ابھی انتظار کر چیف جسٹس! اب محشر میں ہو گی ملاقات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 720
  •  

ایک من گھڑت کہانی :
پرانے زمانے کی بات ہے
وقت کا چیف جسٹس اپنی رٹائرمنٹ والے دن شہر کی مرکزی مسجد میں لوگوں سے مخاطب تھا۔

لوگو!

میں نے تمہارا بھلا چاہا۔ تمہارے بھلے کے لیے میں نے سخت سے سخت تر قدم اٹھایا۔ پھر بھی اگر مجھ سے بھول چوک ہوگئی ہو تو مجھے معاف کردینا۔ اور مجھے اچھے الفاظ میں یاد رکھنا۔ تم سب کے درمیان یہ میرا آخری دن ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ جاتے جاتے بھی تمہارے درمیان انصاف کرتا جاؤں۔ اگر کسی نے کوئی مقدمہ پیش کرنا ہے تو ابھی اٹھ کر کہہ دے۔

جمع کا دن تھا اور مسجد کا صحن کھچا کھچ بھرا تھا۔

سفید کپڑوں میں ملبوس ایک نوجوان اٹھ کھڑا ہوا۔

آپ کے قلم کی جنبش سے مجھے پھانسی کی سزا مل چکی ہے حضور! حالانکہ میں نے قتل نہیں کیا تھا۔ میں چیختا رہا۔ مگر اس دن آپ جلدی میں تھے۔ آپ کو حاکمِ وقت کے دربار میں حاضر ہونا تھا۔ آپ نے مجھے نہیں سنا اور سزا سنا دی۔

جس وقت پھانسی کے پھندے میں میری گردن ڈالی جا رہی تھی، میری ماں رو کر خدا کو کہہ رہی تھی کہ میں اپنے بے گناہ بیٹے کا مقدمہ کہاں لے کر جاؤں؟

خدا نے کہا ابھی انتظار کر۔

مسجد کے صحن میں ایک بوڑھا اٹھ کھڑا ہوا۔

حضور! میں چالیس سال سے جیل میں پڑا ہوں۔ جوان لڑکا تھا، جب ایک چھوٹی سی چوری کے الزام میں پکڑا گیا۔ میرا مقدمہ عدالت میں پیش ہی نہیں کیا گیا۔ یہاں تک زندگی ختم ہونے کو ہے۔ میں ہر رات رو کر خدا کو کہتا ہوں کہ میرے ساتھ انصاف کب ہوگا؟

ہر رات خدا کہتا ہے کہ ابھی انتظار کر۔

مسجد کی پچھلی صف سے آواز آئی۔

حضور! میں کئی برس سے فریاد لیے آپ کی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا تا رہا۔ مگر اندر آپ کا دل لبھانے والے مسخروں اور آپ کے قہقہوں میں میری دستک کی آواز ہر بار دب جاتی تھی۔ تھک کر میں نے خدا کا دروازہ کھٹکھٹا یا کہ کہاں لے جاؤں میں اپنی فریاد۔

خدا نے کہا کہ ابھی انتظار کر۔

ایک شخص نے بھیڑ میں سے گردن اٹھا اٹھا کر چیف جسٹس تک اپنی آواز پہنچانا چاہی۔
حضور میرے بچے کئی راتوں سے بھوکے سورہے ہیں۔ میرا مقدمہ فائلوں میں مارا مارا پھر رہا ہے، میرا فیصلہ ابھی تک نہیں ہوا۔

جس دن میری فائل آپ کے سامنے فیصلے کے لیے پیش کی گئی تھی، اس دن ملک کے امیر ترین تاجر نے بہت ہی مہنگے ہوٹل میں آپ کے اعزاز میں کھانا کیا تھا۔ جس وقت آپ اپنے بچوں کے ساتھ کھانے کی اس مہنگی ٹیبل پر بیٹھے تھے، عین اس وقت میرے بچے روتے روتے بھوکے سو گئے تھے۔

میرے بھوکے بچے نے جب خدا سے شکوہ کیا تو اس نے کہا کہ ابھی انتظار کر۔

مسجد کے کھچا کھچ بھرے صحن میں کئی لوگ اٹھ اٹھ کر بولنے لگے۔ بڑھتے ہوئے شور سے گھبرا کر چیف جسٹس چیخ پڑا۔ جو ہوگیا سو ہو گیا۔ اب بولو۔ ابھی کیا کرسکتا ہوں میں تمہارے لیے۔ بتاؤ۔ کیا چاہتے ہو۔ ؟

ابھی یہ شور چل ہی رہا تھا کہ مسجد کے داخلی دروازے پر ایک ہلچل سی شروع ہوگئی۔ لوگ گردن گھما گھما کر اندر داخل ہونے والے کو حیرت سے دیکھ رہے تھے۔ آنے والا ان سب کے لیے اجنبی تھا اور سیدھا چیف جسٹس کی طرف چلا آ رہا تھا۔ چیف جسٹس گو کہ اسے پہچانتا نہیں تھا، مگر اس میں کچھ ایسا ضرور تھا کہ چیف جسٹس کی سانس حلق میں ٹھہر سی گئی۔

وہ سیدھا آکر چیف جسٹس کے سامنے کھڑا ہوگیا۔

مجھے انصاف چاہیے۔

تم کون ہو؟ چیف جسٹس نے گھبرا کر پوچھا۔

میں خدا ہوں۔

اس کی آواز سب کو سنائی دے رہی تھی۔ یہ سن کر کہ آنے والا خود کو خدا کہہ رہا ہے اور چیف جسٹس سے انصاف مانگ رہا ہے، مسجد کے بھرے ہوئے صحن میں سناٹا چھا گیا۔ چیف جسٹس جیسے پتھر کا بُت بنا کھڑا رہ گیا۔ ذرا بھی جنبش نہ ہوئی اس میں۔

اب صرف وہ بول رہا تھا اور سب کو اپنی شہ رگ کے قریب اس کی آواز سنائی دے رہی تھی۔

مجھے انصاف چاہیے چیف جسٹس! ۔ میرے لاپتہ ہوچکے بندے لوٹا دے۔ میرے بندوں کی لاپتہ ہوچکی عمر لوٹا دے۔ میرے بندوں کا لاپتہ ہوچکا وقت لوٹا دے۔ مجھے انصاف چاہیے چیف جسٹس۔ مجھے میرے بندوں کے ضائع ہوچکے آنسو لوٹا دے۔

چیف جسٹس کا پورے کا پورا وجود خوف سے لرز رہا تھا۔ اچانک وہ آنے والے اجنبی کے سامنے دو زانو ہوکر گر پڑا اور ہاتھ جوڑ کر، سسک سسک کر رحم مانگتا جاتا تھا اور اپنی صفائی پیش کرتا جاتا تھا کہ وہ حاکمِ وقت کے احکامات کی بجا آوری میں مصروف کر دیا گیا تھا۔ اسے وقت ہی نہ ملا۔ قصور اس کا نہیں حاکمِ وقت کا ہے۔

آنے والے نے دکھ سے چیف جسٹس کو دیکھا۔

کہا

ہر دور کے حاکمِ وقت کی کرسی کے نیچے دوزخ کی آگ جلتی ہے۔ جس میں ہر دور کی حکمرانی راکھ ہوتی ہے۔ افسوس تو نے اس بے ثبات کرسی کے نیچے جلتی آگ میں۔ انصاف جیسی انمول چیز کو راکھ کا ڈھیر بنا دیا۔ افسوس۔ صد

افسوس۔

یہ کہہ کر وہ واپس جانے کے لیے مسجد کے مرکزی دروازے کی طرف پلٹا۔

چیف جسٹس نے اسے جاتا دیکھ کر پیچھے سے ایک بار پھر رحم کے لیے صدا بلند کی۔

مگر وہ لوگوں کی بھیڑ سے گزرتا دروازے تک پہنچ چکا تھا۔

دروازے پر لمحہ بھر کو رکا۔ پلٹ کر سسکتے چیف جسٹس کو دیکھا اور دکھ میں ڈوبی مسکراہٹ مسکراتے ہوئے الوداعی انداز میں ہاتھ بلند کیا۔

ابھی انتظار کر چیف جسٹس۔ اب محشر میں ہوگی ملاقات۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 720
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

نورالہدیٰ شاہ

نور الہدی شاہ سندھی اور اردو زبان کی ایک مقبول مصنفہ اور ڈرامہ نگار ہیں۔ انسانی جذبوں کو زبان دیتی ان کی تحریریں معاشرے کو سوچنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔

noor-ul-huda-shah has 85 posts and counting.See all posts by noor-ul-huda-shah