لاہور: مرا محبوب، مرا قاتل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میرا دکھ اور سکھ دونوں ایک ہی ہیں کہ میں لاہور کی طرف یوں لوٹتا ہوں جیسے کوئی عاشق نامراد اپنے محبوب دلربا کی طرف۔ جانے ابتدائے آفرینش، وہ کون سی ساعت تھی جب میرے خالق، مالک اور رازق نے میرے وجود کا خمیر لاہور کی مٹی سے اٹھایا اور کن فیکون کی صدا لگاتے اس کی محبت بھی کوٹ کوٹ کر میرے روئیں روئیں میں بھردی۔ میں جہاں بھی گیا، لوٹا تو اسی کے پاس آیا۔ یہ اور بات کہ اس شہر بے مثل کی جم پل ہونے کے باوجود میں اس کے پیچ دار گلی کوچوں اور کشادہ شاہراہوں سے ہمیشہ نا واقف رہا، اور اب میٹرو بس، اورنج ٹرین، رنگ روڈوں کے پھیلے جال، انڈرپاسز اور اوورہیڈ برجز کے بعد تو میں اپنے اس محبوب شہر کے لئے بالکل ہی اجنبی ہوگیا۔ نوعمری سے ہی اخبارات و جرائد سے وابستگی نے غم روزگار میں گلی گلی، در در کی خاک چھاننے سے بچائے رکھا۔

یادش بخیر، میرے محبی و محسن اور دنیائے صحافت کے ”شاہ جی“ عباس اطہر نے اسلام آباد سے ایک اخبار کا اجراء کیا تو لاہور کے نوجوان اخبارنویسوں کی پوری ڈار کی ڈار ہی اڑان بھر کر دریا پار ہجرت کرگئی۔ انہی میں اس وقت کا یہ ٹرینی بھی آخری بھرتی کے طورپر رخت سفر باندھ کر کوچ کرگیا۔ سبزہ نوخیزکے درمیان کھلے، خوشبو بکھیرتے رنگارنگ پھولوں، شبنم سے دھلے حسن و جمال کی تجسیم میں ڈھلے ماہتابی و آفتابی چہروں نے خوب رجھایا مگر کھل کے قہقہہ لگانے اور ہاتھوں پر ہاتھ مار نے کے سواد کو یہاں کے لوگ ہمیشہ ترستے۔

کوٹ، پینٹ اور نکٹائی کی اکڑن شاید انہیں اس بدتمیزی کی اجازت نہ دیتی، اور ایک لاہوریا اس کے بغیر ادھورا تھا۔ ایوان صدر، وزیراعظم ہاؤس، پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ کی پرشکوہ عمارتوں کے جلو میں پارلیمنٹ لاجز میں پرتعیش رہائش کے باوجود تھڑے پر بیٹھ کر شیشے کے گلاس میں چائے کی چسکیاں بھرنے اور گپیں ہانکنے کی ترساہٹ سب سے بڑی محرومی تھی۔ جناح سپر سے لے کر میلوڈی تک آ نکھیں سیکنے والے تمام لاہوریوں نے بالآخر پہاڑوں کے دامن میں قائم ڈھابوں میں پناہ ڈھونڈ ہی لی۔

چارپائیوں پر بیٹھ کر کڑاہی میں تڑکا لگی دال سبزی اور تنور کی گرم گرم روٹیوں کا اپنا ہی مزہ تھا۔ اسلام آبادی صحافت کو لاہوری رنگ میں رنگنے والا ”لاہوری گروپ“ اس شہر حسن و جمال کی نکھری سبحوں اور سجری شاموں میں کسی نہ کسی فٹ پاتھ پر براجمان ہوکر لاہور کا تذکرہ کر کر اس طرح گریہ کرتا جیسے شب عاشور کی آخری گھڑیوں میں شام غریباں اور گریباں چاک کرتے مومنین کرام۔

ہر پندرواڑھے گھر آنے کے باوجود بوڑھی ماں، جوان بیٹے کی دیار غیر مزدوری پر آٹھ آٹھ آنسو بہاتی اور جھریوں بھرے لرزتے ہاتھ جوڑ کر واپسی کی التجا کرتی، روکھی سوکھی چٹنی روٹی پر قناعت کا درس دیتی۔ واری صدقے جاتی اور دوسرے روز ویران آنکھوں میں آنسو بھر کے ڈھیروں دعاؤں کے ساتھ رخصت کرتی۔ آخر اس کی دعا یا بددعا رنگ لائی اور مجھ سمیت تمام کے تمام لاہوریوں کی طبیعت لالہ رخ شہر کی اداس خوبصورتی سے اوبھ گئی۔ ٹرانسفر کی کوششیں ناکام ٹھہریں تو چنگی بھلی نوکریوں کو لات مار سبھی لاہورئیے ایک ایک کرکے اپنے گھروں کو لوٹتے چلے گئے۔ ہرکسی نے کفران نعمت کی سزا بھگتی، بیروزگاری کا دکھ جھیلا اور مارا مارا پھرا۔ روزنامہ صداقت سے دربدری کے بعد چھوٹے بڑے تمام اخبارات میں رسوا ہوا۔

صحافت کو منافقت کا پہلا نام دے کر یہ بد دل نوجوان علم بغاوت بلند کرکے اپنا کاروبار کرنے چل پڑا۔ ملکوں ملکوں ہر شہر میں کتاب میلے سجائے، پھر کتاب بینی ترک کرکے کتاب فروشی پر اتر آیا۔ ترقی کرتے کرتے دبئی جا پہنچا، ڈیرہ سجایا، اس جہان رنگ وبو میں اپنا نام کمایا اور خوب رنگ جمایا۔ بوڑھی ماں کی علالت پر وطن واپس آیا تو قدرت نے ایک ہی آپشن چھوڑا کہ یا تو بیمار ماں کو بستر مرگ پر مرتا چھوڑ کر اپنا کاروبار چمکائے یا اسے اپنے ہاتھوں قبر میں اتارنے کی سعادت حاصل کرے۔

دوسرا آپشن اختیار کیا اور چلتا کاروبار ترک کرنا پڑا۔ اس طرح ایک بار پھر یہ خانماں برباد لاہوریا اپنی جنم بھومی میں بیروزگاری کی خاک چھاننے لگا۔ مکافات عمل ہوا اور پھر اس کاروان صحافت کے منافقین میں ازسرنو شامل ہوگیا۔ اس دوران بہت سا پانی پلوں تلے بہہ گیا، یاران تیزگام نے محمل کو جالیا۔ گردش زمانہ میرا محبوب لاہور، غم روزگاراور اپنی خستہ تنی کے ساتھ اخباری صفحات کالے کرنے کی کان کنی، لیکن اس سے زیادہ تکلیف یہ کہ میرا محبوب میرا قاتل بن چکا۔

لاہور میٹرو بس سروس

اس کی فضا میں گھلا آلودگی کا زہر میری نس نس میں اتر کر سانسوں کو بھاری اور چھلنی سینے کو بوجھل کیے دیتا ہے۔ دل کی گھٹن اور روح کی چھبن کسی دم چین نہیں لینے دیتی۔ زمین سے آسمان تک تنی دھوئیں اور گرد و غبار کی دبیز چادر تازہ ہوا کا جھونکا اور سورج کی تمازت میرے نحیف و نزار جسم تک پہنچنے ہی نہیں دیتی۔ چہرے پر ماسک چڑھائے رکھنے کے باوجود رات گئے گھر پہنچنے پر ناک کے نتھنوں سے ڈھیروں کالا غلیظ بلغم برآمد ہوتا ہے تو زندگی کے خوف سے دھندلی آنکھوں کے ماند پڑتے ڈیلے باہر آنے لگتے ہیں۔ تعفن زدہ ماحول میں دمہ کا مریض کب تک جی پائے گا۔

لیکن میری بپتا کون سنے، جب آنکھوں میں دور کے سہانے خوا ب سجیہوں، کان دور کے ڈھولوں کی تھاپ پر شاداں و فر حا ں ہوں اور تصورات میں نئے جہاں آباد ہوں۔ ہم دوشِ ثریا ہونے کی خواہشوں میں ہماری زمین بنجر ہونے لگی اور حال یہ ہے کہعروج آدم خاکیکے چرچے آسمانوں پر ہیں۔ وہ کیا ہے جو ہم نے حاصل نہیں کرلیا، پرندوں کی مانند ہوا کا سینہ چیرتے ہوائی جہاز، سمندروں کی چھاتی پر ہچکولے لیتے بحری جہاز، پردیس کی باتوں کو کان کے پردوں پر انڈیلنے والے موبائل فون، جھرنوں کیآوازیں پیدا کرتے آلات موسیقی، اپنے سے بے خبرکرتے، ہر لمحہ دنیا بھر کی خبر دینے والے ٹیلی ویژ ن۔

گھنٹوں کا سفر منٹوں میں طے کرنے والی گاڑیاں، موسموں کی شدت کو کم کرنے والے لباس۔ غرض وہ کیا نہیں، جو اس ابنِ آدم نے اپنے تخئیل سے زیادہ حاصل نہ کر لیا ہو۔ مگر خوشنما غباروں جیسے خوابوں میں اپنے جہاں کے مسائل فراموش کرتا چلا گیا، ستارہ سحری کی خبر رکھنے والا اپنے ہی حال سے بے خبر ہوتا اوراس کی مسکراہٹیں سکڑتی چلی گئیں۔ اب عالم یہ کہ گندم کی بالیاں اور سرسوں کے پھول مہکتے تو ہیں، مگر ان میں بھرا زہر ہماری نسل کو ذہنی اور جسمانی طور پر تباہ کیے جا رہا ہے۔

جنت کی ایک نعمت دودھ سے بیماریاں جنم لینے لگیں، پانی کی بوتلوں میں بیماریاں بٹتی ہیں، ہر تازہ سبزی کرم کش زہروں سے دھلی ہے، ہر نیا پھول کسی ہارمون کی بدولت کھلا ہے، ِ رزق کی فراوانی تو ہے، مگر خوراک جزوبدن نہیں بنتی، وٹامن کی گولیاں چہروں پر نظر کی عینکیں سجاتی، مصنوعی گھی ہڈیوں کوبھربھرا کرتا، ہر چکنائی کولسٹرول بڑھاتی، ہر مٹھاس سے ذیابطیس کا اندیشہ لاحق۔ ویکسین زہر بن جائے، دردکم کرنے والی دواؤں سے درد بڑھتا چلا جائے۔ جب ترقی کی روشنی سے اپنے ہی بچوں کا مستقبل چندھیا نے لگے۔ ایسے میں کوئی تو ہو جو ایک لمحے ٹھہر کر سوچے کہ چاند کی چاہ میں وہ اپنے گھر کے چراغوں کا قاتل کیوں بنتا جا رہا ہے۔ مگر ترقی کی دوڑ میں اتنی فرصت کسے نصیب۔ یہی میری اور میرے جیسے کتنے ہی نحیف و نزار روحوں کی بدنصیبی ہے۔

ماہرینِ ماحولیات چیخ چیخ کر بتا رہے ہیں کہ ہمیں پھر سے وہ بستیاں بسانی ہیں جہاں پودوں کا ہرا رنگ کسی پینٹ کا نہیں، قدرت کے کلوروفل کا مرہون منت ہو۔ پھر سے اپنے جانوروں کو ایسی خوراک دینی ہے جو فطری اجزا پر مشتمل ہو تاکہ ان سے حاصل ہونے والا گوشت اور دودھ ہماری صحت کا ضامن بن سکے نہ کہ د شمن۔ پھر سے زمینوں کو ایسی غذائیت دینی ہیجو انسان کے لئے متوازن اور صحت بخش بن سکے۔ اگر اپنی نسلوں کی بقا عزیز ہے تو فطرت سے رجوع لازم ہے، ورنہ سب چراغ بجھ جائیں گے اور ہر طرف اندھیرے کا راج ہوگا۔

حضرتِ انسان کی کاروباری سوچ اتنی پست کہ اس نے پہلے زمین کی فضا اتنی آلودہ کردی کہ سانس گھٹ جائے اور پھر کہیں ہوا صاف کرنے والی مشین بن رہی اور فروخت ہورہی ہے اور کہیں صاف ہوا کا دھندہ جاری ہے۔ آکلینڈ کے انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر واقع ڈیوٹی فری شاپ پر ”پیور فریش نیوزی لینڈ ائیر“ کے نام سے 4 ڈبے رکھے گئے، جن کی قیمت 100 ڈالر تھی۔ ایک مقامی کمپنی کی جانب سے بنائے گئے اس کین پر ایک ماسک ہے جسے منہ سے لگا کر سانس لی جاتی ہے۔

کمپنی اسے دنیا بھر میں فروخت کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں اوردرجہ حرارت میں اضافے سے پاکستان کی دو سو ملین سے زاید آبادی کو سب سے زیادہ خطرات لاحق ہیں۔ 2018 کیگلوبل کلائمٹ رسک انڈیکس میں پاکستان ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے، جو موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔ پیش گوئیوں کے مطابق اسی خطے میں درجہ حرارت میں اضافے کی رفتار سب سے زیادہ رہے گی۔ صدی کے اختتام تک اوسط درجہ حرارت میں چار ڈگری سینٹی گریڈ تک اضافے کا امکان ہے۔

تقریباً بیس برسوں میں موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کے سبب پاکستان میں سالانہ بنیادوں پر 523.1 اموات اور مجموعی طور پر 10,462 اموات ریکارڈ کی گئیں۔ اس عرصے میں طوفان، سیلاب اور دیگر قدرتی آفات کے سبب تقریباً چار بلین امریکی ڈالرزکے مساوی مالی نقصان ہوا۔ 1945 میں چار لاکھ ہیکٹر زمین پر تمر کے جنگلات تھے۔ اب یہ رقبہ گھٹ کر ستر ہزار ہیکٹر تک رہ گیا۔ پچھلیسات آٹھ برسوں میں آنے والے سیلابوں کے نتیجے میں کئی سوافراد ہلاک ہو گئے۔

سیلابی ریلوں نے ساڑھے اڑتیس ہزار اسکوائر کلومیٹرز رقبہ تباہ کرڈالا، جس کے مالی نقصانات کا تخمینہ دس بلین ڈالرز تھا۔ کراچی میں تین برس قبل آنے والی ہیٹ ویووز نے بارہ سو افراد کو لقمہ اجل بنا دیا۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات سے بچنے کے لیے پاکستان کو سالانہ بنیادوں پر سات سے چودہ بلین ڈالرز درکارہیں اور یہ واضح نہیں کہ یہ فنڈز کہاں سے ملیں گے۔ ہم کیا کررہے ہیں، یہ سب کے سامنے ہے۔ حالات کا ماتم اپنی جگہ لیکن یہ سوال سوہان روح کہ میرے بچوں کا کیا قصور جن کے جوان چہروں کو ابھی سے زردی نگلنے لگی اور چمکدار آنکھوں کی جگہ لگتا ہے دو کالے پتھر جڑے ہوں۔ یہ میں نہیں میری نسل کا نوحہ ہے جسے سننے والا کوئی نہیں۔ اے میرے لاہور۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •