کیا نہرو نے کشمیر کے مشترکہ الحاق کی تجویز کی حمایت کی تھی؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

برطانیہ کی خفیہ دستاویزات سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ 1948 میں جب کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ میں زیر بحث تھا، کشمیر کے ہندوستان اور پاکستان کے ساتھ مشترکہ الحاق کی تجویز پیش کی گئی تھی۔ یہ تجویز کس نے پیش کی تھی اور کس کے ایما پر پیش کی گئی تھی۔ اس کا انکشاف برطانیہ کے دولت مشترکہ کے تعلقات کے وزیر گورڈن واکر کے اس خفیہ تار سے ہوتا ہے جو انہوں نے 20 فروری 1948 کو دلی میں ہندوستان کے وزیر اعظم پنڈت نہرو سے اپنی ملاقات کے بارے میں برطانوی حکومت کو بھیجا تھا۔ یہ تار ان دستاویزات میں شامل ہے جن کی فائل ایک طویل عرصہ کے بعد پچھلے دنوں پہلی بار کھولی گئی ہے۔

گورڈن واکر کے اس تار سے انکشاف ہوا ہے کہ فروری 1948 میں دلی میں ہندوستان کے وزیر اعظم نہرو اور گورڈن واکر کے درمیان ملاقات میں شیخ عبداللہ نے ہندوستان اور پاکستان کے ساتھ کشمیر کے مشترکہ الحاق کی تجویز پیش کی تھی اور ان کا اصرار تھا کہ مسئلہ کشمیر کے تصفیہ کے لئے یہ تجویز برطانیہ اور امریکا کی طرف سے پیش کی جائے۔ بعد میں نہرو نے گورڈن واکر سے کہا تھا کہ کشمیر کے مسئلہ کا تصفیہ شیخ عبداللہ کی اس تجویز کی بنیاد پر ہو سکتا ہے۔

فروری 1948 میں برطانیہ کے دولت مشترکہ کے وزیر گورڈن واکر کشمیر کا تنازعہ سلامتی کاونسل کے باہر طے کرانے کے لئے ہندوستان اور پاکستان کے وزر ا اعظم کے درمیان روبرو ملاقات کی کوشش کے لئے دلی اور کراچی کے دورے پر گئے تھے۔

کشمیر کے مشترکہ الحاق کے بارے میں جس انداز سے یہ تجویز پیش کی گئی تھی وہ ڈرامے سے کم نہیں تھا۔ 20 فروری 48 کو دلی میں یہ ملاقات دراصل پنڈت نہرو اور گورڈن واکر کے درمیان تھی لیکن عین اُس وقت جب یہ ملاقات ہو رہی تھی نہرو، شیخ عبداللہ کو کمرے میں لے آئے اور وہ یہ کہہ کر کمرے سے چلے گئے کہ گورڈن واکر اور شیخ عبداللہ اکیلے میں بات چیت کر لیں۔ اس سے پہلے کہ نہرو کمرے سے باہر جاتے، شیخ عبداللہ نے ہندوستان اور پاکستان سے کشمیر کے مشترکہ الحاق کی تجویز پیش کی، اس موقع پر گورڈن واکر کی نہرو سے اس تجویز پر تفصیل سے بات نہیں ہو سکی، البتہ جب بعد میں بات ہوئی تو نہرو نے یہ اشارہ دیا کہ کشمیر کے مسئلہ کا تصفیہ اس تجویز کی بنیاد پر ہو سکتا ہے۔

تمام قرائن سے بات واضح ہوتی ہے کہ شیخ عبداللہ نے نہرو سے پوری طرح سے صلاح مشورہ اور ان ہی کی ایما پر برطانوی حکومت کو یہ تجویز پیش کی تھی اور اس کا مقصد استصواب رائے کی پیش کش سے دامن چھڑانا تھا۔

Patrick Gordon Walker

گورڈن واکر کے ساتھ اس ملاقات میں شیخ عبداللہ نے یہ دعوی بھی کیا کہ پاکستان کی حامی اور ان کی حریف سیاسی جماعت مسلم کانفرنس مشترکہ الحاق کے حل کو تسلیم کر لے گی اورانہیں بھروسہ تھا کہ وہ اپنی جماعت نیشنل کانفرنس سے بھی اس کی منظوری حاصل کر لیں گے۔ اس موقع پر نہ تو شیخ عبداللہ نے اس بات کی وضاحت کی کہ وہ کس بیناد پر یہ دعوی کر رہے ہیں اور نہ گورڈن واکر نے اس دعوی کی بنیاد جاننے کی کوشش کی۔ گورڈن واکر نے اپنے تار میں یہ انکشاف بھی کیا کہ انہوں نے کشمیر کی تقسیم کا امکان ٹٹولنے کی کوشش کی تھی اور استفسار کیا تھا کہ استصواب رائے پوری ریاست جموں و کشمیر میں مجموعی طور پر ہو یا الگ الگ علاقوں میں الگ الگ ہو اور ان کے نتایج کے مطابق کشمیر کی تقسیم ہو۔

اس ملاقات میں نہرو نے یہ عندیہ بھی دیا تھا کہ گو وہ اب مزید تقسیم کے خلاف ہیں لیکن اگر استصواب رائے کے نتیجہ میں کشمیر تقسیم ہوتا ہے تو وہ اس کو رد نہیں کریں گے۔

20 فروری 48 کی اس ملاقات میں نہرو نے گورڈن واکر سے کہا تھا کہ گو وہ ہمیشہ پاکستان کے وزیر اعظم لیاقت علی خان سے بات چیت کے لئے تیار ہیں لیکن یہ بات چیت سود مند ثابت نہیں ہوگی۔ گورڈن واکر نے اس ملاقات میں نہرو کو لیاقت علی خان سے رو برو بات چیت پر راضی کرنے کے لئے یہ دلیل پیش کی تھی کہ اس وقت جب کہ سلامتی کاؤنسل میں بحث ملتوی ہے بات چیت بہتر رہے گی اور ان کا خیال تھا کہ پاکستان بھی اس بات چیت کے لئے آمادہ ہو جائے گا کیونکہ ان کی اطلاع کے مطابق، قبائلی پاکستان کے لئے شدید مسئلہ بنتے جا رہے ہیں۔

گورڈن واکر نے اپنے تار میں لکھا تھا کہ نہرو کا یہ اصرار تھا کہ استصواب رائے کے دوران شیخ عبداللہ کی عبوری حکومت برقرار رہے اور سلامتی کاؤنسل استصواب کے لئے جو شخص بھی نامزد کرے اسے یہ عبوری حکومت مقرر کرے۔ نہرو نے یہ یقین دلایا تھا کہ قبائلیوں کی واپسی کے بعد ہندوستان کی فوج کی خاصی تعداد کشمیر سے واپس بلا لی جائے گی اور جو ہندوستانی فوجی دستے وہاں رہیں گے وہ پورے کشمیر کے بجائے چند خاص علاقوں میں تعینات رہیں گے۔

دلی کی ملاقات کے بعد گورڈن واکر سیدھے کراچی گئے تھے جہاں وزیر اعظم لیاقت علی خان اور گورنر جنرل محمد علی جناح سے ملاقاتیں ہوئیں۔ ان ملاقاتوں کے بارے میں گورڈن واکر نے اپنے تاروں میں کہا تھا کہ لیاقت علی خان نے مجوزہ استصواب رائے کے نتیجے میں کشمیر کی تقسیم کے امکان کو یکسر مسترد کردیا اور کہا کہ یہ پاکستان کے لئے ناقابل قبول ہوگا اس کے ساتھ لیاقت علی خان نے زور دیا کہ ریاست میں استصواب کے لئے لازمی ہے کہ وہاں سے ہندوستانی فوج واپس بلا لی جائے اور غیر جانبدار حکومت نظم و نسق سنبھالے۔

یہ بات اہم ہے کہ گورڈن واکر نے لیاقت علی خان سے کشمیر کے مشترکہ الحاق کے بارے میں شیخ عبداللہ کی تجویز پر بات نہیں کی۔

گورڈن واکر نے قاید اعظم سے اپنی ملاقات کے بارے میں لکھا تھا کہ ان کا کہنا تھا کہ شیخ عبداللہ کی حکومت کی موجودگی میں استصواب ایک گھٹیا ناٹک ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیر کا مسئلہ سیدھا سادا ہے۔ ہر مسلمان پاکستان میں شامل ہونا چاہتا ہے اور ہر ہندو ہندوستان میں شامل ہونا چاہتا ہے اور کشمیر میں بھاری اکثریت مسلمانوں کی ہے۔

گورڈن واکر کے دلی اور کراچی کے دوروں کے بعد برطانوی حکومت کی یہ رائے تھی کہ کشمیر کے مسئلہ پر ہندوستان اور پاکستان کے وزرائے اعظم کی بات چیت کرانے کی کوشش بے سود ہے۔ چنانچہ یہ کوشش ترک کر دی گئی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آصف جیلانی

آصف جیلانی لندن میں مقیم پاکستانی صحافی ہیں۔ انہوں نے اپنے صحافتی کرئیر کا آغاز امروز کراچی سے کیا۔ 1959ء سے 1965ء تک دہلی میں روزنامہ جنگ کے نمائندہ رہے۔ 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران انہیں دہلی کی تہاڑ جیل میں قید بھی کیا گیا۔ 1973ء سے 1983ء تک یہ روزنامہ جنگ لندن کے ایڈیٹر رہے۔ اس کے بعد بی بی سی اردو سے منسلک ہو گئے اور 2010ء تک وہاں بطور پروڈیوسر اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔ اب یہ ریٹائرمنٹ کے بعد کالم نگاری کر رہے ہیں۔ آصف جیلانی کو International Who’s Who میں یوکے میں اردو صحافت کا رہبر اول قرار دیا گیا ہے۔

asif-jilani has 34 posts and counting.See all posts by asif-jilani