تدبیر کے لیے وزیر ہی کیوں؟


نصابی اعتبار سے تھیوری آف سیٹیزن پارٹیسیپیشن سے مراد ایسا عمل ہے جو نجی سطح پر افراد کو حکومتی و ریاستی پالیسیوں پر اثر انداز ہونے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ ترقی یافتہ دنیا میں حکومتی فنڈنگ کے ساتھ بہت سے تھنک ٹینکس کام کرتے ہیں جو نہ صرف موجودہ حالات بلکہ مستقبل میں ممکنہ سیاسی و جغرافیائی تبدیلیوں کے امکانات پر اپنی حکومتوں کو پیشگی تجزیے اور لائحہ عمل تجویز کرتے ہیں۔ دوسری جانب ترقی پذیرملکوں میں خیال کیا جاتا ہے کہ کمزوری جمہوری ڈھانچے اور ناتوان سول سوسائٹی کے سبب نجی اداروں اور افراد کی طرف سے انتظامیہ اور اتھارٹی کے لیے ”اِن پٹ“ مفقود ہوتی ہے۔

حکمران اور مشینری اگر اہل بھی ہوں تو روز مرہ بنیادوں پرہنگامی حالات سے نمٹنے میں مصروف رہتے ہیں اور سٹریٹجک پلاننگ کے لیے وقت نہیں نکال پاتے۔ وائس آف امریکہ کے لیے اسد حسن نے ماہرین کی آرا پر مبنی ایک تجزیاتی رپورٹ میں استفسار کیا ہے کہ پاکستان میں تدبیرمملکت یا پالیساں بنانے کے عمل میں نجی اداروں اور غیرمعمولی افراد کی انفرادی طور پر شرکت کس سطح پر موجود ہے اور حکمرانوں اور پالیسی سازی کے درمیان خلیج کو کسی طرح سے پر کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں؟

معید یوسف، واشنگٹن میں قائم تھنک ٹینک یونائٹیڈ انسٹی ٹیوٹ آف پیس کے پاکستان سنٹر کے سربراہ ہیں۔ وائس آف امریکہ کے ساتھ گفتگو میں کہتے ہیں کہ ایگزیکٹو اور مشینری عام طور پر فائر فائٹنگ یعنی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے میں مصروف رہتے ہیں اور ان کے پاس مستقبل کے تجزیے اور اس کے لیے تدبیرسازی کا وقت نہیں ہوتا

” پاکستان میں مسائل زیادہ ہیں۔ تمام بیوروکریسی ہر وقت فائر فائٹنگ میں مصروف رہتی ہے۔ ایک بحران سے دوسرا دوسرے سے تیسرا۔ ان کے پاس سٹریٹجک تھنکنگ کا ٹائم ہی نہیں ہے“

دردانہ نجم صحافی ہیں۔ وہ مختلف انگریزی اخبارات اور تھنک ٹینکس کے لیے لکھتی رہتی ہیں۔ وی او اے کے ساتھ گفتگو میں کہتی ہیں کہ مغرب میں تھنک ٹینکس، جو زیادہ تر حکومت فنڈنگ پر چلتے ہیں اپنے منصوبہ سازوں کو رپورٹوں اور تجزیوں کی صورت ان پٹ دیتے رہتے ہیں۔ ان کے بقول پاکستان میں بھی تھنک ٹینکس تو بن گئے ہیں لیکن تحقیق کی کمی واضح محسوس ہوتی ہے

” پالیسی بنانے کے بہت سے محور ہیں۔ ان میں میڈیا اور تھنک ٹینک بھی اہم ہیں۔ وہ ڈییبٹ (مباحثہ) شروع کراتے ہیں، اتفاق رائے بنتا ہے تو اس پر پالیسیاں بنتی ہیں۔ مگر ہمارے ہاں پاکستان میں تھنک ٹینکس بھی بہت بن گئے ہیں، میڈیا بھی موجود ہے جس چیز کی دونوں جگہ کمی ہے وہ ہے تحقیق۔ ہم بحث کو تکرار میں بدل دیتے ہیں۔ ڈیبیٹ اورڈائیلاگ کا کلچر ختم ہو گیا ہے۔ تحقیق اول تو ہو نہیں رہی اور اگر ہو بھی رہی ہے تو دوہرائی کا شکار ہے۔ سوشل میڈیا اس بارے میں ہمارے رویوں کا عکس ہے“

پاکستان میں تحریک انصاف کی حکومت ہے۔ پارٹی کے سربراہ اور وزیراعظم عمران خان پر ان دنوں اس اعتبار سے سخت تنقید ہو رہی ہے کہ ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ان کے پاس کوئی تدبیر ہے اور نہ ٹیم۔ ان کے نقاد کہہ رہے ہیں کہ 23 سال سے سیاست کرنے والی پارٹی کے پاس مختلف شعبوں میں اصلاحات کے لیے منصوبے پہلے سے موجود ہونا چاہیئں تھے۔ لیکن حکومتی نمائندے یہ باور کراتے نظر آتے ہیں کہ نئی حکومت نے نظام میں وسیع تر تبدیلیوں اور اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے ٹاسک فورسز اور مشاورتی کونسلیں قائم کر دی ہیں۔

کیا یہ ٹاسک فورسز اور مشاورتی کونسلز سٹریٹجک پلاننگ میں خلیج کم کر سکتی ہیں، معید یوسف اس کا جواب اثبات میں دیتے ہیں

” امریکہ جیسے ملک میں جہاں بیوریوکریسی کی استعدادکار ( باقی دنیا کی نسبت) سب سے زیادہ ہے، وہاں بھی ریوالونگ ڈور تصور موجود ہے۔ مطلب آپ باہر سے ماہرین کو حکومت میں لے کر آئیں، دو تین سال ان کی خدمات سے استفادہ کریں۔ وہ آپ کو جدید تحقیق کے مطابق خدمات فراہم کریں گے، وہ اپنا تجزیہ دیں گے، سسٹم کو ٹھیک کریں گے اور گھر چلے جائیں گے۔ پاکستان میں چونکہ اس طرح کا سسٹم نہیں ہے، اس لیے جو مشاورتی کونسلز یا ٹاسک فورسز کی بات ہو رہی ہے میرے نزدیک یہ سٹاپ گیپ ہیں۔ یہ ریوالونگ ڈور کا متبادل نہیں لیکن دس بارہ نمایاں لوگ جو ہر ٹاسک فورس میں ہیں، اگر یہ اپنا کام کریں جیسے سوچا گیا ہے تو کسی حد تک یہ پالیسی ان پٹ کے خلیج کو پورا کر سکتی ہیں۔ “

حکومت کے نقادوں کا کہنا ہے کہ یہ مشاورتی کونسلز محض خانہ پری ہیں۔ وزرا اور عمال ان کونسلز کی تجاویز کو سنجیدگی سے نہیں لیتے ہیں۔ ڈاکٹر اشفاق حسن، پاکستان کے ممتاز ماہراقتصادیات ہیں۔ وہ اعلی عہدوں پر فائز رہے ہیں اور اس وقت حکومت کی طرف سے اقتصادی مشاورتی کونسل کا حصہ ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ انہیں سنا جا رہا ہے۔

” تنقید برائے تنقید ہمارا کلچر بن گیا ہے۔ ہم جو مشورہ حکومت کو دے رہے ہیں، اس پر عمل بھی ہوتا ہے۔ ہم ریفارمز ایجنڈا کو بنانے میں بھی کچھ حد تک شامل ہیں۔ “

ڈاکٹراشفاق کہتے ہیں کہ حکومت کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ اس کے پاس ترجمان ٹھیک نہیں ہیں۔ اگر دو سے تین اچھے ترجمان ہو جائیں جو عوام کو بتائیں کہ ہو کیا رہا ہے تو میڈیا پر جو خلیج آپ کو نظر آتا ہے، یہ نہیں ہو گا۔ ”

تاہم وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ماہرین کی منصوبہ سازی میں شرکت سے اوپر بیٹھے لوگ خود کو غیرمحفوظ ضرور سمجھنے لگ جاتے ہیں۔

شمع جونیجو لندن میں مقیم ہیں۔ انہوں نے اداروں کی حرکیات پر ڈاکٹریٹ کر رکھی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ نہ صرف تھنک ٹینکس بلکہ افراد بھی پالیسی سازی میں اہم ہوتے ہیں لیکن پاکستان میں حکمران اس ضروری ان پٹ کو بھی ذاتی پسند نا پسند کی بھیٹ چڑھا دیتے ہیں۔

” ہمارے جیسے لوگوں کا پالیسی سازی کے عمل کا حصہ بننا مشکل ہے۔ زلفی بخاری جیسے لوگ اچانک سامنے آ جائیں گے بھلے کسی کی بھی حکومت ہو۔ جب تک ہم پارٹیوں کے جھنڈے نہیں اٹھائیں گے، ان کے نعرے نہیں لگائیں گے، کوئی بھی حکومت ان کو پوچھے کا نہیں۔ “

ڈاکٹر عبدالجبار شعبہ صحافت اور تدریس سے وابستہ ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ سٹریٹجک تھنکنگ کے فقدان کی ایک وجہ سیاسی حکومتوں کا باختیار نہ ہونا اور مقتدر اداروں کا سویلین اداروں کو مضبوط نہ ہونے دینا ہے۔

معید یوسف اور ڈاکٹر اشفاق حسن کہتے ہیں کہ ٹاسک فورسز اور مشاورتی کونسلز کافی حد تک پبلک پارٹی سیپیشن کی ضرورت کو پورا کر رہی ہیں لیکن اس عمل کو زیادہ مربوط اور پائیدار بنانے کی ضرورت ہے۔

Facebook Comments HS

اسد حسن

اسد احمد وائس آف امریکا کے نشریاتی ادارے سے وابستہ ہیں۔ اور اپنی پیشہ ورانہ سرگرمیوں کے علاوہ کھیلوں بالخصوص کرکٹ کے معاملات پر گہری آنکھ رکھتے ہیں۔غالب امکان ہے کہ آئندہ کرکٹ ورلڈ کپ کے دوران ّہم سبٗ پڑھنے والے اسد احمد کے فوری، تیکھے اور گہرے تجزیوں سے لطف اندوز ہو سکیں گے۔

asad-ahmad has 16 posts and counting.See all posts by asad-ahmad