زرعی یونیورسٹی کے لڑکے ساتھی طالبات کو ویلنٹائن ڈے پر بہن بنائیں گے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد کے وائس چانسلر ڈاکٹر ظفر اقبال رندھاوا نے اعلان کیا ہے کہ اگلے ماہ 14 فروری کو ویلنٹائنز ڈے کو بہنوں کے دن کے طور پر منائیں گے۔ اس دن طالبات کو یونیورسٹی کے نام والے اسکارف، شال اور گاؤن تحفے میں دیے جائیں گے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے یونیورسٹی کے گھنٹہ گھر کے نزدیک ’آئی لو۔ یو اے ایف‘ کے ماڈل کا افتتاح بھی کیا۔ یونیورسٹی کے گھنٹہ گھر کے نزدیک اس ”آئی لو یو“ والے ٹاور کا ماڈل نصب کرنا بھی نہایت معنی خیز ہے۔

سوال یہ ہے کہ اگر کوئی لڑکا کسی لڑکی کو ویلنٹائن ڈے پر یونیورسٹی کے نام والا گاؤن دے دے تو نہ جانے وہ اس کی بہن کیسے بن جائے گی؟ یونیورسٹی اس کی بجائے راکھیاں فراہم کر کے ویلنٹائن ڈے کو رکھشا بندھن قرار دے دیتی تو پھر بھی کچھ سمجھ آتی کہ انڈین فلموں کا اوور ایکسپوژر ہو گیا ہے۔

یہ سرکاری پرمٹ ملنے کے بعد پہلے جو لڑکے ڈرتے بھی تھے کہ انتظامیہ لڑکیوں کو چھِیڑنے کے جرم میں پکڑ لے گی، وہ ایک ہاتھ میں گاؤن اور دوسرے میں وی سی کا اعلان لہراتے کسی بھی لڑکی کو تحفہ دینے پر تل جائیں گے۔ لڑکیاں الگ پریشان ہوں گی کہ گاؤن نہ لیا تو کہیں یونیورسٹی انتظامیہ حکم عدولی پر تادیبی کارروائی شروع نہ کر دے کہ لڑکی تمہارے من میں کیا کھوٹ ہے کہ تم یونیورسٹی کے دو سو پچاسی لڑکوں کی بہن بننے سے انکاری ہو۔ یونیورسٹی کی حسین لڑکیوں کو تو ویلنٹائن ڈے پر خوب تیاری سے آنا پڑے گا چونکہ جتنی حسین لڑکی ہو گی، اسے بہن بنانے کے امیدوار بھی اتنے زیادہ ہوں گے۔ بعضوں کو تو ٹرک کروانا پڑے گا تاکہ بھائیوں کے فراہم کردہ اسکارف، شالیں اور گاؤن گھر لے جا سکیں۔

گزرے برسوں میں اس دن کو یوم حیا بنانے کی کوشش کی گئی تھی لیکن جوانی پر بھلا کس کا زور چلا ہے۔ لگتا ہے کہ کسی نے حیا نہیں کی۔ اسی لئے اب بہن بنانے کی مہم چلائی گئی ہے۔ وقت وقت کی بات ہے۔ پرانے وقتوں میں ایسے معاملات میں کزن بنایا جاتا تھا۔ شفیق الرحمان اس پر اچھا لکھ چکے ہیں جب سفینہ، نرینہ، مہینہ اور اس قسم کے ناموں والی لڑکیاں اپنے بے شمار کزنوں کے ساتھ گھومتی پھرتی تھیں اور شیطان میاں دیکھتے رہ جاتے تھے۔

بہرحال معاملہ سنجیدہ ہے۔ اب فرض کریں کہ لڑکے والے کسی لڑکی کے گھر رشتہ لے کر پہنچے۔ لڑکی سلیقے سے دوپٹہ اوڑھے شرماتی لجاتی چائے کی ٹرے لے کر پہنچی تو لڑکا بے اختیار کھڑا ہو گیا۔ لڑکی نے ادب سے جھک کر کہا ”سلام علیکم بھائی جان“۔ پتہ چلا کہ شادی نہیں ہو سکتی۔ جس وقت لڑکا یونیورسٹی کے فائنل ائیر میں تھا اس وقت وہ اس فرسٹ ائیر کی لڑکی کو وائس چانسلر کے حکم پر اپنی بہن بنا چکا تھا۔

پہلے ہی کزن میریج پر اتنے لطیفے بنتے ہیں۔ سہاگ رات کو دولہا حجلہ عروسی میں داخل ہوا تو ٹھوکر کھا کر گرنے لگا۔ دلہن بے اختیار بولی ”بھائی جان احتیاط سے“۔ بعض رپورٹوں کے مطابق یہ بھائی جان کہنے کی عادت دور ہونے میں کچھ وقت لگتا ہے۔ اب کزنوں کے بعد کلاس فیلو لڑکیاں بھی اسی بشری کمزوری کا شکار ہونے لگیں گی۔

لیکن ادھر کچھ اڑچن ہو سکتی ہے۔ اب لڑکے نے کسی مفتی صاحب کو مناسب قسم کا نذرانہ دے دیا تو وہ حکم لگا سکتے ہیں کہ اسلام میں ان منہ بولے بہن بھائی کی شرعی گنجائش نہیں ہے۔ یعنی دونوں میں نکاح اور وغیرہ وغیرہ جائز ہے۔ اب اگر یہ فتوی بقیہ طلبہ تک پہنچ گیا تو بہت مسئلہ ہو سکتا ہے۔ ان کو پتہ چل جائے گا کہ یونیورسٹی کے نام کا گاؤن دینے کے باوجود لڑکی محرمات میں شامل نہیں ہوئی بلکہ اس سے رومان شرعی طور پر عین جائز ہے۔ اب وہ تو کھل کر محبت کریں گے۔ اکٹھے بیٹھیں گے، گھومیں پھریں گے، کھائیں پئیں گے، ہو سکتا ہے کہ یونیورسٹی کے کسی گوشے میں محبت کے ہاتھوں بے اختیار بھی ہو جائیں۔ اس صورت میں اگر کسی نے ان سے پوچھا کہ یونیورسٹی کے ماحول میں اتنا رومان کیوں گھول رہے ہو، تو وہ آگے سے پرمٹ نکال کر دکھا دیں گے کہ خدائی فوجدار صاحب، ہمیں تو وی سی صاحب بہن بھائی بنا چکے ہیں، تم کون ہوتے ہو ہمارے نجی گھریلو معاملے میں دخل اندازی کرنے والے؟ اور دوسرا ہاتھ جیب میں ڈالے مفتی صاحب کا فتوی سختی سے بھِینچے رہیں گے۔

ایک قدیم تاریخی واقعہ ہے کہ ایک یونیورسٹی میں سمیسٹر کی شروعات میں وائس چانسلر صاحب نے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ”اگر کوئی لڑکا لڑکیوں کے ہاسٹل میں پایا گیا تو اس کو ایک ہزار روپے جرمانہ ہو گا۔ دوسری مرتبہ پکڑے جانے پر دو ہزار۔ تیسری مرتبہ پر پانچ ہزار۔ “ تس پہ ایک جوان رعنا اٹھا اور اس نے وائس چانسلر صاحب سے پوچھا ”سر سیزن کے ٹکٹ کی کیا قیمت ہو گی؟ “ گمان ہو رہا ہے کہ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں بھی ویلنٹائن ڈے کو بہنن ٹائن ڈے بنانے سے بھی سال بھر کے سیزن کا ٹکٹ ہی ملے گا۔

اسی بارے  میں: طلبا ویلنٹائن ڈے پر بہنیں بنائیں گے، زرعی یونیورسٹی کا اعلان

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1095 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar