ہماری جمہوریت: دی اکانومسٹ کی نظر میں
جمہوریت کے حوالے سے برطانوی جریدے“ دی اکانومسٹ ”کی رپورٹ کو نہ صرف پڑھنا بلکہ اسے سنجیدہ لینا بھی ہمارے لیے ناگزیر ہے۔ اس رپورٹ میں اکانومسٹ کے تحقیقاتی ادارے انٹیلی جنس یونٹ کے نئے جمہوری معیارات کے مطابق دنیا کے بیشتر ملکوں میں جمہوریت روبہ زوال ہے، جن میں پاکستان بھی شامل ہے۔ رپورٹ میں ناروے، آئس لینڈ، سویڈن، نیوزی لینڈ، ڈنمارک، کینیڈا، آئرلینڈ، فن لینڈ، آسٹریلیا اور سوئٹزرلینڈ کو علی الترتیب دنیا کے ٹاپ ٹین جمہوری ملکوں میں شمار کیا گیا ہے جبکہ برطانیہ 14 ویں، امریکہ 25 ویں، بھارت 41 ویں اور پاکستان کو 112 ویں نمبر پر رکھا گیا ہے۔
اس رپورٹ میں تحقیقاتی ادارے کی جانب سے دنیا کی حکومتوں کو چار کیٹیگریز میں تقسیم کیاگیاہے، یعنی مکمل جمہوری حکومتیں، تقریباً یا ناقص جمہوری حکومتیں، نیم جمہوری یا مخلوط حکومتیں جبکہ چوتھے نمبر پر مطلق العنان یا آمرانہ حکومتیں ہیں۔ یوں اس تقسیم کی رو سے بھی ہمارا شمار تیسرے درجے یعنی نیم یا مخلوط طرزکی جمہوری حکومتوں میں ہوتاہے۔ برطانوی جریدے کی اس رپورٹ کو پڑھنے کے بعد ہمارے پاس دو آپشن رہ جاتے ہیں جن میں سے ہم نے ایک کا انتخاب کرنا ہے۔ پہلا اور ہٹ دھرمی پر مبنی آپشن یہ ہے کہ ہم برطانوی جریدے کی اس رپورٹ کو یہ کہہ کر مسترد کردیں کہ
”یہ تو کفری دنیا کے اتہامات اور الزامات ہیں اس پر دھیاں دینا ہی وقت کا ضٰاع ہے۔ یا ہم اس رپورٹ یہ سمجھ کر مسترد کریں کہ ایسے سرویز اور قیاس آرائیوں کو تو ہم جوتے کی نوک پہ رکھتے ہیں۔ مغربی ممالک کے اخبارات اور جریدوں کا ہر وقت یہ وتیرہ رہا ہے کہ ان سے مسلم ملکوں کی ترقی اور خوشحالی ہضم نہیں ہو پا رہی، اور پھر پاکستان جیسے ملک کی ترقی اور روبہ ترقی جمہوریت تو ہمیشہ ان ملحدیں کی آنکھ میں کھٹکتی ہے کیونکہ یہ عالم اسلام کی واحد ایٹمی طاقت ہے، ایک زمانے میں ہم نے سوویت یونین جیسی طاقت کو بھی ناکوں چنے چبوائے تھے اور اب امریکہ بھی پریشان ہے کہ کہیں مستقبل میں یہ اس کے لئے درد سر نہ بن جائے، وغیرہ وغیرہ۔
جبکہ دوسرا اور معقول آپشن ہمارے پاس یہ ہے کہ ہم ”دی اکانومسٹ“ کی اس تحقیقی رپورٹ کوپڑھ کر اسے سنجیدہ لیں۔ ہم برطانیہ کے اس معیاری جریدے کی رپورٹ کو خوامخواہ قیاس آرائی، جھوٹ، تہمت، اتہام اور حسد پر محمول نہ کریں اور سوچیں کہ اکانومسٹ ہے تو برطانوی جریدہ، لیکن اس نے اپنی رپورٹ میں اپنے ملک برطانیہ کو چودہویں اور ناروے کو کیوں پہلے نمبر پر رکھا ہے؟ ہمیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ اس جریدے نے امریکہ جیسی سپر طاقت کو بھی خاطر میں نہیں لایا ہے اور وہاں کی جمہوریت کو بھی مکمل جمہوریت کہنے کی بجائے پچیسواں نمبر دیا ہے۔
اس کے بعد ہمیں یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ ہمارے ہاں بات ضرور بگڑی ہوئی ہے اور دال میں کالا ضرور ہے۔ اس رپورٹ میں ایک اور بات بھی ہمیں سنجیدہ لینے کا متقاضی ہے، وہ یہ کہ آخر کیا وجہ ہے کہ جمہوری اقدار میں ہمارے ہمسایہ ملک بھارت نے بھی ہمیں مات دے رکھی ہے؟ وہ بھارت جوہماری آزادی کے برسوں بعد نہیں بلکہ چند گھنٹوں کے بعد آزاد ہواتھا، جس کی آبادی بھی ہم سے چھ گنا زیادہ اور قابو سے باہر ہے، جہاں پربھی غربت اور بے روزگاری نے پنجے گاڑے ہوئے ہیں اور جہاں کے لوگ بھی ہمارا جیسا مزاج رکھتا ہے اور جہاں کی آب وہوا بھی یہاں سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہے؟ ان سب حقیقتوں کو ٹھنڈے سینے کے ساتھ ماننے کے بعدہمیں غور کرنا ہوگاکہ ”دی اکانومسٹ نے کیوں ہماری جمہوریت کو روبہ زوال کہہ کرہمیں ایک سوبارویں نمبر پر رکھا ہے؟
اس کیوں کا جواب ڈھونڈنے کے لئے ہم نے اپنے ماضی کو بھی سامنے رکھنا ہے اور حال کا بھی جائزہ لینا ہوگا۔ صرف ماضی قریب اور حال ہی کے جائزے پر اکتفا کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ ”کیا مملکت خداداد میں ہر پانچ سال کے بعد بننے والی حکومتیں عوام الناس کی مرضی ومنشا سے بنتی ہیں یا ان کی بناوٹ میں کچھ اور غیر مرئی قوتوں کا بھی ہاتھ ہوتا ہے؟ کیا ریاست کے چار ستونوں میں سے پہلا ستون ( پارلیمنٹ ) با اختیار اور طاقت کا سرچشمہ ہے یا محض ربڑ اسٹمپ بنا ہوا ہے؟ کیا ہماری مسلح افواج سویلین اداروں کے امور میں بالواسطہ یا بلا واسطہ دخیل تو نہیں ہیں؟ کیا ہماری عدالتوں سے لوگوں کو انصاف مل رہا ہے؟
کیا ہمارے ملک میں دستور اور آئین حقیقت میں ایک مقدس دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے یا اس کو محض کاغذ کا ایک نکما ٹکڑا سمجھا جاتا ہے؟ کیا لوگوں کو اپنا اظہار مافی ضمیر یا کسی پر تنقید کے لئے رائے کی آزادی میسر ہے یا نہیں؟ کیا اخبارات اور ٹی وی چینلز آزاد اور خود مختار ہیں یا اس پر چلنے اور شائع ہونے والی ہر خبر اور ہر تحریر کو پہلے سنسر شپ کے آزمائشوں سے گزرنا پڑتا ہے؟ کیا ریاست کے تمام ادارے اپنے اپنے دائرہ کار میں اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں؟ کیا سیاسی جماعتوں میں چند مخصوص خاندانوں کی اجاری داری تو نہیں ہے؟ کیا اسٹیٹس کو اور ترقی کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے والی قوتیں یہاں پر منظم تو نہیں ہیں۔ اس جائزے کے بعد ہی یہ گتھی سلجھائی جا سکتی ہے۔


