موہن جو دڑو کا موہن کیا کہتا ہے؟


ثقافتی سرکار کے سائیں نے میٹنگ میں موجود ادباء، شعراء اور ماہرین کی طرف دیکھ کر مسکرا کر کہا، “ہم نے موہن جو دوڑ کا رسم الخط پڑھنے کے لیے عالمی ورکشاپ منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔”

میٹنگ میں موجود تمام ادباء، شعراء اور ماہرین نے تالیاں بجا کر اور واہ واہ کے نعرے لگا کر ثقافت والے سائیں کو داد دی۔

ثقافت والے سائیں تالیوں کی گونج اور واہ واہ کے نعروں سے بہت خوش ہوئے اور کہا، “ورکشاپ کی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔”

یہ بات سن کر تمام ادباء، شعراء اور ماہرین کے چہرے اتر گئے۔ ان کے اترے ہوئے چہرے دیکھ کر ثقافت والے سائیں نے مسکراتے ہوئے کہا، “تاریخ کا اعلان جلد کیا جائے گا اور آپ سب کو ورکشاپ میں شریک ہونے کا مناسب معاوضہ ادا کیا جائے گا۔ آج کے اس اجلاس میں آنے کی اجرت تو آپ آج ہی ادا کی جائے گی۔”

یہ بات سن کر تمام ادباء، شعراء اور ماہرین خوشی کی تمام حدود پار کر گئے۔

میٹنگ میں موجود تمام ادباء، شعراء اور ماہرین، ثقافت والے سائیں کو مشورے دینے میں ایک دوسرے سے بازی لینے کی کوشش کرتے رہے۔ اگر کسی ادیب، شاعر یا ماہر کا مشورہ ثقافت والے سائیں کو پسند نہ آیا تو، اس ادیب، شاعر یا ماہر نے فوری طور پر خود ہی اپنے مشورے کو رد کر دیا اور ثقافت والے سائیں کے سنہری خیالات سے متفق ہو گیا۔

میں اس سارے ہنگامہ میں خاموش تماشائی کی طرح بیٹھا تھا کہ ثقافت والے سائیں کی نظر مجھ پر پڑ گئی۔ انہوں نے مجھے گھورتے ہوئے کہا، “تم بدیسی سیاحوں کے سامنے تو بہت بڑ مارتے ہو، یہاں تمہیں کیوں سانپ سونگھ گیا ہے!؟”

میں نے عرض کیا، “سرکار، جان کی امان پاؤں تو کچھ عرض کرنے کی جرات کروں!”

ثقافت والے سائیں نے پہلے بہت غور سے میری طرف دیکھا تو میری سانس رک گئی لیکن پھر انہوں نے مسکراتے ہوئے اثبات سے سر ہلایا تو میں نے ہمت کرکے کہا، “حضور، یہاں موجود یا کروڑوں روپے خرچ کر کے دیگر ممالک سے درآمد کئے جانے والے ماہرین میں سے، کوئی بھی موہن جو دوڑ کا رسم الخط نہیں پڑھ سکے گا۔ جو ماہرین جدید ریسرچ لیبارٹریز میں بیٹھ کر موہن جو دوڑ کا رسم الخط نہیں پڑھ سکے، وہ قدیم مقام پر منعقد کی گئی ورکشاپ میں بیٹھ کر صرف باتوں کے بند باندھیں گے۔ حاصل کچھ بھی نہیں ہوگا!”

میٹنگ میں موجود تمام ادباء، شعراء اور ماہرین نے غصے سے میری طرف دیکھا۔

ثقافت والے سائیں کچھ دیر طنزیہ انداز سے مسکراکر میری طرف دیکھتے رہے اور پھر فرمایا، “تو کیا دنیا میں ایسا کوئی ماہر موجود نہیں، جو ہمیں موہن جو دڑو کا رسم الخط پڑھ کر بتائے!؟”

میں نے عرض کیا، “صرف ایک ہی ایسا شخص ہے، جو موہن جو دوڑ کا رسم الخط پڑھ سکتا ہے۔”

میٹنگ میں موجود تمام ادباء، شعراء اور ماہرین نے ایک بار پھر سخت غصے سے میری طرف دیکھا لیکن ثقافت والے سائیں کے سامنے سب خاموش رہے۔

سائیں نے کچھ لمحے غور سے میری طرف دیکھا اور پھر کہا، “کہاں ملے گا وہ شخص اور کون لے کر آئے گا اسے؟”

میں نے کہا، “وہ شخص موہن جو دوڑ پر ملے گا اور اسے صرف میں ہی بلا کر لا سکتا ہوں۔”

میٹنگ میں موجود تمام ادباء، شعراء اور ماہرین نے تیسری مرتبہ میری جانب غصہ سے دیکھا۔

سائیں سوچ میں پڑ گئے۔

میں نے کہا، “اس کے لئے مجھے رات کے آخری پہر میں اکیلے موہن جو دڑو جانا پڑے گا۔ اگر اجازت ملے تو میں اس شخص کو لے کر آئوں گا۔”

میٹنگ میں موجود تمام ادباء، شعراء اور ماہرین نے پھر میری طرف شدید غصہ سے دیکھا لیکن ثقافت والے سائیں کے سامنے سب خاموش رہے۔

سائیں نے کچھ سوچ کر کہا، “سوچ لو، اگر تم اس شخص کو لانے میں ناکام رہے تو تمہیں سخت سزا دی جائے گی۔”

میں نے ادب سے عرض کیا، “حضور، مجھ پر بھروسہ کریں، میں اس شخص کو ضرور لے کر آئوں گا۔”

ثقافت والے سائیں نے مجھے اجازت دے کر میٹنگ برخاست کردی اور اٹھ کر چلے گئے۔ وہاں موجود تمام ادباء، شعراء اور ماہرین نے، میٹنگ میں شرکت کا معاوضہ وصول کرنے کے لئے سرکاری خزانچی کو گھیر لیا اور مجھے وہاں سے جان بچا کر نکلے کا موقع مل گیا۔

جیسا کہ مجھے ثقافت والے سائیں کی سزا سے بھی خود کو بچانا تھا، اس لئے میں موہن جو دڑو پہنچ کر رات کے آخری پہر گلیوں میں چلا گیا۔

ایک کھنڈر میں پہنچ کر میں نے اپنے دوست موہن کو پکارا۔ کچھ ہی دیر کے اندر کھنڈر کی دیوار کا ایک حصہ کسی دروازے کی طرح کھلا اور موہن جو دڑو کا شخص، میرا دوست موہن وقت کی سیمائوں کو پار کر کے، باہر آ کر میرے سامنے آ کھڑا ہوا۔

میں نے اسے ثقافت والے سائیں کے ساتھ میٹنگ کے بارے میں بتایا اور اس کہا کہ، “دیسی اور پردیسی ادباء، شعراء اور ماہرین، موہن جو دڑو کا رسم الخط پڑھنے کے لیےخواہ مخواہ وقت برباد کریں گے۔ اس لئے تم ثقافتی سرکار کے ورکشاپ میں شریک ہوکر، موہن جو دڑو سے ملنے والی مہروں پر لکھا ہوا رسم الخط پڑھ کر یہ گتھی سلجھا دو۔”

موہن کے سنجیدہ چہرے پر دکھ اور غصے کی لہر چھا گئی۔

اس نے کہا، “وہ مہریں تو میوزیم سے چوری ہوگئی تھیں، جن کو تمہاری سرکار اب تک برآمد نہیں کروا سکی ہے۔ میں کاہے سے رسم الخط پڑھ کر بتا سکوں گا۔۔۔!”

میں نے کہا، “ہماری ثقافتی سرکار کے پاس ان مہروں کی نقول اور تصاویر موجود ہیں۔”

موہن نے لمبی سانس لے کر کہا، “پہلے تمہاری سرکار ان اصلی مہروں کو چوروں سے برآمد کروائے، اس کے بعد ان کا رسم الخط پڑھنے کے پروگرام کروائے۔۔۔!”

یہ کہہ کر موہن پیچھے پلٹا اور دروازے کی طرح کھلی ہوئی کھنڈر کی دیوار کے پاس جا کر، سیڑھیاں اتر کر موہن جو دڑو میں نیچے اتر گیا۔۔۔!

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں