لوہڑی: سب توں سوہنڑا پنجابی تہوار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 12
  •  

دنیا کی مختلف قومیں اپنی موسموں اور اہم دنوں کے حوالے سے مختلف تہوار مناتی ہیں۔ پاکستان اور بھارت میں پنجاب کا خطہ ہمیشہ سے ترقی یافتہ، زرخیز اور خوشحال خطہ رہا ہے۔ ۔ اس لئے اس سوہنی دھرتی پر ہمیشہ دشمنوں کی نظر رہی ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ پنجاب ہزاروں سالوں سے کسی نا کسی کا غلام ہی رہا ہے۔

پاکستان کی دوسری قومیتوں کے مقابلے میں پنجاب تہوار منانے کے حوالے سے زیادہ آگے اور ثقافتی طور پر بھی زرخیز اور خوبصورت رہا ہے۔ ملک میں جنرل ضیاء اور اس کی اس ریاست کو ”سرکاری مذہبی“ رنگ دینے کے بعد ہزاروں سالوں سے موجود ایسے تہواروں کو اپنانے اور قبول کرنے سے انکار کردیا گیا اور اسلام کے نام پر عربی رنگ رنگنے کی کوشش میں نیا رنگ تو نہیں چڑھ سکا، پرانا بھی اتر گیا۔

پنجاب کے کئی اور اور تہواروں کے مقابلے میں ”لوہڑی“ کا تہوار زیادہ خوبصورت اور شاندار لگتا ہے۔ اس دن سے کئی روایات منسوب ہیں، جو سب کی سب خوبصورت ہیں۔

1۔ لوہڑی اک موسمی تہوار ہے۔ کہتے ہیں جس دن کماد (گنے ) کی فصل پک کر تیار ہوتی ہے اور کاٹی جاتی ہے اس سے اک دن پہلے سارے کسان اور لوگ مل کر خود تھوڑا گنا کاٹ کر ذائقہ چیک کرتے ہیں اور میٹھا ہونے پر اک دوسرے کو مبارکباد دیتے ہیں۔

گاؤں میں آگ کا الاؤ جلایا جاتا ہے جس کو بھڑکانے لئے اس کے اوپر سچے گھی، کماد، چینی دوسری چیزوں کا چھڑکاؤ کیا جاتا ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ چھڑکاؤ والا عمل ”اگنی دیوتا“ کو خوش کرنے کے لئے کیا جانے والا ”سناتن دھرم“ کا مذہبی عبادتی عمل ہے۔

اس دن گاؤن کے بچے گھر گھر جاکر ”لوہڑی“ لیتے ہیں، یعنی اس دن کسی کے دروازے سے کوئی خالی ہاتھ نہیں جائے گا، لکڑی، کماد، کپاس، چاول، گھی، دودھ، ریوڑیاں، نقد رقم، اناج اور پکی روٹی بھی ملتی ہے۔ بچے یہ سب چیزین شام کو اسی میدان میں لاتے ہیں جہان سب مل بانٹ کر کھاتے ہیں اور جشن مناتے ہیں۔

2: ”لوہڑی“ پنجاب کے عشاق کا روایتی دن ہے۔ جس طرح مغرب میں ویلنٹائنس ڈے Valentine Day کو محبت کرنے والوں کے دن کے طور منایا جاتا ہے اسی طرح پنجاب میں لوہڑی کو بھی محبت کرنے والوں کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔

جس دن سردیوں کا زور ٹوٹتا ہے اور نقد رقم والی فصل کماد/ گنا پک کر تیار ہوتی ہے اس دن ہر نوجوان آگ کا الاؤ جلا کر کماد کو ہاتھ میں اٹھا کر اعلان کرتا ہے کہ ”میں گاؤں میں فلاں محلے میں رہنے والی فلاں لڑکی جو فلاں کی بیٹی ہے سے محبت کا برملا اظہار کرتا ہوں اور آج اسے شادی کرنے کا اظہار کرتا ہوں، جاؤ۔ ۔ جاکر اسے بتا دو۔۔۔ اگر وہ تیار ہے تو میں آج ہی اس سے شادی کروں گا۔ “

اب اس لڑکی کو یہ اختیار ہوتا ہے کہ وہ اس شادی کے سندیسے یا اظہار کو قبول کرے یا انکار کردے۔ دونوں صورتوں میں دونوں طرف سے آخری فیصلے کو دل سے تسلیم کیا جاتا ہے۔

اس اظہار محبت کو کوئی معیوب نہیں سمجھتا بلکہ یہ جگر کا کام صرف کچھ بہادر نوجوان ہی کرسکتے ہیں۔ اس لئے ان نوجوانوں کی قدر کی جاتی ہے۔ پنجاب کا اصل ثقافتی رنگ نہایت خوبصورت اور دلفریب ہے۔

3: اک اور روایت جو اس دن سے کچھ زیادہ ہی منسلک کی جاتی ہے وہ پنجاب کے گبرو پتر اور اس دھرتی کے بہادر ترین بیٹے عبداللہ بھٹی المعروف ”دلا بھٹی“ سے منسوب ہے۔

پنڈی بھٹیاں کا یہ نوجوان پورے پنجاب کا اصل ہیرو ہے جس جیسا بہادر بیٹا اس دھرتی نے اور نہیں جنا۔

کہتے ہیں جب پنجاب سمیت پورے ہندوستان پر مغل حکمران قابض تھے اس وقت یہ حکمران یا ان کے خاص زمیندار نہ صرف علاقے کی زرخیز زمینوں پر قبضہ کرلیتے تھے مگر لوگوں کی خوبصورت لڑکیوں تک کو اٹھا کر لیجاتے تھے۔

اک بار پنڈی بھٹیاں اور لاہور کے قرب و جوار سے اک مسلمان زمیندار ہندو خاندان کی دو خوبصورت لڑکیوں ”سندری“ اور ”مندری“ کو اٹھا لے گئے۔

اصل میں سندری اور مندری نامی دو ہندو برہمن لڑکیوں کے چچا نے کسی مسلمان زمیندار کو قرض واپس کرنا تھا، قرض ادائیگی نہ ہونے کی صورت میں زمیندار ان دونوں لڑکیوں کو اٹھا لے گیا۔ جب یہ بات دلا بھٹی تک پہنچی تو اس نے نہ صرف حملہ کر کے ان لڑکیوں کو بازیاب کروایا، بلکہ جنگل کی طرف لیجا کر ان کی مناسب ہندو لڑکوں سے شادی بھی رچائی۔ اتفاق سے وہ دن بھی ”لوہڑی“ کا دن یعنی آج کا دن تھا۔ ۔ اس موقع دلا بھٹی نے لکڑیاں اکٹھی کیں، آگ جلائی اور پاس موجود شکر اور تل دونوں کی جھولی میں ڈال کر لوہڑی کی رسم ادا کی۔ اس موقع پر جو اشعار دلا بھٹی نے کہے وہ لوہڑی پر جھوم جھوم کر گائے جاتے ہیں اور بھنگڑا بھی ڈالا جاتا ہے۔ اس لوہڑی کے تہوار کو بھارت میں بھرپور طریقے سے منایا جاتا ہے، اور پاکستان میں تو آج کل یہ دن جائز ناجائز والے چکر میں منایا ہی نہیں جاتا۔

دلا بھٹی پنجاب کا وہ ہیرو ہے جنہوں نے اس دیس کے تمام لوگوں کی بغیر کسی مذہب، رنگ اور نسل کے نہ صرف خدمت کی بلکہ ان کو احساس دلایا کہ پنجابی قوم اک غیرتمند اور اپنی دھرتی اور ثقافت سے پیار کرنے والی اور اس پر جان فدا کرنے والی قوم ہے۔

دلا بھٹی کو شہنشاہ اکبر کے دور میں چالاکی سے گرفتار کر کے لاہور میں شہید کردیا گیا اور بغاوت کا عظیم باب بند کیا گیا۔

بھارتی پنجاب میں دلا بھٹی کو یاد میں اس وقت بھی ترانے پڑھے جاتے ہیں اور وہاں نصاب سے لے کر فلموں تک دلا بھٹی کو اک پنجابی گبرو پتر اور ہیرو کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔

دونوں پنجاب میں عظیم ہیرو دلا بھٹی کی یاد میں جو خاص ترانہ پڑھا جاتا ہے وہ اس طرح ہے۔ ۔

سندر مندریے ہو

تیرا کون وچارا؟ ہو

دلا بھٹی والا۔ ہو

دلے دی دھی ویاہی۔ ہو۔

سیر شکر پائی۔ ہو

کڑی دا لال پٹاکا۔ ہو

کڑی دا سالو پھاٹا۔ ہو

سالو کون سمیٹے؟

چاچا گالی دیسے۔

چاچے چوڑی کٹی۔

زمینداراں لٹی۔

زمیندار سدھائے۔

بم بم پولے آئے۔

اک پولا رہ گیا۔

سپاہی پھر کے لے گیا۔

سپاہی نے ماری ایٹ۔

پاوے رو تے پاوے پٹ۔

سانوں دے لوہڑی۔

تیری جیوے جوڑی۔

بھارتی پنجاب میں دلا بھٹی اور لوہڑی کے حوالے سے کچھ مشہور گانے بھی ہیں۔ دونوں پنجاب کے تمام پنجابی بھائیوں کو لوہڑی کے دن کی لکھ لکھ مبارکباد قبول ہو۔

موسمی تہوار کا پس منظر چاہے کچھ بھی ہو مگر خوشی اور شادمانی کے تہوار مناتے رہنا چاہیے۔ یہ تہوار اصل میں ہمارے درمیان آپس میں اور دھرتی سے محبت اور انسیت کو بڑھاوا دیتے ہیں۔ ۔

پاکستانی پنجاب میں اب یہ دن شاذونادر ہی منائے جاتے ہیں اور سرکار تو ان تہواروں کو لفٹ ہی نہیں کرواتی۔ پھر بھی اس دھرتی پنجاب اور پنجابی بولی سے محبت کرنے والے کچھ گبرو ایسے بھی ہیں جو اس ثقافتی تاریکی میں اپنے پنجابی پن کا دیا جلائے ہوئے ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 12
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں