مرد کے شک اور عورت کے فیصلے کا سنگین انجام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس بات کو لکھنے میں مجھے کوئی عار یا شرم نہیں کہ اگر مرد کو کسی بات پر شک ہوجائے تو اُس کے دماغ میں بھر جانے والے خناس کو نکالنا ناممکن ہے، اس بات کو اپنے اوپر رکھ کر تفصیلی مشاہدہ کیا جائے تو بات کہیں نہ کہیں سچ ثابت ہوگی اسی طرح کوئی عورت کسی چیز کا فیصلہ کرلے تو اُسے دنیا کی کوئی طاقت پیچھے نہیں ہٹا سکتی۔

یہ بلاگ لکھنے کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ ہماری آج کل کی نوجوان نسل ان بیماریوں میں تیزی سے مبتلا ہورہی ہیں، نوبیاہتا جوڑے، بہن بھائی اور یونیورسٹی میں پڑھنے والے طالب علموں میں سے شاز ونادر ہی کوئی ایسا شخص ہوگا جو اس بیماری سے محفوظ رہا ہوگا، اگر آج وہ اس بیماری میں مبتلا نہیں تو کل اس مرحلے سے اُسے گزرنا ضرور ہے۔

ہمارے ایک دوست جو سرکاری ملازم ہیں (اُن کا نام وعدے کے مطابق نہیں لکھ سکتا) کی ڈیڑھ برس قبل 36 برس کی عمر میں بیس سالہ لڑکی سے شادی ہوئی، اس شادی کی ضامن ہمارے دوسرے دوست کی والدہ بنیں یعنی انہوں نے ہی لڑکا اور لڑکی والوں کو ملوایا اور پھر یہ شادی طے ہوئی۔

ابتدائی ایام میں دلہن دلہا بہت خوش تھے، ازدواجی زندگی بھی خوشگوار بسر ہورہی تھی مگر نہ جانے کیوں لڑکی نے دورانِ حمل ہی علیحدگی کا فیصلہ کیا۔ (لڑکی کا نام بھی اہل خانہ کی عزت اور وقار کی وجہ سے نہیں لکھا)

اللہ رب العزت نے پہلے ہی سال میں اُن کی گود ہری کردی اور گھر میں ایک ننھی پری کی آمد ہوئی جس سے حیران کُن طور پر لڑکے کے سسرال والے خوش نہیں تھے جبکہ بچی کا والد بہت خوش تھا۔

بیٹی کی پیدائش کے بعد لڑکی نے سسرال کے بجائے اپنے گھر پر ہی رہنے کا مطالبہ کیا، جس کو لڑکے نے من وعن تسلیم کیا، اس دوران دونوں کے درمیان تلخیاں بھی بڑھ چکی تھیں جو بیٹی کی پیدائش کے بعد بہت زیادہ بڑھ گئیں۔

لڑکی نے اپنے گھر پر ہی رہتے ہوئے علیحدگی کا مطالبہ کیا جس پر لڑکے نے طلاق دینے سے صاف انکار کردیا جس کے بعد لڑکی والے معاملے کو عدالت میں لے گئے اور آج عدالت نے دونوں کو قانونی طور پر علیحدہ ہونے کا فیصلہ سنایا۔

اس فیصلے سے لڑکا بالکل خوش نہیں ہے اس لیے وہ عدالتی فیصلہ سننے کے بعد رونے لگا، باپ نے اپنی بیٹی کو ساتھ رکھنے کی عدالت سے استدعا کی جس پر لڑکی والوں نے فوراً رضا مندی ظاہر کی اور دونوں خاندان ہمیشہ کے لیے علیحدہ ہوگئے۔

لڑکی کا دعویٰ ہے کہ اُس کا شوہر رومانوی ضروریات خواہش کے مطابق پوری نہیں کرتا علاوہ ازیں وہی رسمی گلے شکوے جو عام طور پر خواتین کے ہوتے ہیں۔

اس دوران گھر کے بڑوں نے لڑکی کو سمجھانے کی کوشش کی مثالیں دیں مگر چونکہ عورت فیصلہ کرچکی تھی اس لیے اُس نے مستقبل کا نہیں سوچا اور علیحدگی کے فیصلے پر ڈٹ گئی، شاید اگر لڑکی کے والد حیات ہوتے یا اُس کا کوئی بھائی ہوتا تو مسئلے کا حل دوسرے طریقے سے نکلتا۔

عدالتی فیصلے کے بارے میں مجھے ایک دوست نے مطلع کیا جسے سُن کر شدید دھچکا لگا کیونکہ ایک بیٹی، بہن کا گھر اجڑنا اچھی بات نہیں اور وقت تو کٹ جائے گا مگر ایک ایسا گھر جہاں ننھی پری کی آمد ہوئی وہ اپنی ماں کی ممتا سے محروم رہ جائے گی۔

اس سوچ میں مبتلا تھا کہ میرے دماغ میں ایک اور واقعہ گھومنے لگا جس میں ایک بے گناہ لڑکی پر سنگین الزامات عائد کر کے اُسے سسرال والوں نے طلاق دلوائی حالانکہ وہ لڑکی قرآن پر اپنی پاک دامنی کی قسم کھانے کو تیار تھی مگر مرد کے دماغ میں شک تھا۔

اس بلاگ کے توسط سے صرف ایک چھوٹا سا پیغام دینا چاہتا ہوں کہ اگر گھروں کو بسانے میں جھوٹ بولنے کی بھی ضرورت پیش آئے تو اس سے اجتناب نہ کریں کیونکہ شریعت بھی اس کی اجازت دیتی ہے۔ ایک گھر کے اجڑنے سے سارا خاندان متاثر ہوتا ہے اور ہم جس معاشرے میں رہ رہے ہیں وہاں کسی بھی چیز پر لگنے والا چھوٹا سا داغ اپنے سگوں کو بھی قابل قبول نہیں ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں