وزیر اعظم شہباز شریف؟ ملکی سیاست میں کیا ہونے جا رہا ہے؟


باوثوق ذرائع کے مطابق اپوزیشن جماعتوں نے قومی اسمبلی میں ان-ہاؤس تبدیلی کے لئے کوششیں شروع کر دی ہیں۔ ان کوششوں مین کامیابی کے نتیجے میں شہباز شریف کو جلد ہی اہم ترین ذمہ داری ملنے کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔ آصف زرداری نے بھی اس سمت میں اشارہ دے دیا ہے۔

ایک نجی ٹی وی چینل کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کے خلاف اتحاد قائم کر لیا ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ آصف زرداری نے منگل کے روز خود اعلان کیا کہ اپوزیشن جماعتوں کا اتحاد قائم ہو گیا ہے۔ اس رپورٹ میں تہلکہ خیز انکشاف کیا گیا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں نے ان ہاوس تبدیلی کیلئے اتفاق بھی کر لیا ہے۔ اس حوالے سے بتایا گیا ہے کہ سابق وزیر اعلی پنجاب اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو جلد اہم ترین ذمہ داری ملنے والی ہے۔ یہ ذمہ داری ممکنہ طور پر وزارت عظمیٰ بھی ہو سکتی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے حکومت کی اتحادی جماعتوں کو توڑ کر ان ہاوس تبدیلی لانے کی کوشش کی جائے گی۔

اطلاعات کے مطابق نواز شریف اور مریم نواز سیاسی طور پر متحرک نہیں ہوں گے۔ مریم نواز اور نواز شریف طے کردہ معاملات کے تحت خاموش رہیں گے۔ اسی لیے انہیں ریلیف ملنے کا بھی امکان ہے۔

منگل کو پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف محمد شہبازشریف کی دعوت پر پارلیمنٹ میں اپوزیشن جماعتوں کے سربراہان اور قائدین کا اہم اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں اپوزیشن چیمبر میں منگل کو منعقد ہوا۔ اجلاس میں سابق صدر پاکستان اور پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹرین کے صدر آصف علی زرداری، پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، سید خورشید شاہ، سید نوید قمر، شیری رحمن کے علاوہ سابق وزیر اعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما شاہد خاقان عباسی، خواجہ محمد آصف، احسن اقبال، رانا تنویر حسین، خواجہ سعد رفیق، رانا ثناء اللہ، سینیٹر پرویز رشید، سینیٹر ڈاکٹر آصف کرمانی اور مریم اورنگزیب شریک ہوئے۔ متحدہ مجلس عمل (ایم ایم ای) کی نمائندگی مولانا اسد محمود اور مولانا عبدالواسع نے کی۔ اپوزیشن جماعتوں کے مشترکہ اجلاس میں خصوصی دعوت پر بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کے آغا حسن بلوچ اور حاجی ہاشم پوتزئی نے بھی شرکت کی۔

اجلاس میں ملک کی مجموعی داخلی، سیاسی، معاشی، اقتصادی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں شریک جماعتوں نے اس امر پر اتفاق کیا کہ گزشتہ پانچ ماہ میں حکومت کی نااہلی، ناکامی، ناتجربہ کاری اور بے حسی کے نتیجے میں پاکستان کی معیشت کو سنگین ترین خطرات لاحق ہوچکے ہیں۔ افراط زر اور قرض بے قابو ہو گئے ہیں جس کی وجہ سے عام آدمی بدترین مہنگائی کی چکی میں پس رہا ہے۔ روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے نے عوام کی کمر توڑ دی ہے جس کی تازہ ترین مثال ادویات کی قیمتوں میں حکومت کی جانب سے کیاجانے والا حالیہ اضافہ ہے۔ ملک میں بجلی اور گیس کے بڑھتے ہوئے بحران پر گہری تشویش کا اظہارکرتے ہوئے اجلاس میں کہا گیا کہ ایک طرف عوام پر بجلی اور گیس کی قیمت میں ظالمانہ اضافہ کرکے بوجھ میں اضافہ کر دیا گیا ہے تو دوسری جانب حکومت کی اپنی بدانتظامی اور نالائقی کی وجہ سے عوام کو بجلی اورگیس کی لوڈشیڈنگ کے عذاب سے دوچار کر دیا گیا ہے۔

معیشت کی شرح نمو میں واضح کمی ہوچکی ہے جس کے نتیجے میں لاکھوں لوگ بے روزگار ہوچکے ہیں اور مزید ہونے جا رہے ہیں۔ حکومت کی معاشی پالیسیاں اب قومی سلامتی کے لئے خطرہ بن چکی ہیں۔ راتوں رات روپے کی قدر میں 35 فیصد کمی سے ایک طرف ملک پر ملکی اور بیرونی قرضوں کے بوجھ میں اربوں روپے کا اضافہ ہوگیا ہے تو دوسری جانب مقامی سطح پر عوام اور مختلف شعبہ جات کو شدید معاشی نقصان پہنچایا گیا۔

حکومتی عاقبت نااندیش پالیسیوں کی وجہ سے سرمایہ کاری کی فضا بری طرح متاثر ہوئی ہے جس کے نتیجے میں سٹاک ایکسچینج میں اب تک 40 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہوچکا ہے اور کاروباری اور معاشی سرگرمیاں منجمد ہوچکی ہیں۔ اجلاس نے حکومت کی جانب سے منی بجٹ پیش کرنے کے اقدام کو مسترد کرتے ہوئے حکومت کی نااہلی اور نالائقی کی وجہ سے پانچ ماہ میں پیش کئے جانے والے تیسرے بجٹ کی بھرپور مخالفت کی جائے گی کیونکہ اس کے نتیجے میں پہلے سے مشکلات کا شکار عوام پر بوجھ میں مزید اضافہ ہوجائے گا۔

اجلاس میں ملک میں آزادی اظہار رائے پر بڑھتی ہوئی قدغنوں، ٹی وی چینلوں اور میڈیا اداروں کی بندش پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا جس کے نتیجے میں میڈیا صنعت کوشدید بحران درپیش ہے اور بڑی تعداد میں میڈیا ورکرز اور صحافی بے روزگار ہورہے ہیں۔ اجلاس نے حکومت کی طرف سے صوبائی خودمختاری اور وفاقی اکائیوں کے آئینی، جمہوری اور داخلی امور میں مداخلت، منتخب حکومتیں گرانے کے رویہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے وفاق پاکستان کے لئے خطرہ قرار دیا۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ عوام کے آئینی، جمہوری، معاشی اور انسانی حقوق کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور ان کے دفاع کے لئے اپوزیشن متفق اور متحد ہو کر پوری قوت سے مزاحمت کرے گی۔ اس مقصد کے لئے مشترکہ کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا جس میں اپوزیشن کی تمام جماعتوں کی نمائندگی ہو گی۔ اس کمیٹی کو ذمہ داری سونپی گئی کہ وہ متحدہ اپوزیشن کے پارلیمان کے اندر اور باہر مستقبل کے لائحہ عمل، اشتراک عمل سے آگے بڑھنے اورایجنڈا کے لئے تجاویز مرتب کرے گی۔

Facebook Comments HS