پاکستان ہی میں بے توقیر ہوتی ہوئی پاکستانی ریاست

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سچ کہتا ہوں کہ اس موضوع پر خیال کا دائرہ اک عرصہ سے مکمل تھا، مگر اعتراف کرتا ہوں کہ خوف کا بھی شکار تھا اور اب بھی ہوں۔ خوف اس لیے کہ میرے وطن میں قانون میری سمت میں، میرے سر پر چھتری کی چھاؤں بن کر نہیں کھڑا ہوا۔ مجھے لکھنے، بولنے، کہنے پر اٹھا لیے جانے کا خوف ہے اور یہ خوف بلاوجہ اس لیے بھی نہیں کہ اپنے ہی حلقہء ارباب میں چند دوست اٹھائے گئے اور ان میں سے ایک تو قریباً ایک سال کے بعد ایسا برآمد ہوا کہ پہچاننے میں ہی نہ آتا تھا۔ شاید اٹھا لیے جانے والوں کی محض تذلیل مقصود تھی جو پاکستانی شہریوں کے سر پر بنیادی آئینی حقوق کی چھتری میں سینکڑوں ہزاروں چھید دیکھ کر، بہت دھڑلے سے کی گئی۔

خوش قسمت تھے کہ رہا کر دیے گئے۔ رہا نہ بھی کیے جاتے تو کسی نے اہلکاروں اور ان کے اداروں کا کیا بگاڑ لینا تھا۔ میرا سر تو پچھلے 46 برس سے ننگا ہے، اب تو اپنی کمر کے ننگے ہونے کا بھی احساس شدید تر ہوتا چلا جا رہا ہے۔

یہ گزارشات بالکل بھی تحریر نہ کرتا، اگر ساہیوال والا واقعہ نہ ہوا ہوتا۔ شاید اگر ساہیوال والا واقعہ ہوا بھی ہوتا تو بھی خاموش رہتا، مگر ان دو بیٹیوں اور ان کے بھائی کی ایک تصویر نے اپنے وجود و ذہن پر مسلسل خوف کے باوجود بات کہنے پر مجبور کر دیا۔

یہ تینوں پولیس، یا سی ٹی ڈی نے وقوعہ سے فائرنگ کا نشانہ بننے والی گاڑی سے نکالے اور انہیں اک قریبی پٹرول پمپ پر کوڑے کے طرح پھینک کر وہاں سے بھاگ نکلے۔ یہ تینوں پولیس یا سی ٹی ڈی نے نہیں، میری ریاست نے استعمال شدہ کنڈومز کی طرح ایسے پھینکے کہ پلٹ کر دوبارہ نہ دیکھا۔ اس اہانت، بے چارگی اور یتیمی کا احساس شاید کچھ کم ہوتا اگر میری ریاست کے اہلکار ان بچوں کو کسی ہسپتال میں ”پھینک“ آتے۔ جفا کے بعد تھوڑی وفا ہی دکھا دیتے۔ کیا برا ہوتا؟

میرا ماننا ہے کہ کائنات اور ریاست کے زمان و مکاں کی گھڑی اور رستہ میں، بطور اک فرد، میری اہمیت اک بجھتے ہوئے نقطے سے زیادہ کی نہیں۔ میں مگر 2019 میں رہ رہا ہوں، 20019 قبل مسیح میں نہیں تو خود کو پاکستانی شہری کے طور پر اک آئینی، قانونی اور منظم ریاست کے ساتھ اصول اور ضابطوں کے ماتحت منسلک دیکھتا ہوں۔ میں اپنی ریاست کا وکیل ہوں اور اس سے محبت کرتا ہوں۔ تو جب ریاست میرے کسی حق کا مذاق بناتی ہے، تو صاحبو، تکلیف کا اک خنجر ہے، جو سینے میں پیوست ہو جاتا ہے۔

مجھے خوف میں لپٹے ہوئے یہ کہنا ہے کہ پاکستان میں ریاست، ریاستی اہلکاروں اور شہریوں کے باہمی اعتماد کا تعلق سوتی دھاگے جیسا پتلا ہو چکا ہے۔ معاشی حالت نے معاشرے کی کمر پر کاری ضربیں لگائی ہیں، اور آرمی چیف صاحب بھلے جتنی مرضی ہے کاروباری حضرات سے ملاقاتیں کرتے رہیں، کاروباری حضرات سن لیں گے، مانیں گے نہیں کہ میرے وطن میں، میری ریاست سے تعلق کی عمومی فضا اب بداعتمادی بھی شاید آگے بڑھ چکی ہے۔ جو شخص چار پیسے کما پاتا ہے، وہ اک دوسرے پاسپورٹ کا بندوبست کر لیتا ہے۔

