زبیر رضوی کی آپ بیتی: گردش پا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 1
  •  

آپ بیتی چاہے جس ڈھب سے لکھی جائے. اس میں ہر پڑھنے والے کے لیے کچھ نہ کچھ ضرور ہوتا ہے۔ بعض کے لیے کم بعض کے لیے زیادہ۔ وجہ یہ ہے کہ دوسروں کے بارے میں جاننے کا تجسس ہماری سرشت کاحصہ ہوتا ہے۔ ہم آپ بیتیاں پڑھ کر اپنے اندر کی ضرورتوں کو پورا کر رہے ہوتے ہیں۔ ہر لکھاری کی زندگی میں ایسے واقعات موجود ہوتے ہیں جو کسی نہ کسی قاری کی زندگی سے مشابہت رکھتے ہیں۔ اس خوبصورت مطابقت سے حظ اٹھانے کے لیے آپ بیتی قاری کے لیے راحت کا سامان بن جاتی ہے۔

گردشِ پا زبیررضوی کی یادداشتوں کی کتاب ہے۔ یہ یادداشتیں پہلے بمبئی کے ایک رسالے ”نیا ورق“ میں چھپی اور بعد میں انھیں ”آج“ کراچی نے کتابی صورت میں چھاپا۔ یہ ایک بے حد دلچسپ کتاب ہے۔ دلچسپ ان معنوں میں کہ اس میں زبیررضوی نے اپنے مشاہدے پر مطالعہ کو غالب نہیں آنے دیا۔ زندگی جن جن تجربات سے گزرتی گئی مصنف نے انھی تجربات کو اپنا حصہ بنایا۔ اس جیون کتھا میں لکھاری نے اپنے پیش نظر اس امر کو کہیں جگہ نہیں دی کہ وہ ایک بہت اہم آدمی ہے۔ اور اس کی لکھی ہوئی یادداشتیں سماج کو تبدیل کرسکتی ہیں۔ یا اس میں وہ ایسے انکشافات کرے گا جو تاریخ کا روپ بدل دیں گے۔ اس سب کے برعکس اس کتاب میں زندگی کی ہر آن بدلتی ہوئی صورتوں اور ان شکلوں میں بدلتی بنتی، بگڑتی زندگی کا بیانیہ سامنے آیا ہے۔

اس کتاب میں امروہہ، رام پور، حیدرآباد، دہلی، لداخ کی تصویری جھلکیاں قاری کا تجسس بڑھاتی ہیں۔ مکاؤ اور دمشق و شام کی زندگی کا بیان ہے۔

زبیر رضوی کی کامیابی یہ ہے کہ وہ واقعے کے بیان میں متانت کا دامن نہیں چھوڑتے۔ کم سے کم الفاظ میں ایک صورت حال کو اپنے قاری کے سپرد کر دیتے ہیں۔ محاکات نگاری سے کتاب کا حجم نہیں بڑھاتے بلکہ کفایت سے کام لیتے ہیں اس سے خیال ان کی ادارتی زندگی کی طرف بھی جاتا ہے۔ ذہن جدید دہلی سے نکلنے والا رسالہ زبیررضوی ہی نکالتے تھے۔

کتاب کے آغاز میں ایک شعر درج ہے

ہماری گردشِ پا راستوں کے کام آئی

کہیں پہ صبح ہوئی اور کہیں پہ شام آئی

اگر دیکھا جائے تو اس میں نسل انسانی کا زندگی نامہ اپنی تمام کسک کے ساتھ موجود ہے۔ بھولی بسری یادوں کی سپرد داری میں کاٹی ہوئی زندگی۔ اپنی بستی کے بیان میں ایک مکالمہ جو مصنف کی والدہ کی زبان سے ادا ہوتا ہے اپنے اندر موجود روحانیت سے قاری کی توجہ اپنی طرف کر لیتا ہے۔ ”ہماری نیک بستی کو کوئی سیلاب بلا بہا نہیں سکتا کہ ہم نے اپنی بستی کے ارد گرد اپنی نیکیوں کا بند باندھ دیا۔“ آج ہرمسلمان بستی بلکہ ہر انسانی بستی کو اس طرح کے بند کی ضرورت ہے۔ مگر افسوس ہم اس کے برعکس شر کی دکانیں کھول کے بیٹھے ہیں۔

زبیررضوی خوبصورت نثر لکھتے ہیں۔ آرائش سے پاک ایسی نثرجس کی کسی شاعر سے توقع کی جا سکتی ہے۔ پیکروں میں ڈھلی ہوئی۔ وہ سیاست کا ذکر بھی کرتے ہیں مگر اس میں کسی طرح کی غیردلچسپ صورت حال کو پیدا نہیں xہونے دیتے۔ مشاعروں کے بیان میں، ترقی پسند تحریک، امروہہ کی محرم کی رسمیں، انسان کی تنہائی، ملازمت پیشہ زندگی کے مسائل، شہروں کی ثقافتی زندگی، ہند مسلم تہذیب، غرض اس چھوٹی سی کتاب میں قاری کے لیے کئی دلچسپی کے سامان موجود ہیں۔ زبیررضوی کا قلم واقعے کے بیان سے ڈرتا نہیں۔ اپنی ذات سے متعلق جتنا سچ کوئی بول سکتا ہے۔ اتنی صداقت اس کتاب میں موجود ہے۔

کہیں انھوں نے یہ نہیں سوچا کہ اس بیان سے لوگ کیا کہیں گے۔ میری شہرت کو گزند پہنچ سکتا ہے۔ میری شرافت پرحرف آ سکتا ہے۔ مصنف نے جو لکھا ہے کامل اعتماد کے ساتھ لکھا ہے۔ بعض مشاعروں میں مصنف کے ساتھ جو واقعات پیش آئے وہ چاہتا تو انھیں کبھی بیان نہ کرتا۔ لیکن اپنی اپنی زندگی ہے اور زندگی کو بیان کرنے کا اپنا اپنا سلیقہ اور حق۔

زبیررضوی کی یادداشتوں کے باطن میں دردمندی جھلکتی ہے۔ جیسے کوئی سوکھے ہوئے تالاب پر بیٹھ کرپانیوں کو یاد کر رہا ہو۔ انسان کے اور چھور کا اندازہ دوسرے انسانوں کو کبھی بھی نہیں ہوسکتا۔ جس تن لگتی ہے سو ہی جانتا ہے۔ مصنف آل انڈیا ریڈیو سے وابستہ رہا۔ اس رعایت سے کئی اسفار کئے اور بے شمار افراد سے ملا۔ ان ملاقاتوں کا بیان گردشِ پا کا حصہ ہے۔ لتا منگیشر بھی ان شخصیات میں شامل ہیں۔ اس کتاب میں فراق، جوش، جگر اور کئی دوسرے شاعروں سے آپ مل سکتے ہیں۔ امروہے کی زندگی کا ایسا بیان ہے کہ جی چاہتا ہے کہ اس گردشِ پا کے تعاقب میں چلتے چلے جائیں۔ اور ان زمانوں میں پہنچ جائیں جب دلہن کے چہرے پر پڑا ہوا آنچل انچوں کے حساب سے مہینوں میں اترتا تھا۔ یعنی وہ آہستہ روی اور تقدیس جو ماضی کی زندگی کا خاصا تھی جس میں انسان جنس بازار نہیں بنا تھا۔ ہنر کی فضیلت تھی۔ فنون اپنی آب و تاب کے ساتھ چمک رہے تھے۔ انسانوں میں تقسیم نام کو نہیں تھی۔ مذہب انسان کو جوڑنے والی قوت تھی۔ دلی اور بمبئی کے بازار خوشیوں کے باغ تھے۔ اور ان شہروں کی زندگی کو زبیررضوی نے بیان کیا ہے۔ وارث علوی، شمس الرحمن فاروقی، محمود ہاشمی، جان نثار اختر، اختر الایمان، فضیل جعفری، بلراج مین را، سریندر پرکاش سے وابستہ یادیں اس کتاب کا حصہ ہیں۔ بنکاک، سنگاپور، ہانگ کانگ کے ہوائی اڈوں کا بیان، اس بات کا غماز ہے کہ تخلیق کار نے زندگی کو ہر آن میں دیکھا اور ہر آن میں بسر کیا۔ اس کیفیت نے ان کے اندر رجائیت بھر دی ہے۔ ہم بھی اس خوشی میں کتاب کی قرأت کے ساتھ شامل ہو سکتے ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 1
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں