سہ فریقی حکومت اور عوام کی بے چینی


حکومت۔ ایک ادارے یعنی شخصی حکومت کا ہونا عوام کی نظر میں نا پسندیدہ عمل رہا ہے۔ ایک حکومت سے مراد فوجی حکومت یا آمریت ہوتی ہے جہاں طاقت کے سارے سرچشمے ایک ہی شخص یا ایک ادارے کے پاس ہوتے ہی۔ پاکستان کی تاریخ کے زیادہ ادووار اسی طرح کی حکومت کے زیر تسلط رہے ہیں۔ یہی حکومتیں پاکستان کی سیاہ تاریخ کی سنہری حکومتیں قرار پائی ہیں۔ پاکستان میں بچوں کو پڑھائی جانے والی کتابیں اس بات کی شاہد ہیں۔ تاریخ بھی انہی اداروں کی مرضی سے ترتیب پائی ہے۔

ایوب خان کی شخصی حکومت مثالی کہلاتی ہے۔ مروجہ تاریخ کے مطابق اس دور میں ڈیم بنائے گئے۔ بجلی والی ٹرین چلائی گئی۔ کارخانے لگائے گئے۔ پاکستانی صدر کی اتنی عزت تھی کہ امریکہ کے دورے کے دوران امریکی صدر جانسن ایوب خان کے استقبال کو ایرپورٹ تشریف لائے۔ ان کے دور میں پاکستان نے انڈیا سے جنگ جیت لی۔ یہ بات اس تاریخ میں نہیں لکھی گئی کہ ایوب خان نے وزیراعظم سہروردی اور قائید اعظم کی بہن کو غدار قرار دے کر دھاندلی سے الیکشن جیتا۔ اپنے تین دریا سندھ طاس کے تحت انڈیا کو دے دیے۔

اس طرح کی دوسری سنہری حکومت ضیا الحق کی حکومت تھی جس نے ملک میں امن قائم کیا، روس کو شکست دی۔ ساتھ ساتھ قاتل بھٹو کو پھانسی دے دی۔ اس کے سنہری دور میں پاکستان شیر اور انڈیا بکری بن چکا تھا۔ امریکی فوجیں پاکستانی جرنیلوں سے پوچھ کر پانی پیا کرتی تھیں۔ اس کو مروجہ تاریخ کا فاتح حکمران مانا جاتا ہے۔ اسی تاریخ کے مطابق مشرف نے ایک بار پھر پاکستان کی معاشی سمت درست کردی جو ڈیفالٹ ہونے جا رہی تھی۔ یہ نہیں بتایا گیا کہ ضیا دور میں کیسے سیاستدانوں کو کوڑے مارے گئے۔

ملک میں کلاشنکوف عام ہوئی۔ ہیروئن سرکاری سطح پر بیچی گئی۔ یہ نہیں بتایا گیا کہ مشرف دور میں بلوچستان کے لیڈروں کو بم مار مار کر قتل کیا گیا۔ کشمیر تو فتح نہ ہوا کارگل میں پاکستان کو ہزیمت اٹھانا پڑی۔ پاکستان کی تاریخ چیخ چیخ کر یہ بتارہی ہے کہ سیاستدان ملک کو لوٹ کر کھا گئے۔ سیاستدان غداری میں ملوث پائے گئے۔ سیاستدان قاتل ثابت ہوئے۔ سیاستدان ملک کی دولت لوٹ کر بیرون ملک جائیدادیں بناتے رہے۔ یہ سارا کچھ اس وقت ہوتا رہا جب ملک میں جمہوری حکومتیں تھیں۔

جبکہ پاکستان کی جمہوری حکومت ایک کمزور سی حکومت ہوتی تھی جس کی سربراہی تو وزیراعظم کرتے لیکن وزیراعظم کے سر پر سوار دوسری طاقتور حکوت جو بذریعہ 58 / 2 B صدر کے ہاتھ میں ہوتی۔ صدر کے رعشہ زدہ ناتواں اور کمزور ہاتھ یقیناً کسی سہارے کے بغیر طاقتور فیصلے کرنے سے معذور ہوتے۔ ہر بار وزیراعظم کی کمزور حکومت 58 / 2 B کے تحت کرپشن کے طاقتور الزام لگا کر توڑ دی جاتی۔ اسی دور کو دو اداروں کی حکومت کا دور کہا جا سکتا ہے۔

جب اصل فیصلے بیک ڈور سے کیے جاتے، دنیا کو دکھانے کے لئے حکمران وزیر اعظم ہوتا اصل طاقت پردے کے پیچھے ہوتی۔ مشرف کے بعد پہلی بار ایسے ہوا کہ جمہوری حکومت نے کچھ آزادی پکڑی۔ پارلیمنٹ نے قانون سازی کی۔ صوبوں کو خود مختاری حاصل ہوئی اور جمہوری حکومتوں کو اپنی مرضی سی کام کرنے کا موقع ملا۔ اگرچہ اب بھی خارجہ اور داخلہ پالیسیاں پارلیمنٹ سے ہٹ کر دوسری طاقت یعنی اصل حکومت کی مرضی سے بنتی رہیں لیکن کسی حد تک منتخب لوگوں کو بھی حکومت کرنے موقع ملا۔

نتیجہ یہ نکلا کہ کچھ سیاستدان اپنے آپ کو اصل حکمران سمجھنے کی غلطی کر بیٹھے۔ اب کی بار حقیقی اور اصلی حکمران خود تو سامنے نہ آئے مگر ان کی مدد کو ایک اور طاقت یعنی عدلیہ ان کے اور جمہوری حکمرانوں کے درمیان آ کھڑی ہوئی۔ خوش فہمی کا شکار جمہوری حکمران اپنے اپنے اصلی مقامات یعنی جیل پہنچا دیے گئے ہیں۔ نئے انتخابات کرائے گئے اور مرضی کے جمہوری حکمران پردہ سکرین پر لائے گئے۔ نئے جمہوری حکمران اپنی اوقات میں رہ کر کام کر رہے ہیں۔

اب حکومت تین تہوں میں کام کر رہی ہے۔ فرنٹ لائین پر جمہوری لوگ ہیں۔ ان کے پیچھے قانونی طاقت ہے۔ اور ان دونوں کے پیچھے بندوق کا پہرہ ہے۔ موجودہ سہ فریقی انتظام کے تحت فریق اول مخالفین کو ذلیل و رسوا کرنے کی ذمہ داری سنبھالے ہوئے ہے۔ حکومتی ارکان اپوزیشن کی کردار کشی کے سو حیلے بہانے ڈھونڈھتے پھرتے ہیں۔ ان کی کوشش ہے ساری اپوزیشن جیل چلی جائے اور ان کو پوچھنے والا کوئی نہ ہو۔ نیب پوری طرح اور عدلیہ جزوی طور پر ان کی ہمنوا بنی ہوئی ہے۔

حکومت کی نا لائقی کو کور کرنے کے لئے تیسرے فریق کو بے پناہ محنت کرنی پڑ گئی ہے۔ دوست حکومتوں کو قرض واپسی کی گارنٹی سے لے کر خارجہ امور اور ملک کے تاجر طبقے تک کو یقین دہانیاں کروانی پڑ گئی ہیں شکر ہے اس وقت سرحدوں کی صورت حال فوج کے مکمل کنٹرول میں ہے۔ ان کے مقابلے میں سابق حکمران ہیں۔ جو جیلوں میں بیٹھے ہیں۔ ان کی سپورٹ میڈیا کے چند عناصر نے کرنے کی کوشش کی تھی جن کو سبق سکھا دیا گیا ہے۔ میڈیا کی کمر عدلیہ نے توڑ دی ہے۔

پاکستان میں تین ادارے حکومت کر رہے ہیں۔ میڈیا کو تین اداروں کی مفت کوریج پر مجبور کر دیا گیا ہے۔ تاریخ میں پہلی بار میڈیا نے 13 ارب کے مفت اشتھار عدلیہ کی مدح سرائی میں چلائے ہیں جس کے نتیجے میں ڈیم فنڈ میں سول اور ملٹری اداروں کی ڈونیشن شامل کرکے کوئی دس ارب کا فنڈ اکٹھا ہوا ہے۔ ۔ عوام کو حسب سابق مہنگائی کی چکی میں پیس کر رکھ دیا گیا ہے۔ عوام کی سوچ بجلی، پانی اور گیس کی قلت تک محدود کر دی گئی ہے۔ راوی چین ہی چین لکھتا ہے۔ عوام کی بے چینی کو کون دیکھتا ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں