رسولﷺ کے عفو و درگزر کے واقعات کی نفی کرنے کے در پردہ کیا مقاصد ہو سکتے ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عفو و در گزر، اعلیٰ ظرفی، بلند اخلاقی اور وسیع انظری کی عملی مثال کے لیے ہمارے ذہنوں میں وہ سارے واقعات ازبر ہیں، جو میرے نبی ﷺکی زندگی میں پیش آئے۔ مکہ میں جب میرے نبی نے انقلابی تعلیم کا آغاز کیا تو ان کے بلند اخلاق سے متاثر عزیز اقرباء ان کے ساتھ شامل ہو گئے۔ حضرت ابو طالب جو قریش کے سردار تھے انہوں نے بھی آپ کی حمایت جاری رکھی۔ اور آپ ﷺ کی شکایت کرنے والوں کو صاف جواب دے دیا کہ کچھ ہو جا ئے اپنے بھتیجے کے مشن کی راہ میں حائل نہیں ہوں گے۔

آپ ﷺ کفار کے ظلم و بر بریت کے فرسودہ نظام کو رد کر چکے تھے۔ دوسری طرف انتہا پسند روایتی پجاریوں کو قدیم دیوتاؤں کے بارے میں حقیقت پسندانہ باتیں اتنی ناگوار گزریں کہ وہ یہ جانتے ہوئے کہ آپ ﷺ حق پر ہیں، جانی دشمن ہو گئے اور طرح طرح کی ایذا رسانی کو اپنا شعار بنا لیا۔ ایک بڑھیا جو آپ ﷺ پر روزانہ کوڑا پھینکا کرتی، ایک روز جو ناغہ ہوا تو آپ ﷺ کو تشویش ہوئی اور آپ اس کی خیریت دریافت کرنے اس کے گھر چلے گئے۔

وہ عورت اس حسنِ سلوک سے متاثر ہو کر سچائی پر ایمان لے آئی۔ اسی طرح اوباش نوجوانوں کا واقعہ بھی آپ ﷺ کے ماننے والوں کو کیوں نہ یا د ہو گا، کہ تب بھی میرے نبی نے انہیں راہِ ہدایت کی دعا فرمائی۔ یہ اور فتح مکہ کے بعد اپنے جانی دشمنوں کے لیے عام معافی کا اعلان وہ امثال ہیں جو ہم اپنے بچوں اور شاگردوں کو دیتے ہیں۔

کسی بھی عظیم رہنما کی زندگی میں عفو و درگزر کی یہ، ایسی عملی مثالیں ہیں، جنہیں مشعلِ راہ بنا کر اپنی اور دوسروں کی زندگی کو روشن کیا جا سکتا ہے۔

تحقیق اور جستجو، علم کا بنیا دی عنصر ہے۔ مگر اس میں سوچ بچار اور غور و فکر بھی ضروری ہے۔ وہ غور و فکر جس کا اکتشاف میرے نبی نے کیا، وہ اکتشاف، جس کے نتیجے میں 399 قبلِ مسیح میں سقراط نے پرانے دیو تاؤں سے بیزاری کا اظہار کیا۔

عظیم رہنماؤں کی زندگی کے واقعات بھی عظیم ہوتے ہیں۔ یہ رہنما ہم پر اس طرح منکشف ہو تے ہیں جس طرح ہم انہیں دیکھنا چا ہتے ہیں۔ ان عظیم ہستیوں میں ہمت حوصلہ صبر و استقامت ایسی مثالی ہوتی ہے جس کی نظیر کم ہی ملا کرتی ہے۔

ایک سال قبل میری سہیلی نے بتا یا کہ ایک درس دینے والی خاتون اس واقعے کو جھوٹا قرار دے دیا جس میں حضرت علی، اپنے دشمن کو اس کے کریہہ اور اہانت آمیز سلوک کے با وجود معاف کر دیتے ہیں۔ کل ہی کی بات ہے میری بھانجی اسکول سے آئی تو اس نے بتا یا کہ اسلامیات کے ٹیچر نے رسول پر کوڑا پھینکنے والے واقعے کو غلط قرار دیا ہے، اور ٹیکسٹ بک بورڈ کو بھی مطلع کیا جا ئے گا کہ اس طرح کے واقعات کو درسی کتابوں میں شامل نہ کیا جائے اور یہ کہ وہ ایک آ گاہی مہم شروع کرنے والے ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں