آئندہ میں ڈراموں میں صرف اچھی عورتوں کے قصے لکھوں گی

آمنہ مفتی - مصنفہ و کالم نگار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 19
  •  

پیمرا نے آٹھ جنوری کو ایک پریس ریلیز جاری کیا۔ پریس ریلیز کے پہلے پیرا گراف میں یہ بیان کیا گیا کہ پیمرا کو لاتعداد ناظرین کی شکایات موصول ہوئیں اور ذاتی مشاہدے نے بھی اس نتیجے پہ پہنچایا ہے کہ موجودہ ڈراموں کے موضوعات، عکس بندی اور لباس معیار سے گرے ہوئے ہیں۔

ناضرین کی کثیر تعداد نے ساس بہو کے جھگڑوں، سماجی اور روایتی طرزِ زندگی کے خلاف نشر کیے جانے والے مواد اور ڈراموں میں عورت کے کردار کو پیش کیے جانے کے موجودہ رجحان پہ شکایات بھیجی ہیں۔ مزید برآں، یہ بھی کہا گیا کہ ایسے موضوعات کو پیش کیا جائے جو حقیقی پاکستانی معاشرے کی عکاسی کریں اور اسلامی، سماجی، معاشرتی اصولوں سے ہم آہنگ ہوں۔ برائیوں کو بےجا طور پہ اجاگر کرنے سے اجتناب کیا جائے۔

پیمرا کی تمام باتوں سے ہمیں دل وجان سے اتفاق ہے۔ ٹی وی ڈرامے کے گرتے ہوئے معیار پہ نوحہ گر میں بھی ہوں۔ آج کا ٹی وی ڈراما تفریح کی بجائے معاشرتی مسائل کا پینڈورا پٹارہ بن گیا ہے۔ یقیناً اربابِ حل و عقد یہ چاہتے ہیں کہ پاکستان کے عوام جب رات کو آٹھ بجے ٹی وی کھولیں تو وہاں ایک معصوم سی شرارتی لڑکی، بھولی بھولی باتیں کرتی، اپنی ساس کو امی جان کہتی، سسر کو ابا حضور گردانتی، دیور کو منا بھیا اور نند کو سہیلی سمجھتی، سکھ چین کے ہنڈولے میں جھولتی نظر آئے۔

شوہر دن بھر دفتر میں کام کر کے گھر آئے تو بیوی سجی سنوری، گھر بھر کا کام نمٹائے، اس کے جوتے اتارے، میٹھی میٹھی باتیں کرے اور ہر دن عید ہو اور ہر رات شب برات۔ مگر ہوتا یہ ہے کہ ٹی وی کھولتے ہی خبیث ساسیں، بد نظر سسر، گندی نیت لیے دیور، تیزاب سے جلا دینے والے شوہر، نفسیاتی الجھنوں کا شکار نندیں اور پیڈو فائیلز کا ایک لشکر سکرین پہ نمو دار ہوتا ہے۔ ظاہر ہے، یہ حقیقی پاکستانی معاشرہ نہیں۔

حقیقی پاکستانی معاشرہ کیا ہے؟ یہ دیکھنے کے لیے ہم رخ کرتے ہیں عارف والا کا، جہاں ایک کھلی کچہری میں خاتون ڈی پی او کو دیکھتے ہوئے ایک بزرگ تاجر شفقتِ پدری سے مغلوب ہو کر اس کے سر پہ ہاتھ پھیرتے ہیں۔ چونکہ خاتون ڈی پی او حقیقی پاکستانی معاشرے سے بالکل نابلد تھیں اور انھیں ڈراموں نے یہ ہی سکھایا تھا کہ اگر کوئی بوڑھا اس طرح بھرے مجمعے میں آپ کو ایک کمزور، معصوم لڑکی ثابت کرنے کے لیے سر پہ ہاتھ پھیرے تو اس فعل کو برا سمجھنا ہے، اس لیے انھوں نے اس بات پہ خاصا برا بھلا کہا۔

نہ صرف برا بھلا کہا، بلکہ مبینہ طور پہ اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے بزرگ شہری پہ برے برے الزام بھی لگائے۔ ہماری ہمدردیاں، بزرگ شہری کے ساتھ ہیں جو حقیقی پاکستان کے باشندے تھے۔ ڈی پی او صاحبہ ڈراموں کی دنیا میں رہتی ہیں۔ جہاں 70 سال کے بوڑھے بھی بد ہوتے ہیں۔

پاکستانی طلبہ ڈی وی ڈی جلاتے ہوئے

اسی حقیقی پاکستانی معاشرے کو استحکام بخشنے کے لیے فیصل آباد زرعی یو نیورسٹی کے وائس چانسلر صاحب نے 14 فروری کو سسٹرز ڈے منانے کا اعلان کیا ہے۔ مزید کہا ہے کہ اس روز لڑکے، لڑکیوں کو شال، گاؤن اور حجاب وغیرہ تحفے میں دیں گے۔ لڑکیاں جواب میں کیا پیش کریں گی اس بارے میں یقیناً ڈراموں کی دنیا میں تو سوال اٹھانے کی کوشش کی جائے گی لیکن حقیقی پاکستانی معاشرے میں ایسا سوال نہیں کیا جاتا۔ کیونکہ اس معاشرے میں لڑکیاں صرف تحفے وصولتی ہیں (ویسے، اسی قسم کی ایک رسم ‘رکھشا بندھن ‘ کو ہندو سماج سے بھی موسوم کیا جاتا ہے)۔

حقیقی پاکستانی معاشرے میں ہر عورت، وفا کی پتلی، ہر شوہر محبت اور تحفظ کی علامت، ہر ساس ممتا کا روپ اور ہر سسر شفقت کی پوٹ ہوتا ہے۔ عورت، بچے، بچیاں، گھر، بازار، دفتر، کالج، یونیورسٹی ہر جگہ محفوظ ہیں۔ نہ انھیں کوئی آنکھ بھر کے دیکھتا ہے اور نہ ان کی صلاحیتوں سے خائف ہوکر انھیں کسی طرح پریشان کرتا ہے ۔نہ چولھے پھٹتے ہیں، نہ عورت کو ذاتی ملکیت سمجھا جاتا ہے۔

اب تک جو دس پندرہ ڈرامے لکھے، سو لکھے، آج سے تائب ہوتی ہوں اور آئندہ ہمیشہ اچھی اچھی باتیں کرتی، اچھی اچھی باتی سنتی عورتوں کے قصے لکھوں گی۔ باقی رہ گئیں یہ گھر گھر میں روتی سسکتی پریشان عورتیں تو بھئی پہلے آ پ اپنے شناختی کارڈ پہ لکھوا کر لائیں کہ آپ حقیقی پاکستانی معاشرے کا رکن ہیں اور آپ کے مسائل کا ذکر کیے بغیر اور ان کاحل ڈھونڈے بغیر معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا۔ اس وقت تک آپ منظر سے غائب رہیں۔ شکریہ!

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 19
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں