ڈاکٹر شاہد مسعود اور میڈیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارے بچپن میں اکثر بازاروں میں لوگ سانڈے کا تیل فروخت کرتے تھے۔ بلا کے چرب زبان ہوتے تھے اور دائرے میں موجود ہر عمر کے لوگوں کی نفسیات سے کھیلنے کے ہنر سے واقف ہوتے تھے۔ یہ لوگ آخر میں کامیابی کے ساتھ چھوٹی چھوٹی شیشوں میں موجود تیل فروخت کر جاتے تھے۔ گاڑیوں میں مسافروں کو رقت بھرے لہجے میں المناک داستان سنا کر رقم مانگنے والے اور چٹکی بھر منجن سے دانتوں کو شیشے کی طرح چمکانے کا عملی مظاہرہ کرنے والے سب ایک جیسے ہیں۔

سٹیج پر امان اللہ، عمر شریف اور ان جیسے بے شمار کرداروں کو قدرت کی طرف سے بولنے کی صلاحیت ملی ہے جس سے کام لیتے ہوئے یہ دیکھنے اور سننے والوں کے دل و دماغ پر دسترس حاصل کر لیتے ہیں۔ صحافت ایک مختلف چیز ہے یہاں ایکٹر کی نہیں سچ بولنے والے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ڈاکٹر شاہد مسعود کو ہم سانڈے کا تیل فروخت کرنے والا سمجھ سکتے ہیں صحافی ہر گز نہیں کہہ سکتے۔

روف کلاسرا ایک جنوئین صحافی ہے مجھے شدید دکھ ہے وہ کس طرح ڈاکٹر شاہد مسعود ایسے ایکٹر کی ہتھکڑی لگی تصویر کا نوحہ پڑھ سکتا ہے۔ روف کلاسرا نے نہ جانے کتنے پبلک اکاونٹس کمیٹی کے اجلاس کور کیے ہیں۔ نہ جانے کتنے دفاتر کی خاک چھانی ہے نہ جانے سورس سے خبر کے حصول کے لئے کتنے پاپڑ بیلے ہوں گے۔

کیا ڈاکٹر شاہد مسعود کو پتہ ہے خبر کیسے کہتے ہیں اور یہ کیسے ملتی ہے۔ کوئی عملی صحافی ڈاکٹر شاہد مسعود کو اپنی صفوں میں شامل نہیں کر سکتا۔ ہم کیسے کسی مجمع باز کو صحافی کہیں جس کا ایک ہی وصف ہے مخصوص مقاصد کے لئے کہیں سے دی گئی ڈس انفارمیشن کو قدرتی چرب زبانی سے عوام کو گمراہ کرے۔

صحافیوں سے بھی غلطی ہوتی ہے وہ بھی انجانے میں استعمال ہو جاتے ہیں لیکن جو صحافی ہو ہی نہ اور اس مقدس پیشے کو مال پانی اور شہرت کے لئے استمال کرے ہم نہیں سمجھتے اس کے لئے ہمدردی کا اظہار کیا جانا چاہے۔

میری رائے میں یہ شخص صحافی نہیں بکاؤ مال ہے۔ آصف علی زرداری نے ایم ڈی پی ٹی وی لگایا اور شیری رحمن نے کرپشن پر فارغ کر دیا یہ ایک بات ہے۔ دوسری بات یہ ہے فارغ ہونے کے بعد اسی آصف علی زرداری کے متعلق جیو ٹی وی پر اس قدر جھوٹ بولے وہ پروگرام یو ٹیوب پر موجود ہیں دیکھ لیں ابکائی آتی ہے۔ کبھی زرداری کے خاندان سمیت فرار کے لئے جہاز ائر پورٹ پر پہنچ گیا۔ کبھی مارگلہ کے پہاڑ پر گرنے والے مسافر طیارے کو ایوان صدر کی چھت پر موجود طیارہ شکن گن سے گرانے کی شرلی اور کبھی اسے کہنا دسمبر آ رہا ہے یعنی یہ مداری کسی کے اشارے پر دسمبر میں زرداری کی حکومت ختم کر رہا تھا۔

ہماری فیلڈ کا یہ المیہ ہے یہاں تھڑے باز اینکرز بن گئے ہیں۔ ایک روز قبل سپریم کورٹ میں ایک اینکرنی سے پیپرا کا مخفف پوچھا گیا اسے پتہ نہیں تھا۔ زینب قتل کیس میں جس طرح بعض اراکین پارلیمنٹ کی زیرنگرانی ننگی فلموں کا ریکٹ چلانے کا دعوی کیا۔ جس طرح جعلی بینک ٹرانزکشن کے انکشافات کیے اور جس طرح بے شرموں کی طرح عدالت میں معافی مانگ لی کیسے اس شخص کی حمایت کی جا سکتی ہے اور اس کو صحافی کہا جا سکتا ہے۔ جو عملی صحافت خود روف کلاسرا نے کی ہے یہ مداری تو اس کے قریب بھی نہیں پہنچ سکتا۔

روف کلاسرا محنتی رپورٹر ہے اور بنیادی طور پر اینکر نہیں بلکہ رپورٹر ہی ہے۔ ایف آئی اے کی اتنی رپورٹیں بریک کی اپنے ذرائع سے ایک رپورٹ اس اسکینڈل کی بھی حاصل کر لے کس طرح نوزائیدہ کمپنی کو حقوق دیے گئے اور تینوں شراکت داروں نے پیسے آپس میں تقسیم کر لئے۔ دو ملزمان نے پیسے واپس کر دیے ہیں اور ضمانت حاصل کر لی ہے تیسرا حصہ ڈاکٹر شاہد مسعود کے پاس ہے واپس کر دے اور ضمانت حاصل کر لے۔

ڈاکٹر شاہد مسعود میڈیا میں آنے والا مولوی خادم حسین ہے۔ اس کو استمال کیا جا چکا ہے اور سپریم کورٹ میں اپنے جھوٹ کی معافی کے بعد یہ بے حثیت اور بیکار ہو چکا ہے بالکل اس طرح جس طرح مولوی خادم حسین بیکار ہو چکا۔ ڈاکٹر شاہد مسعود کسی کے قہر یا غضب کا نشانہ نہیں بنا صرف فالتو ہوا ہے۔ اس طرح کے پروپیگنڈہ کے لئے استمال ہونے والے لوگ صحافی نہیں بلکہ اس مقدس شعبہ کے نام پر ایک دھبہ ہوتے ہیں۔ قلم کی حرمت کی قسم اللہ تعالی نے کھائی ہے قلم فروش ہم میں سے نہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں