حسن نثار وزیر اعظم کا مشیر بننا چاہتے ہیں ؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

 

باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ معروف صحافی حسن نثار نے وزیر اعظم کو اشاروں کنایوں میں پیغام دیا ہے کہ وہ وزیر اعظم کے مشیر کا منصب قبول کرنے پر تیار ہیں۔ ایک ٹیلی ویژن پروگرام میں حسن نثار نے کہا ہے کہ میں نے مفت مشوروں کی فیکٹری نہیں لگائی اور نہ ہی میں عمران خان کو نصیحت کروں گا لیکن اگر مجھ سے مشورہ لیا جائے گا تو میں ضرور مشورہ دوں گا۔

صحافی حسن نثار نے نجی ٹی وی میں بات کرتے ہوئے کہا کہ اس حکومت کی کارکردگی دیکھ کر شدید ندامت ہوتی ہے۔ مجھے لگتا تھا کہ یہ بابو لوگ ہیں ان کو اندازہ ہوگا کہ ہوم ورک کی اہمیت کیا ہے۔ مگر آج افسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے کچھ بھی نہیں کیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ میں جب ایسی باتیں سنتا ہوں، جب یہ ٹاسک فورسز بناتے ہیں، میرا خون کھولتا ہے اور میرے منہ سے مہذب گالیوں کے سوا کچھ بھی نہیں نکلتا۔

حسن نثار کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان کی ساری زندگی داو پر لگ چکی ہے۔ یہ جو ماجھے ساجھے اکٹھے ہو گئے ہیں ان کا کیا ہے۔ ان میں سے کوئی 2 پارٹیاں پھر کے آیا ہے اور کوئی 4 پارٹیوں کی خاک چھان آیا ہے۔ ان کا کیا ہے، یہ تو کل کو کسی اور پارٹی میں چلے جائیں گے۔ اسٹیک ہولڈر صرف اور صرف عمران خان ہے۔  دس بیس سال بعد ہم ہوں نہ ہوں، لوگ برے الفاظ میں عمران خان کے دور کو یاد کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان للوں پنجووں کا کیا ہے۔ عمران خان کی ساری زنندگی کی محنت داو پر لگ چکی ہے۔ یہ فائنل روانڈ بڑے اہم ہوتے ہیں۔ انہوں نے نپولین واٹر لو اور یلدرم جیسے بڑے ناموں کے ماتھے پر کلنک لگا دئیے ہیں۔

حسن نثار کا کہنا تھا کہ یہ کامن سینس بھی استعمال نہیں کر رہے۔ یہ یاد رکھیں کہ یہ الٹا لٹک جائیں، غیر ملکی سرمایہ کاری نہیں آئے گی۔ کوئی برادر ملک ترس کھا کر چار پیسے لگا دے تو ٹھیک ورنہ ان لوگوں کی حرکتیں سب کچھ گنوا دیں گے۔

اسی بات چیت کے دوران حسن نثار نے وزیر اعظم عمران خان کو اشاروں کنایوں میں بتایا کہ وہ ان کو مشورہ دینے کے لیے تیار ہیں لیکن جب تک ان سے مشورہ مانگا نہیں جائے گا، وہ مشورہ نہیں دیں گے۔ اس کے بعد کچھ حلقوں کا کہنا ہے کہ حسن نثار اشاروں کنایوں میں وزیر اعظم عمران خان کو بطور مشیر اپنی خدمات پیش کرنا چاہ رہے ہیں۔

حسن نثار کی گفتگو کے لئے ویڈیو ملاحظہ کریں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •