منیر نیازی: خواب میری پناہ ہیں

بس میرا چلتا نہیں جب سختی ایام پر فتح پا سکتا نہیں جب یورشِ آلام پر اپنے ان کے درمیاں دیوار چن لیتا ہوں میں اس جہانِ ظلم پر اک خواب بُن لیتا ہوں میں منیرنیازی کی شاعری مجھے اچھی لگتی ہے۔یہ شاعری ایسی نہیں ہے جسے آپ پڑھتے چلے جائیں اور یہ آپ کو روکنے کی سکت نہ رکھتی ہو۔ اس کی تاثیرمیں اکیلے کردینے والا عجیب بھید چھپا ہے۔ اس راز کو منیرنیازی نے ہرایک پرنہیں کھولا ۔

Read more

شمس الرحمن فاروقی کی شعری کلیات

’’مجلسِ آفاق میں پروانہ ساں‘‘ شمس الرحمن فاروقی کی شعری کلیات ہے۔ کتنا اچھا نام ہے۔ شاعر پروانہ ہی تو ہوتا ہے جو اپنی ایک ہی دفعہ ملنے والی زندگی کو کسی کے نام کردیتا ہے۔ نہ سُود کی فکر نہ زیاں کی پروا۔ اور وہ پروانہ ہی کیا جس کے پاس شمع سے محبت کی کوئی نشانی نہ ہو ۔ شعر نشانیاں ہی توہوتے ہیں جو آرام سے جلنے والے آئندگاں کے لیے چھوڑ جاتے ہیں۔ اور وہ ہر

Read more

سہیل احمد خان اور ہمارا تہذیبی حافظہ

سہیل احمد خان کا داستانی تنقید کا سفر، داستانوں کی تفہیم کے حوالے سے کسی بنیادی مابعد الطبیعاتی نظام کی تلاش کا سفر ہے۔ اس سفر کی مبادیات اور ”راہ کی نشانیاں“ جاننے سے پہلے مابعد الطبیعات کی اصطلاح کو سمجھنا ضروری ہے۔ سہیل احمد خان نے داستانوں کوجب اپنے مطالعے کا مرکز بنایا تو اس وقت داستانی ادب کی نظری بنیادوں پر تو دو ایک کتابیں لکھی گئی تھیں (میری مراد کلیم الدین احمد کی کتاب اردو زبان اور

Read more

اکبر معصوم کہاں چلا گیا؟

اکبر معصوم چلا گیا۔ کہاں گیا؟ جہاں سب جاتے ہیں۔آج ، آج نہیں تو کل، سب کو جانا ہے۔ بالکل ایسے جیسے ہمارے ساتھ کے لوگ چلے گئے۔ موت کا چرخا بڑا بے رحم ہے۔ یہ زندگی کے دھاگے سے چلتا ہے۔ عجیب کھیل ہے۔ جان بوئیں اور موت کاٹیں۔سو جینا مرنا عجیب نہیں لگتا۔ قیمت اس بات کی پڑتی ہے کہ کوئی جیا تو کیسے جیا۔ جس طرح اکبر معصوم نے جیون گزارا ویسا جینا کم لوگوں کے حصے

Read more

محمد سلیم الرحمٰن کی ”نظمیں“

جدید اردو تنقید کی افقی، عمودی اور حرکی تعبیرات سے تنقیدی اسلوب کی تشکیل تو ہو گئی مگر اس کے تخلیقی مکاشفے کو جو نقصان پہنچا اس سے اردو کے وضاحتی نقاد بے خبر ہیں جو زمانی حدود اور تحریکی روابط کی تلاش میں اچھی خاصی تخلیق کو سپاٹ بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔ ان کے طفیل تو اردو تنقید کی دکان سے وہ کچھ مل رہا ہے جو اس میں ہے ہی نہیں۔ اردو شاعری میں یکساں تنقیدی پیمانے

Read more

کچھ ذکر خاندان تیموریہ کے چراغ آخریں مرزا نظام شاہ لبیب تیموری کا

اُردو شاعری کی روایت نئی نہیں۔ دو چار برس ایک طرف یہ ایک صدی کا قصہ بھی نہیں۔ ہزار سال گزر گئے۔ اس ہزاریے میں اس فن نے کتنی کروٹیں بدلیں۔غزل، مثنوی، قصیدہ، رباعی، شہرا ٓشوب، مرثیہ واسوخت سے ہوتے ہوتے پابند نظم، نظم معری، آزادنظم، نثری نظم اور پتا نہیں کتنی شکلوں میں شعرا نے اظہار کا وسیلہ تلاش کیا۔ اس سفر میں کتنے پیچ اور کتنے پڑاؤ آئے اس کا ہمیں انداز نہیں۔ کتنے نام جو اپنے زمانے

Read more

انجم رومانی اور ”کوئے ملامت“ کی شاعری

یہ دنیا ہے اور ہم سب دنیا دار۔ دنیا اور آسمان جن کے پاٹوں میں جو آیا ثابت نہیں گیا۔ عجب چکرا دینے والا چکر ہے۔  چکی جھونے والے تھک گئے۔  دانے ہیں کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتے۔  ایک کے بعد دوسرا، دوسرے کے بعد تیسرا۔ اس صورتِ حال میں بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اس آپا دھاپی میں بھی اپنے عمل کا حساب رکھنا نہیں بھولتے۔  اپنے آپ کو کوئے ملامت میں رکھتے ہیں۔ 

Read more

ہم نے ظہیر کاشمیری کو کیوں بھلا دیا؟

موسم بدلا، رت گدرائی، اہلِ جنوں بے باک ہوئے فصلِ بہار کے آتے آتے کتنے گریباں چاک ہوئے یہ غزل ظہیر کاشمیری نے لکھی، استاد امانت علی خاں نے گائی اور اہلِ جنوں کی آواز بن گئی۔ وہ اسے گلیوں گلیوں گاتے پھرتے ہیں اور اپنے دل کو ٹھنڈک پہنچاتے رہتے ہیں۔ شاعری کی مدد سے کوانٹم فزکس کی گتھیاں سلجھانے والوں کے لیے تو شاید اس میں کوئی دل چسپی نہ ہو مگر جو لوگ اپنی زندگی کی بنیاد

Read more

ہم نفسوں کی بزم میں

شمیم حنفی سے کون واقف نہیں ہے۔ ہمسایہ ملک کی تہذیبی زندگی کا تصور جن شخصیات کے ذکر کے بغیر مکمل نہیں ہوتا، شمیم حنفی ان میں سے ایک ہیں۔ نقاد، خاکہ نگار، ڈراما نویس، کالم نگار، مترجم، مرتب، ان کی شخصیت کے خاص گوشے ہیں۔ بیسویں صدی کی ادبی حیثیت کی تفہیم اور تاریخ، تہذیب اور تخلیقی تجربے کی مباد یات کو شمیم حنفی کی تحریرں کو پڑھے بغیر سمجھا نہیں جا سکتا۔ ” ہم نفسوں کی بزم میں“

Read more

اک ٹکڑا دھوپ کا اور دوسری کہانیاں

”اک ٹکڑا دھوپ کا اور دوسری کہانیاں“ اسد محمد خاں صاحب کی کہانیوں کا نیا مجموعہ ہے جسے ریڈنگز لاہور کے اشاعتی ادارے ”القا“ پبلی کیشنز نے چھاپا ہے۔ اس سے پہلے اسد صاحب کی پانچ کہانیوں کی کتابوں پر مشتمل مجموعہ ”جو کہانیاں لکھیں“ کے نام سے اکادمی بازیافت، کراچی کی طرف سے 2006ءمیں چھپ چکا ہے۔ کہانیوں کی ان پانچ کتابوں کے نام درج ذیل ہیں:”کھڑکی بھر آسمان“، ”بُرجِ خموشاں“، ”غصے کی نئی فصل“، ”نربدا“اور ”ٹکڑوں میں کہی

Read more

گمشدہ چیزوں کے درمیان

’’گمشدہ چیزوں کے درمیان‘‘ محمد سلیم الرحمٰن کے عالمی ادب سے انتخاب کردہ افسانوں کا مجموعہ ہے جو تراجم کی صورت میں ’’آج کی کتابیں‘‘ کے زیرِ اہتمام کراچی سے چھپا ہے۔ ترجمہ کسی بھی زبان و ادب کی ثروت مندی میں فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔ اس کا اندازہ آپ اُس زبان میں کیے جانے والے تراجم کی اہمیت اور کیفیت سے لگا سکتے ہیں۔ اس خیال کا اطلاق اردو زبان میں کیے جانے والے تراجم پر کیا

Read more

کہاں سے لاؤں انھیں

اردو ادب میں، عام طور پر یادنگاری کے دو طریقے رائج ہیں۔ ایک انداز سوانح عمری لکھنے کا ہے جب کہ دوسری طرز خاکہ نگاری کی ہے۔ دونوں عوامل میں تحدید اور اختیار کے اپنے اپنے ضابطے ہیں۔ ان آسائشات اور مشکلات کے اعتبار سے سوانح نویسی اور خاکہ نگاری کا مطالعہ کیا جائے تو خاکہ لکھنا، سوانح عمری لکھنے سے زیادہ مشکل کام ہے۔ سوانح عمری لکھنے میں ایک سہولت لکھنے والے کے پاس ہوتی ہے کہ وہ جس

Read more

شیکسپیئر کے بعد ہنرک ابسن

ادبیاتِ عالم میں کسی بھی تخلیق کار کی فکری استقامت اور فنی چابک دستی کو جاننے کے لیے جہاں اور بہت سے معیارات ہیں وہاں ایک پیمانہ وقت بھی ہے۔ ایک عہد میں سارے لکھنے والے اپنی اپنی ہنرمندیاں دکھا رہے ہوتے ہیں مگر زمانہ جب اپنی سان پر چڑھتا ہے تو موسمی لکھاری خود بخود فراموش ہو جاتے ہیں لیکن جن ادیبوں کے دل میں معاشرت سانس لیتی ہے اور وہ لوگوں کے لیے روشنیاں بکھیرتے ہیں، انھیں اپنے

Read more

سلیم شاہد کی شعری کلیات: زرِ رہگزر

’’زرِ رہگزر‘‘ سلیم شاہد کے شعری کلیات کا نام ہے۔ زر سے شروع، زر پر ختم اور درمیان میں رہ۔ سیاق اور سباق کی یہ عجوبگی سلیم شاہد کی ساری شاعری میں موجود ہے۔ شاعر نے زندگی کرنے کے لیے شاعری کو چنا اور پھر جیون بھر اپنے شوق کے ساتھ رہا۔ اس کلام نے بیسویں صدی کے ساتویں اور آٹھویں عشرے میں اپنا چہرہ دکھایا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب نئے ملک کو وجود میں آئے چند عشرے ہی

Read more

شیکسپیئر کا حریف …. بین جانسن

شیکسپیئر کے حالاتِ زندگی بہت کم معلوم ہیں۔ تاہم اس بات پر عام طور پر اتفاق پایا جاتا ہے کہ وہ زیادہ پڑھا لکھا آدمی نہ تھا۔ اس کے دور میں لاطینی کو علمی زبان کی حیثیت حاصل تھی۔ لیکن اسے لاطینی کی یونہی سی شدبد ہو گی۔ البتہ اس کے ڈراموں کے منابع کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ انگریزی میں ہونے والے ترجموں کو شوق اور غور سے پڑھتا تھا۔ ہم اسے عالم فاضل نہیں کہہ سکتے

Read more

ایک قدیم ہسپانوی ناول – چلتا پرزہ

اُردو ترجمے کی روایت میں محمد سلیم الرحمن کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ اُن کا شمار اُردو کے ان معدودے چند مترجمین میں ہوتا ہے جن کے کیے ہوئے تراجم عزت کی نظر سے دیکھے جاتے ہیں۔ فورٹ ولیم کالج، دہلی کالج، انجمن ترقی اُردو سے لے کر آج تک صاحبان فن مترجمین کی فہرست حیرت انگیز حد تک مختصر ہے، مولوی عنایت اللہ دہلوی، ظ انصاری، مولانا ظفرعلی خاں، ابن انشا، محمد حسن عسکری، شاہد حمید، محمد سلیم الرحمن، محمد عمر میمن۔ ایسا نہیں کہ اردو میں یہی مترجم موجود ہیں۔ مترجمین کی فہرست لا متناہی ہے مگر جن ترجموں پر صاد کیا جاسکتا ہے، وہ ترجمے انہی مترجمین سے مخصوص ہیں۔

Read more

ایک دن کی زندگی

”ایک دن کی زندگی“ آزاد مہدی کا چوتھا ناول ہے۔  اس سے پہلے وہ ”میرے لوگ“،  ”دلال“ اور ”اس مسافر خانے میں“ کے ساتھ اردو ناول کی دنیا میں اپنی آمد کا اعلان کر چکا ہے۔  آزاد مہدی ناول لکھنے والوں کے قبیلے کا وہ خوش نصیب فرد ہے جس کے دو یا دو سے زیادہ ناول چھپ چکے ہیں۔  چار ناول لکھنا تو دور، خالی پڑھنا مشکل ہوتا ہے کیوں، وجہ یہ ہے کہ محنت لگتی ہے۔  خون خرچ

Read more

عالم کِسو حکیم کا باندھا طلسم ہے

طلسمِ گوہربار پڑھتے ہوئے میر کا یہ مصرع بار بار یاد آتا رہا۔ پتا نہیں یہ شعر منیر شکوہ آبادی کی نظر سے گزر ا ہوگا یا نہیں۔  ذیل میں قطعیت سے کچھ نہیں کہا جا سکتا البتہ اتنا کہا جا سکتا ہے کہ طلسمِ گوہر بار اس مصرع کی مجسم تصویر ہے۔  ہوتا یوں ہے کہ بعض اشعار زمانی اور زمینی حدود سے ماورا ہو کر بعض کیفیات کے بیان کے لیے مخصوص ہو جاتے ہیں۔  یہی تخصّص ہمیں

Read more

محمود درویش: گم شدہ وطن کی یاد میں!

فلسطینیوں کی ابتلا اور جدوجہد اور محمود درویش کا نام اور کلام اب لازم و ملزوم ہو کر رہ گئے ہیں۔ محمود درویش کی شاعری صرف غم اور احتجاج تک محدود نہیں۔ اس میں جلاوطنی روداد، وطنِ مالوف کی بربادی، غاصبوں کی تعدی، ناتمام محبتیں، اشتیاق، فراق اور زندگی کی چھوٹی چھوٹی خوشیاں سبھی شامل ہیں۔ ان سب میں مل کر ایک بڑا کینوس ترتیب دیا ہے جس کا چپہ چپہ جاذبِ نظر ہے۔ لسطینی ادب میں محمود درویش کی

Read more

کرنوں کی میزبانی: ثروت حسین کی شاعری

ثروت حسین مختلف شاعر ہے۔ ہمارے ہاں مختلف ہونا عام طور پر متضاد ہونا سمجھا جاتا ہے۔ لیکن مختلف، متضاد کا مترادف ہرگز نہیں۔ ہم جب مختلف کلام پر غور نہیں کرتے تو اُسے مشکل کَہ کر ایک طرف رکھ دیتے ہیں کیوں کہ وہ کلام قرأت میں ہم سے محنت کا تقاضا کر رہا ہوتا ہے۔ جب اُس کے مطلوبہ ہم گزاری نہیں کی جاتی تو قاری اُس نرول جذباتی احساس سے اپنے دامن کو بھر نہیں سکتا اور

Read more

جندر: اختر رضا سلیمی کا نیا ناول

اختر رضا سلیمی کا دوسرا ناول ہے۔ اس سے پہلے وہ "جاگے ہیں خواب میں” کی صورت میں اُردو ناول کی دنیا میں اپنی آمد کا اعلان کر چکا ہے۔ پہلا ناول تجرباتی ناول تھا جس میں سلیمی نے بہت سے تصورات لے کر ان کو مہارت کے ساتھ ایک بیانیے میں پرو دیا۔ زمان، مکان، ماضی، حال، مستقبل، شعور، لاشعور، اجتماعی لاشعور، تاریخ، لوک روایت غرض ایک ایسی لڑی بنائی جس میں پڑھنے والے کے لیے بہت کچھ تھا۔

Read more

دکھیارے: انیس اشفاق نے لکھا ہے

”دکھیارے“ انیس اشفاق کا ناول ہے۔ یہ منظر اور ماحول کی کہانی ہے۔ دونوں کا المیہ اور طربیہ ایک ہی ہے۔ دونوں کو ثبات نہیں۔ کچھ روحیں اس تبدیلی کو سہار لیتی ہیں مگر بعض کے لیے یہ تبدیلی سینے میں انی کی طرح پیوست ہو جاتی ہے۔ ناول کا راوی چھوٹا بھائی ہے جس کے لیے اپنے بڑے بھائی کی زندگی سے متعلق بے فکری پریشانی کا باعث بنتی ہے۔ وہ بہتا پانی رمتا جوگی ہے اپنی موج میں

Read more

باقی صدیقی اور زخمِ بہار

زخمِ بہار باقی صدیقی کی غزلوں کا مجموعہ ہے۔ اس شاعری کا تذکرہ اردو غزل کی روایت میں کم ملتا ہے۔ اگر کوئی ذکر کہیں آتا بھی ہے تو حاشیے تک محدود ہے۔ ایسا کیوں ہے۔ ہمارے ہاں شاعری کے معاملے میں تعینِ قدر کا معاملہ بڑا حساس ہے۔ لوگ پہلے پہل کسی کی تعریف کرتے ہوئے جھجھک محسوس کرتے ہیں۔ یہ ڈر رہتا ہے کہ جو خصائص ہم اس شاعر میں بتائیں گے اگر دوسرے ان سے متفق نہ

Read more

زبیر رضوی کی آپ بیتی: گردش پا

آپ بیتی چاہے جس ڈھب سے لکھی جائے. اس میں ہر پڑھنے والے کے لیے کچھ نہ کچھ ضرور ہوتا ہے۔ بعض کے لیے کم بعض کے لیے زیادہ۔ وجہ یہ ہے کہ دوسروں کے بارے میں جاننے کا تجسس ہماری سرشت کاحصہ ہوتا ہے۔ ہم آپ بیتیاں پڑھ کر اپنے اندر کی ضرورتوں کو پورا کر رہے ہوتے ہیں۔ ہر لکھاری کی زندگی میں ایسے واقعات موجود ہوتے ہیں جو کسی نہ کسی قاری کی زندگی سے مشابہت رکھتے

Read more

ناصر کاظمی: ہجر کی رات کا ستارہ

  ناصر کاظمی کے بارے میں کم لکھا گیا ہے۔ یہ کمی کمیت کے اعتبار سے بھلے نہ ہو مگر کیفیت کے حوالے سے ضرور ہے۔ اس کی وجہ ہے۔ یہ شاعر ان شاعروں میں سے ہرگز نہیں جن کو پڑھنے کے بعد ان کا خلاصہ لکھا جا سکتا ہو۔ شاعری کے ادوار گنوائے جا سکتے ہوں۔ کلاسیکیت یا جدیدیت کا کوئی تمغہ دیا جا سکتا ہو۔ ناصر ان سب سے مختلف ہے۔ ناصر کی قبیل کے اور شاعروں پر

Read more

احمد مشتاق کی غزل: ابھی اک جھنڈ سے پانی کی صدا آتی ہے

غزل لکھنا اور غزل کے بارے میں لکھنا دونوں مشکل کام ہیں۔ پہلی اوکڑ تویہ ہے کہ اس صنف کے شاعر کے پیچھے غزل کی ہزار سال کی شاندار روایت کھڑی ہے۔ وہ اس سے بچ بچا کر اپنے لیے اظہار کا سلیقہ کیسے نکال سکتا ہے۔ دو ہی راستے اس کے لیے بچتے ہیں۔ یا تو روایت میں اظہار و بیاں کے سلیقوں کی جگالی کرلے یا پھر اپنے لیے نیا راستہ اختیار کرلے جو بہرحال خطرات سے پر

Read more