ڈالر ایک سو چھ روپوں کا تھا تو آرمی چیف صاحب نے اکتوبر 2017 میں بڑھتے ہوئے قرضوں پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا جس پر بعد میں ڈی جی آئی ایس پی آر صاحب نے اک ٹی وی پروگرام میں یہ کہا کہ معیشت بری نہیں تو اچھی بھی نہیں ہے۔ موجودہ حکومت 30 نومبر تک ایک کھرب اور دس ارب تک کے نئے قرضے لے چکی تھی، ڈالر اوپن مارکیٹ میں 140 سے اوپر ٹریڈ ہو رہا تھا، اور ہدایت یہ موصول ہوئی کہ چھ ماہ تک میڈیا اچھی خبریں چلائے۔ آرمی چیف صاحب نے اکتوبر 2017 میں کشکول سے بیزاری کا اظہار کیا تھا، موجودہ حکومت کے لیے آرمی چیف صاحب، بقول جناب شہباز شریف صاحب، خود فنڈز کا بندوبست کر رہے ہیں۔

الیکشن کمشن میں آر ٹی ایس کے بند کر دیے جانے پر اک تحقیقاتی رپورٹ میڈیا پر موجود ہے جہاں مبینہ طور پر اک ”نامعلوم“ کالر کے کہنے پر سسٹم بند کر دیا گیا۔ 90 فیصد فارم 45 پر پولنگ ایجنٹس کے دستخط ہی موجود نہیں، مگر اک عظیم روحانی رہنما کی کامیابی کے موقع پر وتُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ کی مسکراتی ٹویٹ بہرحال موجود ہے۔

میں بھی آمنا و صدقنا کہہ کر انصافی دھمال شروع کر دیتا اگر میری ریاست کی نمائندگی کرنے والوں کا معیار کچھ سکون آور ہوتا۔ ساہیوال واقعہ پر ہی ایسی بدترین ہینڈلنگ دیکھنے کو ملی کہ جس نے طبیعت مزید مکدر کر ڈالی کہ یہ اک تسلسل کو روک کر ہم پر کیا عذاب مسلط کر دیے گئے۔

حال ہی میں ریٹائر ہونے والے چیف جسٹس، جناب ثاقب نثار صاحب کی ریٹائرمنٹ کے دن ان کے بارے میں سماجی فضا نہایت منفی تھی۔ اس کی بھی کچھ وجوہات تو ہوں گی ناں۔ نواز شریف صاحب جیسے بھی تھے، ملک کے منتخب وزیرِ اعظم کو تحقیر سے سزا دے کر گھر بھجوا دیا گیا، روحانی صاحب کی 350 کنال کی جھونپڑی پر صرفِ نظر کیا جب بنی گالہ شریف میں دیگران کے گھر مسمار کیے جارہے تھے۔ بیس لاکھ عدالتی مقدمات کی موجودگی میں بڑے صاحب ڈیم بناتے رہے، ڈیم کے فنڈز کے لیے بیرون ملک کے دورے کرتے رہے اور نس بندی کی کوششیں کرتے رہے۔ میڈیا پر کوریج ہوتی رہی۔ بیانات دیتے رہے۔ عوام نے پھر بولنا ہی تھا۔

پولیس کا محکمہ عوام کی نظر میں شاذ ہی وقار کا حامل رہا ہے۔ جبکہ ریاست کے باقی اداروں کو بھی عوام یا تو خوف کی نظروں سے دیکھتے ہیں، یا پھر اپنے جائز کاموں کے لیے بھی مٹھیاں گرم کرنا عین عبادت سمجھتے ہیں۔ باہمی اخلاص پر مبنی تعلق موجود نہیں۔

عرصہ قبل پاکستان میں ہی رہنے کا اک شعوری فیصلہ کیا تھا۔ اب بھی اسی فیصلے پر قائم ہوں۔ مگر مسلسل بے توقیر ہوتی ہوئی اور اس بے توقیری سے لاتعلق مگر انتظامی طاقت کے بے دریغ استعمال پر یقین رکھتی ہوئی ریاست میں، میں رہ تو لوں گا، کیا مگر جی پاؤں گا؟ میں تو اس ریاست سے کلام کرنے میں خوف کا شکار رہتا ہوں، میں اس سے کیا محبت کر پاؤں گا؟ کیا خوف اور محبت ساتھ ساتھ اکٹھے موجود رہ سکتے ہیں؟ کبھی رہے بھی ہیں؟
میں جب ریاست کا وفادار ہوں، تو ریاست میرے زخموں پر مرہم کیوں نہیں رکھتی؟ مزید زخم ہی کیوں دیے جانے پر مصر ہے؟ کیوں؟

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
––>