معاملے پر متبادل توانائی کے ذرائع کی اہمیت کے لئے شعور و آگہی میں اضافے کے لئے مصروف عمل ادارے ورلڈ ونڈ انری ایسوسی ایشن نے ایک تحقیقی مقالہ شائع کیا ہے جس میں جائزہ لیا گیا ہے کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد توانائی کے متبادل ذرائع کے لئے کوششوں پر کیا اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ اس مقالے کے مصنف بیان کرتے ہیں کہ ہماری تحقیق کے بعد یہ سامنے آیا ہے کہ اس آئینی ترمیم کے نتیجے میں اس شعبے میں جو دھچکہ لگا ہے اسے کم کرنے کے لئے اور ملک میں متبادل تونائی کے ذرائع کے استعمال میں اضافے کے لئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو ایک واضح اور مربوط نظام تشکیل دینا ہوگا۔

اس تحقیق میں یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ وفاقی حکومت اٹھارہویں ترمیم کے نتیجے میں اداروں کے تبدیل ہوئے کردار کی واضح ہدایات جاری کرے اور اپنی عملداری میں موجود اداروں کو پابند کرے کہ وہ متبادل توانائی کے ذرائع میں پیش رفت کے لئے صوبائی حکومتوں سے تعاون کریں اور صوبائی حکومتوں کو اس شعبے میں سرمایہ کاری اور کوششیں تیز کرنے کے لئے ہدایات جاری کرے۔ اس تحقیق میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کوشش میں تمام صوبوں کو یکساں توانائیاں صرف کرنا ہوں گی تاکہ اس مقصد کے لئے صوبوں کے درمیان مثبت مقابلہ ہوسکے جس کا نتیجہ پاکستان کے عوام کے لئے مجموعی بھلائی ہوگی۔

پاکستان میں شمسی ذریعے سے، ہوا کے ذریعے سے اوربائیو ماس کے ذریعے سے توانائی پیدا کرنے کے بہت مواقع ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے ہم بحثیت قوم اس شعبے میں دلچسپی لیں اور اپنے ملک کو جلد سے جلد نہ صرف اندھیروں سے باہر لے جائیں بلکہ صاف ماحولیات کو یقینی بنا کر اپنے معاشرے کو قدرتی آفات کے خطرات سے بھی محفوظ بنائیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں