IMF کی معاونت کے بغیر بھی رہ سکتے ہیں مگر…

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اکتوبر1996کا غالباََ تیسرا ہفتہ تھا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کی دوسری حکومت کا تیسرا سال تھا۔اس حکومت کے بار ے میں ’’سب اچھا‘‘ کا ماحول چل رہا تھا۔

ان دنوں کے آئین کے آرٹیکل58-2(B)کے تحت قومی اسمبلی کو توڑنے کا اختیار رکھنے والے صدر محترمہ کے ’’فاروق بھائی‘‘ تھے اور آرمی کے سربراہ جنرل جہانگیر کرامت تھے جنہیں ہر حوالے سے ’’غیر سیاسی‘‘ کہا جاتا تھا۔نوازشریف کی سربراہی میں قائم متحدہ اپوزیشن بھی ’’تحریک نجات‘‘ وغیرہ سے ناکام ہوکر ’’ٹھنڈی‘‘ ہوئی محسوس ہورہی تھی۔

قوی امید تھی کہ بالآخر 1985کے بعد عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوئی ایک حکومت آٹھویں ترمیم کے ہوتے ہوئے بھی اپنی پانچ سالہ مدت مکمل کرلے گی۔’’سب اچھا‘‘ محسوس ہونے والے اس موسم میں لیکن میری اس وقت کے صدر فاروق لغاری مرحوم سے ایک طویل ملاقات ہوگئی۔

فقط ہم دونوں کے مابین ہونے والی یہ ملاقات ’’آف دی ریکارڈ‘‘ تھی۔ میں اس کی تفصیلات کے بارے میں صحافتی اخلاقیات کی وجہ سے مہر بہ لب تھا۔میرے دوست مگر بہت ہی مشہور اور متحرک صحافی محمد مالک نے اپنے گھر پر کھانے کی ایک شاندار دعوت کا اہتمام کررکھا تھا۔

چند بے تکلف صحافی دوستوں کے علاوہ ان دنوں کے وزیر خزانہ جناب نوید قمر اور وزیر برائے پارلیمانی امور رضا ربانی بھی اس دعوت میں موجود تھے۔میں کچھ پیشہ وارانہ مصروفیات کی وجہ سے وہاں دیر سے پہنچا۔ محمد مالک نے حسب معمول میرے تاخیر سے آنے کے باعث پھکڑپن سے میری کلاس لی۔

رضا ربانی بھی شکوہ کرنے کو مجبور ہوگئے۔ میں نے جان چھڑانے کے لئے رضا ربانی کو بتایا کہ چونکہ ان کی حکومت جانے کی فکر لاحق ہے اس لئے دعوتوں میں شریک ہونے سے دل گھبرارہا ہے۔رضا ربانی میرے جواب سے ہکا بکا رہ گئے۔ میرے ساتھ بے تکلف ہیں۔تڑاخ سے پنجابی میں سوال کیا کہ ’’کی بکواس کرریاں اے‘‘۔

میں اپنی بات پر ڈٹ گیا تو انہوں نے انکشاف کیا کہ بطور وزیر پارلیمانی امور انہوں نے صدر لغاری سے فون پر بات کرنے کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس بلوانے کی تاریخ طے کرتے ہوئے سمری تیارکرکے ایوانِ صدر بھجوارکھی ہے۔جلد ہی وہ دستخط کرکے یہ اجلاس بلوانے والے ہیں۔ “Deception”(دھوکہ)جنگ کا بنیادی حربہ ہوا کرتا ہے‘‘ بہت رعونت سے میں نے انہیں یاد دلایا

۔دریں اثناء نوید قمر بھی ہمارے ساتھ کھڑے ہوگئے۔ چند روز قبل ان کی بھی فاروق لغاری سے ایک ملاقات ہوئی تھی۔بقول ان کے صدر ان کی بطور وزیر خزانہ ’’کارکردگی‘‘ سے بہت مطمئن تھے۔ میں طنزیہ قہقہہ کے علاوہ کوئی جواب نہ دے پایا۔حقیقت یہ تھی کہ میرے ساتھ ملاقات کے دوران فاروق لغاری صاحب نے دعویٰ کیا تھا کہ چند ہی دن قبل ان سے ملاقات کرنے IMFکا وہ عہدے دار آیا تھا جو ہمارے خطے کے معاشی معاملات کا نگہبان تھا۔

وہ عہدے دار ایرانی نژاد تھا اور اس نے بقول مرحوم صدر کے اپنے آنسوئوں کو روکتے ہوئے گلو گیر آواز میں انکشاف کیا تھا کہ پاکستان ’’دیوالیہ‘‘ ہونے کی جانب بڑھ رہا ہے۔ فاروق صاحب نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ IMFکے نمائندے سے ملاقات کے بعد انہوں نے نوید قمر کو بلایا تھا۔ نوید قمر کے والد مرحوم سے جو سندھ کے بہت بڑے کاشت کار مانے جاتے تھے اور کئی بار قومی اسمبلی کے رکن بھی رہے تھے فاروق لغاری کے ذاتی تعلقات تھے۔

میرے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے مگر انہیں دُکھ تھا کہ ’’ان کے دوست کے بیٹے (یعنی نوید قمر)‘‘انہیں حقیقت بتانے سے گریز کرتے نظر آئے۔میں نے سابق صدر سے پوچھا کہ وہ IMFکے نمائندے سے ہوئی بات وزیر اعظم کے ساتھ Shareکیوں نہیں کرتے۔ ’’وہ اب میری بات نہیں سنتی‘‘ فاروق لغاری نے جواباََ کہا اور میز سے ایک پیپرویٹ اٹھاکر اسے گویا ہاتھوں سے توڑنے کی کوشش میں نظر آئے۔

میرے ساتھ بات چیت میں یہ پہلاموقع تھا کہ جب انہوں نے محترمہ بے نظیر بھٹو کے لئے ’’وہ‘‘ اور ’’ہیں‘‘ کے بجائے ’’سنتی‘‘ والے الفاظ استعمال کئے تھے۔ذرا سی عقل رکھنے والے کے لئے بھی یہ ٹھوس اشارے تھے۔ میں سمجھ گیا کہ صدر محترمہ بے نظیر بھٹو کی حکومت کو آٹھویں ترمیم کے تحت ملے اختیار کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فارغ کرنے کی تیاری کررہے ہیں۔

میرے ساتھ ملاقات کا مقصد غالباََ مجھے اس امر کے لئے ذہنی طورپر تیار کرنا تھا۔ کیونکہ یہ ملاقات میری درخواست پر نہیں بلکہ ان کی خواہش پر ہوئی تھی۔ یہ تفصیلات مگر میں رضا ربانی اورنوید قمر کو بتا نہیں سکتا تھا۔ بالآخر وہی ہوا جس کا مجھے اندازہ تھا۔اپنی یادوں کی پٹاری سے یہ تفصیل نکال کر آپ سے شیئر کرنے کو یہ سمجھانے کے لئے مجبور ہوا ہوں کہ ہم جیسے ملکوں میں کسی حکومت کو مستحکم یا غیر مستحکم کرنے میں IMFجیسے ادارے بہت اہم کردار کرتے ہیں۔

پاکستان تو بہت کم وسائل اور بے تحاشہ آبادی والا معاشی اعتبار سے نسبتاََ کمزور ملک ہے۔ برطانیہ مگر کئی دہائیوں تک ایک سامراجی ملک رہا تھا۔ دوسری عالمی جنگ نے اسے کمزور کیا۔ اس کی تمام نوآبادیاں آزاد ملک بن گئے۔

نئے آزاد ہوئے ملک میں مصربھی شامل تھا۔ وہاں1950کی دہائی کے آغاز میں صدر ناصر نے نہرسوئیز کو قومی ملکیت میں لے لیا۔ناصر کے اس ’’باغیانہ‘‘ فیصلے سے مشتعل ہوکر برطانیہ نے فرانس اور اسرائیل کے ساتھ مل کر نہرسوئیز کو فوجی کارروائی کے ذریعے ’’آزاد‘‘ کروانا چاہا۔

ناصر نے سوئیزنہر میں کشتیاں اور جہاز ڈبوکر اسے استعمال کے قابل نہ رہنے دیا۔اس کی جانب جانے والے پل بھی خودتباہ کردئیے۔ یورپ کے لئے نہرسوئیز کے ذریعے تیل کی ترسیل بند ہوگئی۔برطانیہ اپنی ضروریات پوری کرنے کے لئے امریکہ سے رجوع کرنے پر مجبور ہوا۔ امریکہ نے نہرسوئیز پر ہوئی جنگ سے لاتعلقی برقرار رکھی۔

ممکنہ معاشی بحران سے نبردآزما ہونے کے لئے برطانیہ IMF سے Bailout پیکیج کی درخواست کرنے پر مجبور ہوا۔ IMF فوراََ رضا مند نہ ہوا۔ اس وقت کے برطانوی وزیر اعظم نے گھبراکر استعفیٰ دے دیا۔ یہ حقیقت یاد دلانے کا مقصد آپ کو یہ بتانا ہے کہ IMFبرطانیہ جیسے ممالک کی حکومتوں کے لئے بھی استحکام یا عدم استحکام کا باعث ہوسکتا ہے۔

تحریک انصاف کی طرز حکومت کے بارے میں سو طرح کے تحفظات رکھنے کے باوجود لہذا میں ٹھوس اطلاعات تک رسائی نہ ہوتے ہوئے بھی سمجھ سکتا ہوں کہ اس حکومت کے وزیر خزانہ IMFسے کسی بیل آئوٹ پیکیج کے حصول کے لئے لیت ولعل والا رویہ کیوں اختیار کئے ہوئے ہیں۔ IMFکی جانب سے یقینا کچھ ایسی شرائط آئی ہیں جنہیں مان لیا جائے توشاید یہ حکومت عدم استحکام کا شکار ہوسکتی ہے۔

وہ شرائط مگر کیا ہیں ہمیں بتانے کو کوئی تیار نہیں۔ہمیں یہ شرائط بتائے بغیر بھی لیکن IMFسے رجوع کرنے کے ضمن میں اسد عمر ’’فی الحال‘‘ وغیرہ والے الفاظ کیوں استعمال کررہے ہیں۔زیادہ بہتر ہوتا کہ سینہ تان کر اعلان کردیتے کہ پاکستان ازخود اپنے معاشی مسائل سے نبردآزما ہونے کے لئے تیار ہوچکا ہے۔ ہمارے دوست اور برادرممالک اس ضمن میں ہماری معاونت کرچکے ہیں۔ مزید مدد کو بھی تیار ہیں۔

اب ’’منی بجٹ‘‘ کے ذریعے یہ حکومت اپنے مالی وسائل بڑھانے کے لئے چند نئے ٹیکس لگائے گی۔ قوم کو یہ نئے ٹیکس بہادری سے قبول کرنا ہوں گے تانکہ ہم IMFکی Dictationکے بغیر اپنے پائوں پر کھڑے ہونے کی ہمت دکھا سکیں۔ حکومتیں عوام سے حقائق نہ چھپائیں۔ اپنی دیانت اور ایمان داری پر کامل بھروسہ رکھتی ہوں تو ہمارے عام لوگ بھی IMFکی معاونت کے بغیر زندہ رہ کردکھاسکتے ہیں۔

عوام پر لہذا اعتماد کریں۔ ا نہیں سچ بتائیں اور آگے بڑھیں۔ ’’فی الحال‘‘ جیسے الفاظ استعمال کرتے ہوئے انہیں اندھیرے میں نہ رکھیں۔

بشکریہ روزنامہ نوائے وقت

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں