نیو جرسی اور پرانی قمیص

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ سترہ سال پہلے موسم خزاں کی ایک اداس شام تھی۔ زمان پارک لاہور کے ایک گھر میں ویرانی کا ڈیرہ تھا۔ ڈرائنگ روم میں تین افراد سر جھکائے سوچوں میں گم تھے۔ ان میں سے ایک وجیہہ و شکیل شخص نے گردن اٹھائی اور یوں گویا ہوا، ”سب کچھ ختم ہوگیا۔ نہ خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم۔ جب تک میں زندہ ہوں تب تک تو یہ کام چلتا رہے گا لیکن اس کے بعد کیا ہوگا؟ کون اس کام کو چلائے گا؟ کیسے چلائے گا؟ کیا میری محنت اور جدوجہد میری زندگی کے ساتھ ہی ختم ہوجائے گی؟ کچھ سمجھ میں نہیں آرہا۔ “

یہ ہینڈسم شخص عمران خان تھا۔ مشرف کے الیکشن میں وہی چہرے دوبارہ جیت گئے تھے جن کے خلاف وہ جدوجہد کرتا رہا۔ جمائما کے ساتھ عائلی زندگی بھی اسی سیاست کی وجہ سے مسائل کا شکار تھی۔ وہ بچوں کو لے کر لندن جا چکی تھی۔ عمران کی زندگی کا مقصد کینسر اسپتال تھا جس کے لئے وہ دن رات محنت کرتا تھا۔ عطیات اکٹھے کرتا تھا۔ اس کی کرشماتی شخصیت کی وجہ سے کبھی فنڈز کی کمی کا مسئلہ نہیں ہوا۔ لیکن موسم خزاں کی اس اداس شام میں شاید کپتان ہمت ہار چکا تھا۔ سیاسی اور عائلی زندگی بظاہر ختم ہوچکی تھی اور اسے لگ رہا تھا کہ اس کی زندگی کے ساتھ ہی کینسر اسپتال بھی ختم ہوجائے گا۔

عمران کے دائیں طرف کرسی پر بیٹھے ایک مدبرّ نظر آنے والے شخص نے اس کا کندھا تھپتھپایا اور کہا کہ فکر مت کرو۔ ہم کینسر اسپتال کے لئے ایسا بندوبست کریں گے کہ تا قیامت یہ منصوبہ چلتا رہے گا اور پھلتا پھولتا رہے گا۔ یہ شخص نعیم الحق تھا۔ عمران کے ہر اچھے برے وقت کا ساتھی اور جان نچھاور کرنے والا دوست۔ عمران نے حیرانی سے اس کی جانب دیکھا اور استفسار کیا کہ ایسا کیسے ممکن ہے؟ نعیم الحق نے کہا کہ اس میں کوئی مشکل نہیں۔ ہم امریکہ، یورپ اور مشرق وسطی سے کثیر فنڈز اکٹھا کرتے ہیں اور انہی سے اسپتال کا نظم ونسق چلتا ہے۔ غریبوں اور مسکینوں کا مفت علاج ہوتا ہے۔ تمہاری یہ بات درست ہے کہ تمہارے بعد فنڈز اکٹھا کرنا بہت مشکل ہوگا۔ پاکستان میں شاید ہی لوگوں کو کسی ایک شخص پر اتنا اعتبار ہو۔ عمران نے اس کی بات کاٹی اور جھلاّ کر کہا کہ یہ باتیں ہوچکی ہیں، یہ بتاؤ کہ ایسا کیسے ممکن ہے؟

نعیم الحق زیرِ لب مسکرایا اور عمران کی طرف محبت بھری نظروں سے دیکھ کر بولا کہ آج سے بیرون ملک جتنے فنڈز اکٹھے ہوں گے ان کا پچاس فیصد ہم الگ رکھیں گے۔ یہ بات سنتے ہی عمران کے چہرے کا رنگ سرخ ہوگیا، اس نے بے چین ہو کر پہلو بدلا اور کہا، نعیم۔ یہ ممکن نہیں ہے۔ یہ پیسہ ہمارے پاس غریبوں اور مسکینوں کی امانت ہے۔ ہم اس میں کیسے خیانت کرسکتے ہیں؟ تمہارے ذہن میں ایسا خیال بھی کیسے آیا؟ مجھے بہت افسوس ہوا۔ آج سے تمہارے اور میرے رستے جدا ہیں۔ نکل جاؤ اس گھر سے اور دوبارہ کبھی مجھے اپنی شکل نہ دکھانا۔ میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ تم اتنی گھٹیا اور نیچ سوچ کے مالک ہو۔ میں شرمندہ ہوں کہ تمہیں اپنا دوست سمجھتا رہا۔ عمران کی آواز بھرّا چکی تھی اور اس کی آنکھوں میں ستارے چمکنے لگے تھے۔

نعیم اپنی کرسی سے اٹھا اور روتا ہوا عمران سے لپٹ گیا۔ کہنے لگا کہ یار تو نے ایسا سوچا بھی کیسے۔ میری بات تو پوری ہونے دیتا۔ میں تمہارے لئے اپنی جان بھی دے سکتا ہوں۔ تمہیں چھوڑنے کا تصور میرے لئے موت سے بھی زیادہ بھیانک ہے۔

اس موقع پر ڈرائنگ روم میں موجود تیسرے فرد نے جو خاتون تھی، نے مداخلت کرتے ہوئے دونوں کو تسلی دی اور نعیم کو کہا کہ اپنی بات مکمل کرے۔ نعیم نے جیکٹ کی جیب سے رومال نکا ل کر آنسو پوچھے اور یوں گویا ہوا، ”ہم ان آدھے فنڈز سے مہنگے اور پوش علاقوں میں پراپرٹیز خریدیں گے۔ ان کو کرائے پر دیں گے۔ وقت کے ساتھ ساتھ ان کی قیمت بھی بڑھتی رہے گی اور کرائے کی مد میں ہر سال اضافہ ہوتا رہے گا۔ پانچ سے دس سال میں ہی اس قابل ہوجائیں گے کہ اگر ہمیں بالکل فنڈز ملنے بند ہوجائیں تب بھی ہم اسپتال کو بہترین طریقے سے چلا سکیں گے۔ یہ درست ہے کہ قواعد و ضوابط کے تحت شاید یہ ٹھیک نہیں ہوگا لیکن ہمارا خدا ہماری نیّت کا شاہد ہے۔ اور ہم خدا کے علاوہ کسی کے سامنے جوابدہ نہیں۔

عمران بغور یہ باتیں سن رہا تھا۔ نعیم نے بات مکمل کی تو عمران کے چہرے پر چمک نظر آرہی تھی۔ اس نے نعیم کی کمر تھپتھپا کر ویل ڈن کہا اور پوچھا کہ یہ پراپرٹیز ہم کس کے نام پر خریدیں گے۔ میرے نام پر خریدنا تو ممکن نہیں ہوگا۔ کوئی نہ کوئی حاسد اس کا کھوج لگا کے مجھے اور اسپتال کو بدنام کرے گا کہ یہ لوگ عطیات اور زکوٰۃ کے پیسوں سے اپنی جائیدادیں بنار ہے ہیں۔ نعیم نے متانت سے سر ہلایا اور خاتون کی طرف دیکھ کر کہا کہ ہم ساری پراپرٹیز علیمہ باجی کے نام پر خریدیں گے۔ کسی اور کے نام پر خریدنا رسک ہوگا۔ کسی کی بھی نیّت خراب ہوسکتی ہے۔ علیمہ خانم جنہوں نے بچپن سے لے کر آج تک عمران کو اپنے بھائی کی بجائے بیٹے کی طرح پالا تھا۔ آج پھر بھائی کے خوابوں کو پورا کرنے کے لئے کمر بستہ تھیں۔ قربانی، محبّت اور ایثار کی یہ داستان افسانوی لگتی ہے۔

یہ صادق اور امین لوگوں کا قصّہ ہے جسے کچھ فاسق اور لعین غلط رنگ دے رہے ہیں۔ خدا ان کو غارت کرے۔

(نوٹ: ضرورت سے زیادہ عقل مند افراد کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ یہ ایک طنزیہ تحریر ہے۔ اپنے بزعم خود سنجیدہ سیاسی بیانات میں اسے حوالے اور دلیل کے طور پر برتنے سے گریز کیا جائے۔)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جعفر حسین

جعفر حسین ایک معروف طنز نگار ہیں۔ وہ کالم نگاروں کی پیروڈی کرنے میں خاص ملکہ رکھتے ہیں۔

jafar-hussain has 79 posts and counting.See all posts by jafar-hussain