زندگی۔ اے زندگی


گاڈون آسٹن کے قریب ایک پہاڑی ہے، جس پہ کے۔ ٹو کی پرچھائیاں نہیں پڑتی۔ سورج نکلنے کی صورت میں اس مقام پہ خاصی دھوپ بھی چمکتی ہے اور پھول بھی کھلتے ہیں۔ چڑھائی سے پہلے، گلکی اکثر یہاں وقت گزارا کرتا تھا۔ اپنے گھر لکھے گئے ایک خط میں اس نے اس جگہ کا ذکر ان الفاظ میں کیا تھا۔

” مجھے اس سے زیادہ مسرت کہیں اور حاصل نہیں ہو سکتی۔ “

گلکی کو چھوڑ کر باقی لوگ، جب بیس کیمپ پہنچے تو نقصان کا احساس، دلوں کو بری طرح رگیدتا تھا۔ زندہ رہ جانے والوں نے دھوپ کے اس جزیرے پہ کچھ پتھر جوڑ کر گلکی کی یاد کا ایک مختصر سا مینار تعمیر کیا۔ اوپر تلے رکھے گئے ان پتھروں کے دامن میں اس کا بکسہ، ساتھیوں کی کچھ نظمیں، اجتماعی یادداشتیں اور انفرادی زوال کا ناقابل بیان احساس، ایک کدال کی نگرانی میں چھوڑ کر رخصت کا اعلان ہوا۔

1953 کی جس اگست میں یہ واقعہ یش آیا، حبس کی اسی فصل میں ایک اور اطالوی جماعت کے۔ ٹو کو سر کرنے کے لئے راولپنڈی پہنچی۔ آپ اگلے سال اس جماعت کے ساتھ سکردو پہنچیں، اسکولے قیام کریں، بالتورو کی تھوتھنی دیکھیں اور پھر اردوکس (رودوکس) کے راستے کنکارڈیا پہنچیں۔ بیس کیمپ پہ موسم خراب ہو جائے تو ایک اور ساتھی کا انتقال ہو جائے، اس رات الاؤ کے کنارے بیٹھ کر آپ، اس ہنزئی حمال سے قریب قریب متفق ہو جائیں جو یہ کہہ رہا ہو
”یہ پہاڑ ظالم ہے، ہر سال جان لے کر ٹلتا ہے۔ “۔
اور اٹھ کر چل پڑے۔ اس کے ساتھ کئی اور لوگ ارادہ باندھ دیں۔

آپ یاسیت کی اس گھڑی میں اگلے سال کی ایک مہم کے لئے چارلس ہیوسٹن کے ساتھ آنے کا ارادہ کر لیں۔ اور کچھ دن بعد 31 جولائی کو پاکستان کا پرچم، اطالوی پرچم کے ساتھ ساتھ کے۔ ٹو پہ لہرائے۔

یہ سب کرنے کے بعد آپ واپس پہنچیں، دیس پردیس میں خبر اخبار بنیں تو چند ماہ بعد مزید ترقی کی بجائے آپ کی نوکری ختم ہو جائے۔ آپ کو گمان ہو کہ ایسا ممکن نہیں اور آپ گورنر جنرل کو لکھیں تو جواب ملے کہ ترقی دینا یا نہ دینا، حکومت کا اسحقاق ہے اور حکومت وجہ بتانے کی پابند نہیں۔

یہاں پہنچ کر کتاب ختم ہو جاتی ہے مگر زندگی، ایک نئی زقند بھرتی ہے۔ بچوں کی تعلیم، نئے گھر کی تعمیر کے لئے درکار سرمائے کے بندوبست، مستقبل میں روزگار کے امکانات جیسے اندیشوں میں گھرا ہوا ذہن، چند غیر معمعولی فیصلوں کی بدولت، ایک بالکل نئی زندگی گزارتا ہے جس کی ہنگامہ خیزی، اوپر لکھی گئی سطور سے کہیں زیادہ ہے۔

پتہ نہیں کافی پلانیٹ کے پرلے کونے کی میز پہ ابو بکر نے ایسا کہا تھا یا کوہسار کے قریب، ظفر اللہ خان نے یہ نکتہ ہاتھ میں دے دیا کہ تیس کا سن، رائیگانی کا سن ہے۔ پاکستان میں گزرے کچھ دن، راستے میں عمان کے ساحل پہ گزرے چند گھنٹے اور گھر پہنچنے کے بعد اس شہر میں گزرنے والے کئی پل، اب رائیگانی کا وہ منظر دکھائی دیتے ہیں جن میں امید کسی دور افتادہ جزیرے کا قلعہ نظر آتی ہے۔ مگر کیا کریں، کشتی کھینے کا یارا تو خیر کب کا سمندر برد ہو گیا تھا، منہ زور طوفانوں میں تسخیر کے نئے خواب بھی لہروں کے سپرد ہو گئے۔

رجائیت کے اسی موسم میں اس ہنگامہ خیز زندگی کی تفصیل پتہ چلی۔ آدھا تذکرہ آپ نے سن لیا، آدھا باقی ہے۔ ہم کتاب پڑھتے ہیں اور کچھ دیر کے لئے کھو جاتے ہیں۔ لکھنے والے کے اس قافلے میں ہمارا سفر، بس تحیر کی بس ایک قسط ہوا کرتا ہے۔ لوگ باگ دس سال کی تصویریں جوڑ جوڑ کر جان رہے ہیں کہ کامرانی کی سلطنت کیسی شاد کام رہی ہے۔ جب کہ زندگی کا مرفی نامہ، جن قصوں کو ترستا ہے، وہ اس کتاب کے پوسٹ سکرپٹ میں ملتے ہیں۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2