کراچی سے نرس کے اغوا کا ڈراپ سین

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 14
  •  

جنوری کی 10 تاریخ رات کے بارہ بجے کے قریب فیس بک کی ایک پوسٹ پر نظر پڑی، جس میں لکھا تھاکراچی میں مقیم گلگت بلتستان کی ایک نرس گھر سے ڈیوٹی کے لئے نکلی اور واپس نہیں آئی۔ اس خبر کو پڑھنے کے بعد سخت صدمہ پہنچا کیونکہ شہروں میں اغوا کے بعد بہت ہی کم خوش نصیب لوگوں کو زندہ بازیاب کروایا جاسکتا ہے۔

اس خبر کی تصدیق کیے بغیر سو جانا ممکن نہیں تھا بڑی کوششوں کے بعد کریم شاہ نامی آدمی کا نمبر ملا جو لڑکی کا چچا تھا اور وہ کراچی میں رہائش پذیر تھا۔ مجھے شک ہوا تھا کہ کوئی کورٹ میرج کا چکر ہوگا۔ لیکن جب میں نے ان کے چچا سے بات کی تو اندازہ ہوا کہ وہ اذیت میں مبتلا تھے۔ وہ ٹھیک طرح بول بھی نہیں سکتے تھے۔ اس کے باوجود میں نے ہمت کرکے پوچھا کہ خوش بخت کی شادی ہوئی تھی تو انہوں نے نا میں جواب دیا یقین ہوگیا کہ یہ کوئی چکر ہے پھر پوچھا کہ بھائی ایسا تو نہیں کہ خوش بخت نے کسی سے پسند کی شادی کی ہو اس پر انہوں نے کہا کہ اس کو بھاگنے کی کیا ضرورت تھی ان کو اتنی آزادی حاصل تھی کہ وہ اپنی پسند کا اظہار کرسکتی تھی۔ اور وہ بتا کے شادی کرسکتی تھی اس کو کسی نے اغوا کیا گیا ہے۔

خوش بخت کے چچا کے مطابق پولیس مدد نہیں کررہی ہے، ابھی تک ایف آئی آر نہیں ہوئی ہے وہ اس اجنبی شہر میں بے یارو مددگار ہے اوربہت مجبور ہے۔ ان کو حوصلہ دیا کہ کل صبح تک ایف آئی آر ہوگی بے فکر رہو لڑکی مل جائے گی۔ اس کے فورا بعد کراچی میں اپنے دوست فہیم احمد صدیقی صاحب سے رابطہ کرنے کی کوشش کی جو جیو نیوز کراچی کے بیورو چیف ہیں، لیکن ان سے رابطہ نہیں ہوسکا۔ واقعے کی تفصیلات ان کے واٹس اپ بر پر بھیج دیا۔ صبح دس بجے کے قریب فہیم صاحب سے رابطہ ہوا انہوں نے یقین دلایا کہ وہ متاثرہ خاندان کی پوری مدد کریں گے اور اس کیس کا ایف آئی آر آج ہی درج ہوگی۔

کریم شاہ کو فہیم صاحب کا نمبر دیا اور ان سے ملنے کا کہا۔ اب تک یہ معماملہ سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہوچکا تھا۔ یہ بات جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی تھی۔ اگلے دن گورنر گلگت بلتستان اور وزیر اعلی گلگت بلتستان نے سندھ حکومت اور گورنر سندھ سے رابطے کیے اور مطالبہ کیا کہ ہماری بیٹی کو جلد بازیاب کروایا جائے، اب پولیس اور قانون نافذکرنے والے ادارے حرکت میں آگئے تھے۔ ملیر پولیس نے 48 گھنٹوں کا وقت مانگا تھا۔ دوسری جانب کراچی اور اسلام آباد میں مقیم طلبا وطالبات نے سخت احتجاج ریکارڈ کروایا۔ اور دو دنوں میں بازیاب نہ کروانے کی صورت میں ملک کے تمام شہروں میں احتجاج کی دھمکی دے دیا تھا۔

گلگت بلتستان وہ علاقہ ہے جہاں آج بھی لوگ ایک دوسرے کی مدد کے لئے بے غرض نکلتے ہیں۔ ایک دوسرے کی غم اور مصیبت میں کھڑے ہوجاتے ہیں۔ اور کسی قربانی سے دریخ نہیں کرتے ہیں۔ اس بار بھی نوجوانوں نے اپنے علاقے کی رویات کو برقرار رکھتے ہوئے خوش بخت کے اس کم بخت خاندان کے ساتھ اس مشکل وقت میں کھڑے ہوئے۔ اور یہ نوجوانوں پر فرض بھی تھا۔ دوسری جانب گلگت بلتستان حکومت گورنر گلگت بلتستان جنہوں نے علاقے کی بیٹی کے لئے اپنی بھرکوششیں کیں، جس کے بعد یہ معلوم سکا کہ لڑکی اپنے عاشق کے ساتھ ملتان بھاگ گئی ہے اور وہاں کورٹ میرج کرکے مظفر گڑھ چلے گئے۔ لڑکی نے اپنے ویڈیو بیان میں بتایا ہے کہ اس نے اپنی مرضی سے پسند کی شادی کی ہے اور وہ خوش ہے۔ سندھ پولیس اور تمام قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی شاباش اور مبارک باد کے مستحق ہیں جنہوں نے یہ اس لڑکی کو ڈھونڈ نکالا اور گلگت بلتستان کی قوم کو وسوسے سے نکال دیا۔

شادی کرنا کوئی جرم نہیں اور نہ ہی کورٹ میرج کرنا کوئی جرم ہے ہمارے ملک کے قانون نے اس بات کی اجازت دی ہے کہ کوئی بھی لڑکی اپنی مرضی کے مطابق اپنی پسند کی شادی کرسکتی ہے۔ لیکن ایک ہفتے تک گھر والوں کو اطلاع نہی کرنا اور ان کو اذیت اور ذہنی کفت میں مبتلا کردینا ظلم ہے۔ نوجوانوں اور اپنے بہنوں سے اتنا کہوں گا کہ مایوس اور شرم والی کوئی بات نہیں اگر خوش بخت نے پسند کی شادی کرکے آپ کو مایوس کیا ہے تو کیا ہوا ثمینہ بیگ نے دنیا کی بلند ترین چھوٹی پر سبز ہلائی پرچم لہرا کر ہمارے سر فخر سے بلند کردیا۔

کورٹ میرج کرنا کوئی جرم ہے لیکن ایک ہفتے تک گھر والوں کو اطلاع نہی کرنا اور ان کو اذیت اور ذہنی کوفت میں مبتلا کردینا ظلم ہے۔ خوش بخت نے نہ صرف اپنے والدین کو تکلیف دی بلکہ ان تمام والدین کو بھی پریشان کردیا جن کی بچیاں ملک کے مختلف شہروں میں زیر تعیلم ہیں۔ خوش بخت کو چاہیے تھا کہ وہ ملتان میں کورٹ میرج کے فورا بعد اپنے گھر والوں سے رابطہ کرتی اور انہیں بتا دیتی تاکہ وہ سکھ کا سانس لیتے، اور نہ ہی ان کو تماشا بننا پڑتا۔ آخر گھر والوں کا ایسا کون سا جرم تھا جس کی ان کو سزا مل گئی انہیں یہ اذیت دی گئی۔

اپنے عظیم دوست فہیم احمد صدیقی صاحب، گورنر اور وزہراعلی گلگت بلتستان، گورنر سندھ اور حکومت سندھ، ملیر پولیس قانون نافذ کرنے والے ادارے گلگت بلتستان کے وہ نوجوان جو کراچی اور راولپنڈی اسلام آباد میں مقیم ہیں جنہوں نے غیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے احتجاج ریکارڈ کروایا اور وہ تمام لوگ جنہوں نے خوش بخت کے معاملے کو سنجیدگی سے لیا اور اس کی بازیابی کے لئے مشبت کردار ادا کیا وہ تمام مبارک باد کے مستحق ہیں۔ خوش بخت کو خوش رہنے دیا جائے۔ اللہ تعالی ہم سب کو ہدایت دے۔ اور اللہ تعالی ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ آمین

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 14
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں