میں غزل کے خلاف نہیں ہوں
ٹھیک یہی معاملہ ہمارے یہاں غزل کے شاعر اور قاری دونوں کے ساتھ پیش آیا ہے۔ عبداللہ حسین نے اپنے ایک خط میں ساقی فاروقی کو گالی دیتے ہوئے لکھا تھا کہ اردو کا شاعر طویل چیز نہ لکھ سکتا ہے، نہ پڑھ سکتا ہے، وہ بیچ میں ہی ہانپ جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا جملہ ہے جو غزل اور اس کی تہذیب پر ایک زبردست ضرب کی حیثیت رکھتا ہے، بات سوچنے سمجھنے والوں کے لیے کافی ہے۔ اس بات کا گہرا احساس اس وقت ہوتا ہے جب آپ کسی طویل اور اچھے ناول پر بنی ہوئی فلم دیکھتے ہیں۔
میرے ساتھ ایسا واقعہ مارکس زوزک کے ناول ’دی بک تھیف‘ کو پڑھ کر اس پر بنی ہوئی فلم دیکھ کر پیش آیا، جتنا کتاب نے دیش بھکتی کے نام پر پھیلائے جانے والے خوف وہراس اور لوگوں میں پیدا ہونے والی بے حسی کو اجاگر کیا ہے، جس کے ایک ایک منظر میں آپ کو فخر اور فخر کی پیدا شدہ بھیانک تصاویر دکھائی پڑتی ہیں۔ لیزل میمنگر، روڈی، ہانس ہوبرمین، اس کی بیوی، یہودی کردار میکس وینڈنبرگ، میئر کی بیوی جیسے کردار، ان کے جذباتی اور ذہنی معاملات باریکی سے دیکھنے اور جاننے کا موقع ملتا ہے، کسی سماج میں نفرت کی نفسیات کے پیدا ہونے، پنپنے کے نقصانات کا اندازہ ہوتا ہے، وہ سب کے سب فلم دیکھتے وقت ایک عجیب سے بے ہودہ مذاق میں تبدیل ہوجاتے ہیں، وجہ یہی ہے کہ ایسے وسیع ناول کو دو یا دیڑھ گھنٹوں کے چھوٹے سے کوزے میں قید کرپانا تقریبا نا ممکن ہے۔
غزل پر دو سنجیدہ قسم کے اعتراضات اور ہیں۔ پہلا تو یہ ہے کہ غزل نے ترکیب میں الجھی ہوئی ایک نقلی طرح کی زبان کو اتنا فروغ دیا ہے کہ اس تیز رفتار زمانے میں بھی روایتی قسم کی غزلیں لکھنے والوں کی گردن اور پیٹھ ہمیشہ جھکی ہوئی ہی دکھائی پڑتی ہے۔ دوسرا اعتراض یہ ہے کہ غزل نے اردو نثر لکھنے والوں کو بھی اچھا خاصا مولوی بنا رکھا ہے اور وہ بھی اتنا بھونڈا کہ ان کی زبان غزل کے ایک ایسے چاپلوس عاشق یا کسی درگاہ کے گھگیاتے ہوئے مجاور کی شکل اختیار کرجاتی ہے، جس کو کوئی بات لکھتے وقت یہی اندازہ نہیں ہوتا کہ اچھی اور شستہ شائستہ اردو لکھنے کے چکر میں وہ اس شخص کا مذاق بناچکا ہے، جس پر اپنے قلم کو گھسنے کی محنت کررہا ہے۔ ایسا ایک جملہ مجھے حال ہی میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ہی اردو ڈیپارٹمنٹ کے ایک شرارتی طالب علم نے دکھایا۔ ایک صاحب نے اردو کے اچھے خاصے تندرست پروفیسر کے بارے میں غزل والی اردو میں چنے چباتے ہوئے جو کچھ لکھا، اس کی ابتدا یہاں سے ہوتی ہے۔
’پروفیسر فلاں فلاں صاحب اردو دنیا کی ایک نئی الف لیلوی شخصیت ہیں اور انہیں واقعی عجوبہ روزگار کہا جاسکتا ہے۔ ”
آپ دیکھیے، جب کوئی شخص غزل میں نئے مضامین کو بھرنے کی کوشش کرے گا تو اول تو اس کے چہرے کو ہی لقوہ مار جاتا ہے، دوسرے ہمارے ایسے غزل گو شور مچانے لگتے ہیں، جن کو غزل میں کسی بھی طرح کے تجربے سے سخت چڑ ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ غزل کو اس کی پرانی شکل میں محفوظ رکھا جائے۔ معلوم ہوا کہ غزل نہ ہوئی، اچھا خاصہ اسلام ہوگیا کہ جتنا بھی زمانہ گزر جائے، اس کے قانون میں کوئی تبدیلی ممکن نہیں۔ اس کے پیچھے بھی جو نفسیات کام کرتی ہے، اس میں نئی شاعری کے قبول ہوتے ہی ترکیبوں والے شاعروں کو نظر انداز کردیے جانے کا ایک خوف لاحق ہوتا ہے۔
پھر بہت سے ایسے نقاد اور ’زبان داں‘ ہیں، جن کی روزی روٹی میر کی تشریح و تفسیر میں گزر گئی ہے۔ ان کی پوری زندگی میں لے دے کر بس ایک یہی کمال رہ گیا ہے کہ وہ میر سے لے کر داغ تک کی زبان اور ان کے الفاظ کی مختلف تعبیریں بیان کرتے پھریں۔ یہ سارے کمالات سر آنکھوں پرمگر ان کا ہماری ذہنی ترقی سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔ ایسے لوگ سماج میں سوچ بچار کے رویے کو پنپنے سے روکتے ہیں بلکہ غزل کی روایتی اور جامد شکلوں کی حمایت ہی اس لیے کرتے ہیں تاکہ ان کو جس کی وجہ سے قابل و دانا سمجھا جارہا ہے، اس موضوع کی پاکدامنی پر کوئی حرف نہ آنے پائے۔
غزل کا معاملہ کسی ٹٹ پنجیا شاعر کے اس شعر کی سچی تعبیر سے زیادہ اور کچھ نہیں
زمانہ ہے کہ آگے بڑھ رہا ہے
تو چودہ سو برس پیچھے پلٹ جا
ہندوستان میں ان دنوں شاعری کا بڑا زور ہے۔ جسے دیکھیے غزل کہنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔ مجھے آئے دن ایسے لڑکے لڑکیوں کے پیغامات بھی ملتے ہیں، جن میں یہ سوالات پوچھے جاتے ہیں کہ آخر غزل کیسے لکھی جائے، بحر کیسے سیکھی جائے؟ ظاہر ہے کہ ان سوالوں کے پیچھے شہرت کی وہ حسین چاندنی ہے، جسے غزل پڑھنے والوں سے زیادہ غزل سننے والوں نے فروغ دیا ہے۔ مشاعرہ کی دو صدیوں پر محیط تاریخ نے واہ وا کی ایسی بوندیں پلائی ہیں کہ اچھے خاصے عقلمند لوگ خراب قسم کے شعر کہہ کر واہ واہی بٹورنے کی لالچ میں خود کو بھونڈا بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔
یہیں پچھلے دو برس میں ایک عجیب بات یہ نظر آئی کہ کوئی صاحب یا صاحبہ ایک مشاعرہ منعقد کرتے ہیں، جس میں یہ شرط ہوتی ہے کہ تمام شاعر شیروانی پہن کر اپنا کلام سنائیں گے۔ بھئی سوال غزل کی تہذیب کی حفاظت کا ہے، اب چاہے اس حفاظت میں ہماری سوچ اور مطالعے کی عادت یا تخلیقی صلاحیتوں کا کتنا ہی نقصان کیوں نہ ہورہا ہو، دو چار بار پہلے بھی کہہ چکا ہوں اور اب بھی کہوں گا کہ اسی وجہ سے اب اردو میں بالکل نئے لکھنے والے اچھی کہانیاں نہیں لکھ پارہے ہیں۔ یقین نہ ہو تو ایسے ناموں کی تلاش آج سے ہی شروع کردیجیے، جواب خود بخود مل جائے گا۔

