عمیر، منیبہ اور ہادیہ کیا کریں گے ؟

(عمیر، منیبہ اور ہادیہ کیا کریں گے ؟)
وسعت اللہ خان

جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کے روبرو محمد عمیر ولد محمد خلیل کا تحریری بیان کچھ یوں ہے کہ انیس جنوری کو میں، ماں نبیلہ ، پاپا خلیل ، بڑی بہن اریبہ اور دو چھوٹی بہنیں منیبہ اور ہادیہ صبح تقریباً آٹھ بجے سفید آلٹو گاڑی میں نکلے جسے ہمارے ہمسائے انکل ذیشان چلا رہے تھے۔

جب ہماری گاڑی ساہیوال قادر آباد کے قریب پہنچی تو پیچھے سے اچانک کسی نے ہماری گاڑی پر فائرنگ کی اور گاڑی فٹ پاتھ سے ٹکرا کے رک گئی۔ پولیس کے دو ڈالے تیزی سے گاڑی کے پاس آ کر رکے ۔ان میں سے چند نقاب پوش پولیس اہلکاروں نے فوری فائرنگ کر کے انکل ذیشان کو مار دیا۔

پھر فائرنگ رکی اور ایک پولیس اہلکار نے کسی کو فون ملا کر بات کرنا شروع کردی ۔ اتنے میں پاپا نے انہیں کہا ہمیں نہ مارو ، ہمیں معاف کر دو ، ہم سے پیسے لے لو ، تلاشی لے لو ہمیں مت مارو ۔فون پر بات کرنے والے پولیس اہلکار نے فون بند کرنے کے بعد اپنے ساتھیوں کو اشارہ کیا ۔انہوں نے دوبارہ گاڑی پر گولیاں چلانا شروع کر دیں۔

میرے پاپا خلیل، ماما نبیلہ، بڑی بہن اریبہ موقع پر جاں بحق ہو گئے ۔ میری ٹانگ اور منیبہ کے ہاتھ پر گولی لگی ۔ پاپا نے مرنے سے پہلے منیبہ اور ماما نے مجھے اور ہادیہ کو ایک دم سیٹ کے نیچے اپنے پاؤں میں لٹا لیا اور خود ہمارے اوپر آ گئیں ۔یوں ہماری جان بچ گئی ۔

Read more

سات سالہ یشفہ سے کچھ نہ پوچھو

مبینہ دشتگرد کا گھر دلائل سے گونج رہا تھا۔ گورنر پنجاب کا پروٹوکول لگ چکا تھا۔ سب ان کی آمد کا انتظار کر رہے تھے۔ میں نے اس موقع کو بہترین جانا۔ اشارے سے سات سالہ یشفہ کو اپنے پاس بلایا۔ جیسے ہی میں نے اس کی آنکھوں کی بے بسی دیکھی ایک دم سنگ دل پھٹ سا گیا۔ ننھی یشفہ کو بہلانے کے لئے ادھر ادھر کے سوال پوچھنے لگی کہ سکول جاتی ہو؟ کون سی کلاس میں پڑھتی ہو؟ مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیسے اس کو اس موضوع کے لئے تیار کروں۔ اس سے پہلے کسی ٹی وی اداکار (رپورٹر) نے اس سے بات نہیں کی تھی۔

بڑی ہمت باندھ کر میں نے پوچھا کہ آپ کے بابا کدھر ہیں؟ اس نے جواب میں بڑے یقین سے کہا ”آپ کو پتہ ہے“ ۔ میں نے زور دیتے ہوئے سوال دہرایا۔ اس نے پھر وہی جواب دیا۔ میں نے اس کے گال پر پیار کرتے ہوئے جب تیسری بار یہی پوچھا تو اس نے کہا۔ ”آپ میرا مذاق اڑا رہی ہیں ناں؟“ اس جملے نے گویا میرے کان کے پردے پھاڑ دیے۔

Read more

سانحۂ ساہیوال کا منطقی انجام کیا ہو گا؟

بنیاد تو یہ ہے دوستو کہ میرا وطن پاکستان اک مضبوط سیاسی ریاست ہے۔ مگر یہ اک ذمہ دار جمہوری ریاست نہیں ہے۔ سچ یہ ہے کہ جنوبی ایشیاء کے تمام اور دنیا کے اکثریتی ممالک، سیاسی ریاستیں ہیں، مہذب جمہوری ریاستوں کی تعداد بہت کم ہے۔

اس پر دو طرح کے دلائل آ سکتے ہیں۔

پہلی دلیل تو یہ ہے کہ ہمیں دل و جان سے اس سیاسی ریاست کو اک ذمہ دار جمہوری ریاست بنانے کے لیے تگ و دو کرنی چاہیے، چاہے اس کے لیے ہمیں کچھ بھی کرنا پڑے۔ یہ وہ رومانوی خواب ہے جو پاکستان کے آغاز میں ترقی پسند دانشوروں نے دیکھا اور دکھایا۔ اور بعد میں کچھ ترقی پیپلز پارٹی نے اپنے تئیں آئینی جمہوریت کے مقدمہ کو پاکستانی معاشرت میں آگے بڑھا کر کی۔

Read more

معصوم ذہن کیا سوچتے ہیں؟

پچھلے دنوں دہشت گردی کے واقعات ایسے ہوئے ہیں جو ذہن سے ہٹ ہی نہیں رہے ہیں خاص طور پر ساہیوال واقعہ۔ اس پر اتنا لکھا جاچکا ہے اور پڑھا جاچکا ہے، ہر محفل کا موضوع گفتگو یہی واقعہ تھا، لیکن جس نکتہ نظر سے میں دیکھ رہی ہوں وہ اتنا خطرناک ہے کہ اس طرف کوئی سوچ بھی نہیں رہا ہے۔ جس طرح آرمی پبلک اسکول میں بچوں کی شہادت کے بعد چھوٹے بچوں کے اذہان سے اس واقعے کو محو کرنے میں مہینوں لگے تھے اسی طرح کا یہ واقعہ بھی ہے۔

کھانے کی ٹیبل پر مجھ سے حسین نے یہ سوال کیا کہ ”ان بچوں کا کیا قصور تھا ان کے امی ابا اور بہن کو کیوں مارا گیا“ ، حسین کی امی نے فوراً کہا ”یہ بڑوں کی بات ہے بچے نہیں بولتے“ ، حسین نے ٹی وی کی طرف اشارہ کرکے کہا ”یہ بچے ہی سے پوچھ رہے ہیں، کہ گولی کیسے چلی، آپ کہاں جارہے تھے، ہمارے اسکول میں سب بچوں کو پتہ ہے کیا ہوا ان بچوں کے ساتھ“ ۔ اب چونکنے کی باری میری تھی۔

Read more

چھے سالہ منیبہ کے ہاتھ پر گولی لگی تھی

لاہور: ساہیوال میں سی ٹی ڈی کی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے افراد کی پوسٹ مارٹم رپورٹ آگئی ہے جس کے مطابق قتل ہونے والے چاروں افراد کو مجموعی طور پر 34 گولیاں ماری گئیں۔

ایکسپریس نیوزکے مطابق سانحہ ساہیوال میں قتل ہونے والے افراد کی پوسٹ مارٹم رپورٹ جب کہ زخمی ہونے والے بچوں کی میڈیکل رپورٹ منظر عام پر آگئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق مقتولین کو 34 گولیاں ماری گئیں۔

Read more

والدین کے بنا بچوں کی زندگی کیا ہوتی ہے، مجھ سے سنیں

دو دن ہو چکے ہیں لکھنے کے لئے نوٹ پیڈ کھولتی ہوں، مگر الفاظ ہی گم ہو جاتے ہیں۔ ذہن جیسے خالی سلیٹ۔ فیس بک کھولتی ہوں تو ان بچوں کی تصویریں سامنے آتی جاتی ہیں۔ دل بیٹھ سا جاتا ہے۔ بہت ہمت کی کہ چونگی امر سدھو تک تو جا ہی سکتی ہوں۔ چلی جاتی ہوں، مگر بنا ماں باپ کے بچوں کو ملنے یا دیکھنے کی ہمت نہیں جٹا پائی۔ اس کے لئے شاید ہمیشہ گلٹی رہوں گی مگر یہ اس درد سے کم ہی ہو گا جو ان بچوں کو ملنے سے ملتا۔ میں کیوں اتنی حساس ہوں کہ دن میں کئی بار پھوٹ پھوٹ کے روئی۔ رونے میں اس بات کا خیال بھی رکھا کہ بچے روتے ہوئے نہ دیکھ لیں۔ کیونکہ بچوں کے نزدیک میں بہادر ہوں، تو بہادری بھی تو دکھانی ہی تھی۔

والدین کے بنا بچوں کی زندگی کیا ہوتی ہے، مجھ سے بہتر کون جان پائے گا۔ میں جسے بہت سے القابات ملتے رہتے ہیں، کبھی بہادر، کبھی مغرور اور کبھی منہ پھٹ۔ مگر بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ میں بروکن فیملی چائلڈ ہوں۔ اب جب ماں باپ سر پہ نہ ہوں تو رشتے دار کیا سلوک کرتے ہیں مجھے تو آج تک نہیں بھول سکا۔

Read more

ساہیوال اور آرمی پبلک سکول پر اتنا شدید عوامی رد عمل کیوں ہوا؟

ہم تیسری دنیا کے ایک ملک میں رہتے ہیں اور ہر دم اس کی قیمت چکاتے ہیں۔ انسانی جان کی ہمارے ملک میں کوئی خاص اہمیت نہیں ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ آرمی پبلک سکول پشاور میں سوا سو بچے اور ساہیوال میں محض چار افراد کے مار دیے جانے پر اتنا شدید عوامی ردعمل آیا ہے؟ اگر یہ توجیہہ دی جائے کہ بچے اور خواتین بھِی اس گاڑی میں تھے اس لئے زیادہ ردعمل آیا، تو پھر پیر کو پنجگور سے کراچی جانے والی بس پر ویسا ردعمل کیوں نہیں آیا جس میں 27 افراد جل کر کوئلہ ہو گئے۔ میڈیا سے بمشکل یہ پتہ چل رہا ہے کہ مرنے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے، مگر ابھی تک کوئی ایسی رپورٹ نظر سے نہیں گزری جو بتاتی ہو کہ کتنے بچے اور خواتین جل مرے ہیں۔ اسی سے میڈیا اور عوام کی اس واقعے میں عدم دلچسپی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

ایک توجیہہ تو یہ ہے کہ میڈیا کو ریٹنگ بڑے شہروں سے ملتی ہے، اس لئے بڑے شہروں کی چھوٹی خبر بھی، دور دراز علاقوں کی بہت بڑی خبر سے زیادہ اہم قرار پاتی ہے۔ کراچی یا لاہور میں گاڑی میں آگ لگنے سے اگر ایک شخص بھِی زندہ جل جاتا تو کہرام مچ جاتا۔ اس بدقسمت گاڑی میں کوئی ایک بچہ بھی ہوتا تو ایک ہفتے سے پہلے وہ خبر میڈیا سے نہیں ہٹنی تھی۔ دوسری طرف لسبیلہ میں 27 افراد کے جل مرنے پر بھی فوکس نہیں کیا گیا۔ اس کی بنیادی وجہ انسانی فطرت ہے۔

Read more

انصاف کی بدبو دیتی لاش

یتیمی کہنے کو تو ایک لفظ ہے مگر صاحبو دراصل یہ ایک کیفیت ہے اور یہ کیفیت جب دل کو اپنی لپیٹ میں لے لے تو پھر یہ قبر تک جان نہیں چھوڑتی یہ حزن آپ کی ذات کا حصہ بن جاتا ہے مختلف شکلیں اور روپ دھارتا ہے مگر پیچھے وہی ظالم کیفیت کارفرما ہوتی ہے۔

بہت سے زخم ادھڑے پڑے ہیں، ساری فلم انکھوں کے آگے پھر سے چل رہی ہے جب یتیمی نے مرے دروازے پہ دستک دی تھی، وہ لاہور سے ماموں کی شادی میں شرکت کی مہینوں سے چلتی تیاریوں کے بعد ہماری گاڑی فیصل آباد کے لیے روانہ ہوئی جس میں زندگی کرتا کھیلتا مسکراتا پورا خاندان سوار تھا اور پھر کھڑلیانوالہ کے پاس بدترین ایکسیڈنٹ جس میں میری ماں کو بدترین چوٹیں آئیں۔ تب ہاں تب یتیمی ہمارے دروازے پہ ہلکی سی دستک دے رہی تھی۔

Read more

پاکستان ہی میں بے توقیر ہوتی ہوئی پاکستانی ریاست

سچ کہتا ہوں کہ اس موضوع پر خیال کا دائرہ اک عرصہ سے مکمل تھا، مگر اعتراف کرتا ہوں کہ خوف کا بھی شکار تھا اور اب بھی ہوں۔ خوف اس لیے کہ میرے وطن میں قانون میری سمت میں، میرے سر پر چھتری کی چھاؤں بن کر نہیں کھڑا ہوا۔ مجھے لکھنے، بولنے، کہنے پر اٹھا لیے جانے کا خوف ہے اور یہ خوف بلاوجہ اس لیے بھی نہیں کہ اپنے ہی حلقہء ارباب میں چند دوست اٹھائے گئے اور ان میں سے ایک تو قریباً ایک سال کے بعد ایسا برآمد ہوا کہ پہچاننے میں ہی نہ آتا تھا۔ شاید اٹھا لیے جانے والوں کی محض تذلیل مقصود تھی جو پاکستانی شہریوں کے سر پر بنیادی آئینی حقوق کی چھتری میں سینکڑوں ہزاروں چھید دیکھ کر، بہت دھڑلے سے کی گئی۔

خوش قسمت تھے کہ رہا کر دیے گئے۔ رہا نہ بھی کیے جاتے تو کسی نے اہلکاروں اور ان کے اداروں کا کیا بگاڑ لینا تھا۔ میرا سر تو پچھلے 46 برس سے ننگا ہے، اب تو اپنی کمر کے ننگے ہونے کا بھی احساس شدید تر ہوتا چلا جا رہا ہے۔

یہ گزارشات بالکل بھی تحریر نہ کرتا، اگر ساہیوال والا واقعہ نہ ہوا ہوتا۔ شاید اگر ساہیوال والا واقعہ ہوا بھی ہوتا تو بھی خاموش رہتا، مگر ان دو بیٹیوں اور ان کے بھائی کی ایک تصویر نے اپنے وجود و ذہن پر مسلسل خوف کے باوجود بات کہنے پر مجبور کر دیا۔

Read more

لائسنس ٹو کِل!

میری نسل کے لوگوں نے جو صحافت سیکھی ہے اس میں ذاتی جذبات کو قابو میں رکھنا لازمی تصور کیا جاتا ہے۔ ویسے بھی آپ کی دی خبر یا لکھا ہواکالم چھپنے سے پہلے چند لوگوں کی نگاہ سے گزرتا تھا۔ وہ سخت گیر منصف کی طرح ہم ایسے رپورٹروں کے بیان کردہ حقائق کا جائزہ لیتے۔ ’’مبینہ‘‘ کی سہولت ہوتے ہوئے بھی ان سطروں کو کاٹ دیا جاتا جن کے استعمال سے کسی شخص کی بے جواز بدنامی کا

Read more

ساہیوال سانحہ اور چند جواب طلب واقعاتی سوالات

ذیشان کے حوالے سے مبینہ طور پر ملنے والی خفیہ معلومات تھیں کیا؟
ان معلومات کا ماخذ کیا تھا؟
کیا واقعی کسی گرفتار دہشت گرد نے ہی ذیشان کے متعلق معلومات فراہم کی تھیں؟

کیا سی ٹی ڈی کو کارروائی کے لیے رپورٹ ارسال کرنے سے قبل حاصل کردہ معلومات کو کاونٹر چیک کیا گیا؟
ذیشان کے خلاف ملنے والی اطلاعات کو کس بنیاد پر مصدقہ اطلاعات کہا گیا؟

خفیہ معلومات کی بنیاد پر تیار کردہ رپورٹ سی ٹی ڈی کو کب موصول ہوئی؟
رپورٹ کس ادارے کی جانب سے کس سطح پر سی ٹی ڈی میں موصول ہوئی؟
مذکورہ رپورٹ کی بنیاد پر سی ٹی ڈی کی جانب سے کیا کیا کارروائیاں عمل میں لائی گئیں

Read more

ریاستی دہشت گردی : معلوم اور نامعلوم کی کہانی

اجازت ہو اور جان کی امان ملے تو یہ سوال پوچھنے میں کوئی حرج نہیں کہ کیا ریاست مدینہ میں بھی معصوم بچوں کے والدین کو ان کے سامنے اسی طرح بے دردی سے قتل کیا جاتا تھا جیسے ہماری ریاست میں کیا گیا؟ اور کیا ریاست مدینہ میں بھی ریاستی دہشت گردی کی گنجائش ہوتی ہے؟ یہ سوال بھی پوچھنا چاہیئے کہ والدین کو اپنے سامنے قتل ہوتا دیکھنے اور ان کی لاشوں کی ویڈیوز بنتے ہوئے دیکھنے کے

Read more

سانحہ ساہیوال! سیاسی مقاصد کے لئے استعمال مت کیجئے

غصے میں انسان کو فیصلہ نہیں کرنا چاہیے اور شادمانی کے لمحات میں وعدہ لیکن ہماری قوم ان دونوں کاموں میں طاق ہے۔ ایک گروہ وہ ہے جس نے ہتھیلی پر سرسوں جمانے کا پیمان کیا تھا لیکن ابھی تک یہ ادراک نہیں کر پایا کہ ہوائی قلعے مسمار ہو چکے۔ مد مقابل دوسرا گروہ ہے جو اپنی ذمہ داری سے تو عہدہ برآ ہو چکا لیکن نہیں جانتا کہ ہر چیز کا ایک وقت مقرر ہے۔ مطالبہ یہ ہے

Read more

ہم تماش بین ہیں اور بس۔۔۔‎

بیس سال ہونے کو آئے، جاوید اقبال نامی ایک شخص مرحوم پولیس افسر طارق کمبوہ کے پاس پیش ہوا اور بولا میں نے سو بچے قتل کئے ہیں۔ طارق کمبوہ نے سوچا کہ اس شخص کا دماغی توازن خراب ہے اور اسے باہر نکلوا دیا۔ اب اس نے روزنامہ جنگ کو خطوط لکھے جن کے ساتھ 80 کے قریب تصاویر ارسال کیں۔ مجاہد جعفری اور جمیل چشتی جو کرائم کی بیٹ سنبھال رہے تھے، خطوط میں بتائے گئے پتہ پر

Read more

حکومت سچ چھپا رہی ہے یا جھوٹ کو سچ بنا رہی ہے؟

وزیر اعظم عمران خان کے صدمے، گورنر پنجاب محمد سرور کی حقیقت پسندی، وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی ہمدردی اور صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت کی سچائی عام کرتی پریس کانفرنس کے بعد بھی اگر حکومت کی نیت اور عوام دوستی کے بارے میں کوئی شبہ باقی ہو تو اسے صوبائی حکومت کی طرف سے ہفتہ کو ساہیوال سانحہ میں زندہ بچ جانے والے تین کم سن بچوں کی تاحیات کفالت کے علاوہ متاثرین کو دو کروڑ روپے امداد

Read more

ساہیوال: کیا پنجاب حکومت جھوٹ بول رہی ہے؟

لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پنجاب کے وزیر قانون راجہ بشارت نے جے آئی ٹی رپورٹ آنے سے پہلے ہی گاڑی میں سوار مارے گئے ایک شخص کو دہشت گرد قرار دیا ہے اور جو کہا ہے اس کا خلاصہ یہ کہ ”ذیشان کے گھر میں دہشتگرد موجود ہونے کے مصدقہ شواہد سامنے آئے ہیں، ذیشان کی کار دہشتگردوں کے استعمال میں رہی ہے، سی ٹی ڈی کی ٹیم کو کہا گیا کہ کار کو روکا جائے۔ ‏اگر دہشتگردوں کا پیچھا نہ کیا جاتا تو بڑی تباہی پھیلا سکتے تھے۔ ان دہشتگردوں کو روکنا نہایت ضروری تھا۔ خودکش جیکٹ پہنی نہیں تھی گاڑی میں رکھی ہوئی تھی۔ ذیشان کی گاڑی سے 2 خودکش جیکٹ، دستی بم اوراسلحہ بر آمد ہوا ہے۔ 18 جنوری کو تصدیق ہوئی کہ ذیشان دہشتگردوں کے لیے کام کررہا تھا۔ “

Read more

بد دعا تو ایک ہی بہت بھاری ہوتی ہے، یہ تو تین ہیں!

وہ ایک قیامت تھی جو آکر گزر گئی ہے اور اب یہ منظر! جو خود ایک قیامت ہے۔ وہ ایک نہیں تین ہیں! ظالموں نے اُن تینوں کی ننھی معصوم آنکھوں کے سامنے، اُن کے پیارے ماں باپ کو بڑی بے دردی سے گولیوں سے بھون ڈالا اور انھیں لمحہ لمحہ مرنے کے لیے چھوڑ دیا۔ لوگ آتے ہیں، بار بار اُن سے، اُن پہ بیتنے والی کتھا پوچھتے ہیں اور تاسف سے اپنا سر ہلاتے ہوئے لوٹ جاتے ہیں، انھیں اتنا بھی ترس نہیں آتا کہ ہر بار ایک گزری قیامت کو بیان کرنا خود قیامت ہے۔ ان کے ننھے ننھے سرخ گال اورہونٹ بار بار پھڑکتے ہیں اور ہم دیکھنے والوں کی آنکھیں، بہت سا نمکین پانی ایک دم ہی بہانے لگ جاتی ہیں۔

وہ چھوٹی سی لڑکی جو ہر وقت اپنے بڑے بھائی سے جھگڑتی رہتی ہے آج بہت چُپ ہے، اُس کی آنکھوں میں قیامت کا آخری منظر نقش ہو کر رہ گیا ہے۔ اُس کے بھینچے ہوئے ہونٹ اور خلاوؤں کو گھورتی آنکھیں کسی سے کچھ نہیں کہتیں۔ ہسپتال کی تمام نرسیں اور ڈاکٹر تاسف سے اُسے دیکھتے ہیں، ارد گرد کے لوگ دل تھام کر ان کی کہانی سنتے ہیں، جسے سنانا اب اُس ننھے زخمی لڑکے کو دو بھر لگ رہا ہے۔ ننھی بچی اپنے خالی فیڈر کو پکڑے بار بار سوالیہ نظروں سے سب کو دیکھتی ہے۔ اُسے شاید سمجھ نہیں آرہا کہ وہ لوگوں سے اپنے خالی فیڈر کا پوچھے یا اس فیڈر کو دودھ سے بھر کر دینے والی ماں کا۔ جسے ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی کچھ سیاہ پوشوں نے بڑی بے دردی سے موت کے گھاٹ اتارا ہے۔

Read more

سانحہ ساہیوال۔ زرد پتوں کا بن جو میرا دیس ہے

آنکھیں بند کریں ایک لمحے کو اور یہ منظر فرض کریں کہ آپ اپنے بھائی کی شادی پر جانے کے لئے اپنے بیوی بچوں کے ساتھ گھر سے نکلتے ہیں اور راستے میں پولیس کی گاڑی آپ پر فائرنگ کر کے آپ کے بچوں کے سامنے آپ کو مار ڈالتی ہے۔ مرنے سے چند لمحے پہلے آپ کیا سوچ رہے ہوں گے؟ چلیں نہیں فرض ہو رہا اگر آپ سے تو ایک اور منظر پہ کوشش کریں۔ آپ کا بچپن۔ آپ کی آنکھوں کا سامنے اچانک وہ پولیس جس کے بارے میں آپ کا ننھا ذہن بس یہ جانتا تھا کہ وہ آپ کے محافظ ہیں، آپ کے والد کو گولیوں سے بھون ڈالتی ہے۔ آپ ساری عمر اس پولیس اور سرکار کے بارے میں کیا احساسات رکھیں گے؟ رہنے دیں۔ کچھ نہ فرض کریں۔ کچھ دلخراش واقعات فرض کرنا بھی نا ممکن ہے۔

اسلامی مملکت پاکستان میں دن دیہاڑے سرعام ننھے بچوں کے سامنے ان کے ماں باپ کو گولیوں سے بھون دیا گیا جب کہ اسلام وہ دین ہے جو ایک جانور کو بھی دوسرے جانور کا سامنے ذبح کرنے سے منع کرتا ہے کہ جانور کی دل آزاری نہ ہو۔ کیا وحشی درندوں سے بھی بدتر ہو چکی ہے پنجاب پولیس؟ پاکستان تحریکِ انصاف جس نے پولیس نظام کو بدلنے کا خواب دکھایا تھا ابھی تک ایک بھی عملی قدم نہیں اٹھا سکی پولیس میں اصلاحات کے لیے۔

Read more

ساہیوال میں ایک بار پھر دہشت گرد مارے گئے

وقار سنا ہے تمہیں بھی دکھ ہو رہا خلیل اور اس کی فیملی کے مارے جانے کا، تمہاری تو فیسبک وال بھی ویران ہے کوئی مذمت کوئی اظہار افسوس کوئی گالم گلوچ تاحال پوسٹ نہیں کی باقی تو ساری قوم جاگ گئی ہے پھر تم دل ہی دل میں کیوں گھٹ رہے ہو، کہیں خاموش احتجاج تو نہیں کر رہے۔ یاد رکھنا اب احتجاج نہ بھی کرو تو ہمیں کچھ فرق نہیں پڑتا کیوں کے آج میرے بعد خلیل بھائی کا کیس بھی اللہ کی عدالت میں درج ہو گیا ہے جس کا فیصلہ تم سب کی آنکھیں کھول دے گا۔

یاد ہے میں بھی دہشت گرد کہہ کر مار دیا گیا تھا اور پھر میں یہاں نہایت اطمینان سے رہ رہا تھا کہ اچانک میری ملاقات خلیل بھائی اور نبیلہ بھابی سے ہوئی پتہ چلا انہیں بھی دہشت گرد کہہ کر مارا گیا ان کے ساتھ ننی بچی اریبہ بھی تھی اور اسے بھی تمہاری دنیا میں دہشت گرد کہا جا رہا تھا۔ اریبہ اپنی ماں کے ساتھ لگ کر جنت میں بھی رو رہی تھی کہ عمیر اور چھوٹی دونوں بہنوں کا خیال کون رکھے گا، انہیں سکول کون لے کے جائے گا، کھانا کون کھلائے گا اور تخفظ کون دے گا۔

Read more

ہاتھ زخمی فیڈرخالی ہے۔ پہلی رات بھاری ہے!

جب کانٹا چبھتا تھا تو رو رو کرآسمان سرپراٹھا لیتی تھی۔ اماں اپنی سہیلیوں کو کہتی۔ اس کی زندگی کیسے گزرے گی؟
ذرا سا درد ہو یا تھوڑی سی بھوک لگے کہرام مچا دیتی ہے۔

اماں کو سہیلیاں جواب دیتیں۔ کوئی بات نہیں اتنی سی تو بچی ہے۔ بڑی ہو کر سیکھ جائے گی۔ اریبہ بھی تو سیکھ ہی گئی ہے۔
اب جب کے میں سیکھنے پر آئی ہوں تو گذشتہ بارہ گھنٹوں میں سب سیکھ لیا لیکن جنہوں نے اس سیکھے پر خوش ہونا تھا وہ کہیں نظر نہیں آ رہے۔

ہاتھ زخمی ہے۔ بہن کے ہاتھ میں فیڈر خالی ہے۔ لیکن درد کہیں نہیں ہے۔ گذشتہ بارہ گھنٹوں میں اتنا کچھ ہوا۔ کہ ہاتھ اور خالی فیڈر کی جانب دھیان ہی نہ جا سکا۔ میں ابھی تک انہیں لمحات میں قید ہوں۔ ساہیوال نام شہر کے آس پاس۔ فریاد کرتا بابا۔ روتی ماں اور پھر۔ تڑ تڑ کرتی گولیوں کی کافی دیر تک کی گئی بوچھاڑ۔

Read more

سچ کا انکاؤنٹر تو بہت پہلے ہو چکا

ساہیوال ٹول پلازہ پر والد، والدہ، بچی اور گاڑی ڈرائیو کرنے والے والد کے دوست کو تو پنجاب کے انسدادِ دہشت گردی کے ماہرین نے دہشت گرد قرار دے کر مار دیا سو مار دیا۔ اس کے ذمہ داروں کو مثالی سزا ملے نہ ملے یہ سب اب اس خاندان کے لیے بےمعنی ہے جو پلک جھپکتے میں آدھا رہ گیا۔

اگر حکومتِ پنجاب اور وفاقی حکومت میں واقعی اس سانحے کے تعلق سے رمق برابر بھی سنجیدگی باقی ہے تو اس دس سالہ بچے اور اس کی دو بہنوں کی پولیس اور میڈیا سے ہی حفاظت کر لے جو زندہ بچ جانے والے سب سے اہم عینی شاہد ہیں۔

ان جعلی مقابلوں سے بھی کہیں المناک یہ پہلو ہے کہ پشیمانی تو گئی بھاڑ میں، قاتل خود کو بچانے کے لیے جھوٹ کی ہر حد پھلانگ جاتے ہیں۔ تب اندازہ ہوتا ہے کہ پیشہ ورانہ تربیت اور وردی کی حرمت ایک خوبصورت لفظی فریب کے سوا کیا ہے؟

Read more

پنجاب کا نوحہ: ایک بار پھر پنجاب مر گیا

ہم سے پڑھا نہیں جاتا۔ اسکول کے زمانے میں پوری لائبریری صفا چٹ کرنے والی ننھی لڑکی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ تیس کے پیٹے میں قدم رکھتے ہی ایک وقت ایسا آئے گا جب ہلکا پھلکا ناول پڑھنا بھی کشت لگے گا۔ شاید ڈیجیٹل دنیا واسی ہونے کا ایک نقصان یہی ہے۔ وقت ہی نہیں ہوتا کسی کی سننے کا۔ بھلے وہ کتاب ہو یا سامنے بیٹھا گرے شلوار قمیض میں ملبوس بھائی۔ بس اپنی کہنے کا زمانہ ہے۔ اس گمان کا زمانہ ہے کہ جو ہم کہہ رہے ہیں وہ سب سن بھی رہے ہیں۔ ہمہ تن گوش ہیں۔ تندہی سے نوٹس بھی لے رہے ہیں۔ کبھی نہ بھولیں گے۔

ہم بھی اسی خوش فہمی کا شکار ہیں کہ آپ کو ہمارے تمام کالم ازبر ہوں گے۔ اپنی روزمرہ زندگی میں غالب کے شعروں کے علاوہ ہمارے کالم بھی کوٹ کرتے ہوں گے۔ لیکن ایسا تھوڑا ہی ہوتا ہے۔ شاید ہوتا بھی ہو۔ ہمیں نہیں معلوم، اچھا۔

اگر اپنے گمان کی مانیں تو یہ سمجھیں گے کہ آپ کو ہمارا ایک پرانا بلاگ ’پنجاب کا نوحہ‘ یاد ہو گا۔ لکھ کر بات آئی گئی ہو گئی تھی۔ کیا خبر تھی کہ اتنے عرصے کے بعد پھر سے وہی زخم کھرچنا ہو گا۔ خون رسنے لگے گا۔ آنکھوں سے آنسوؤں کی طرح برسے گا۔ ٹپ ٹپ ٹپکتا، چھم چھم برستا خون۔ وہی خون جو خون کو دیکھ کر جوش مارتا ہے۔ جی وہی لہو جو اگر آنکھ سے بہ ٹپکے تو جناب غالب کے نزدیک بے وقعت ہے۔

Read more

انصافی وزیر اعظم انصاف چاہیے!

ماڈل ٹاؤن واقعہ ہوا سیدھی گولیاں چلتے ہزارہا لوگوں نے دیکھیں، گلوبٹ کی کارستانیاں بھی پوشیدہ نہیں رہیں، مشہور زمانہ دھرنے ناچ گانا، کھانا کسی سے چھپا نہ رہا، سپریم کورٹ کی دیواروں پر شلواریں سوکھتی بھی کسی کی نظروں سے پوشیدہ نہ رہ سکیں، پی ٹی وی پہ حملہ کی فوٹیج بھی دیکھی، حد تو یہ ہے کہ تحریک لبیک کے دھرنے مین گالیوں سے بھری تقاریر زبان زدِ خاص و عام ہوئیں اسی سیل فون کی بدولت۔ اب نہ پولیس جھوٹ بول سکتی ہے نہ عوام نہ حکومت، سب کا سچ کھل کر سامنے آجاتا ہے۔

چینلز کی بہتات اور سوشل میڈیا نے عام آدمی کو بھی بہادر بنادیا ہے، ہر ہاتھ میں سیل فون ایک خبر کا ذریعہ بنا ہوا ہے، جہاں ظلم وستم ہوتے دیکھا سیل فون ویڈیوبنائی اور جناب سوشل میڈیا پہ اپ لوڈ کردی یا کسی چینل کو بھیج دی اور خبر جنگل کی آگ تو پھیلنے میں تھوڑا وقت لیتی ہے ہوا کے رخ کی محتاج ہوتی ہے لیکن چینل کی آگ چند سیکنڈ میں بریکنگ نیوز بن کر سب کے حواس پر چھا جاتی ہے۔ یہ غلط ہے یا صحیح لیکن اس سے اتنا تو ہوا پولیس کی کارکردگی کا پول سرِ عام کھل جاتا ہے، وہ کچھ اور بیان دیتے ہیں اور ویڈیوز کچھ اور مناظر دکھاتی ہیں۔

Read more

ساہیوال قتل عام: وردی کے رنگ جدا مگر طاقت ایک ہے

17 مئی 2011 کو کوئٹہ کے نزدیک خروٹ آباد میں فرنٹیئر کانسٹیبلری نے 5 چیچن باشندوں کو ماورائے عدالت قتل کر دیا۔ ابتداء میں حکام کا یہ دعوی تھا کہ ان افراد کے خودکش بمبار ہونے کی اطلاع تھی اس لیے ان پر فائرنگ کی گئی تاہم بعد میں سامنے آنے والی وڈیو میں یہ لوگ نہتے نظر آتے ہیں۔ ویڈیو اب بھی شاید یوٹیوب پہ موجود ہو مگر میرے دماغ پہ نقش ہے کہ مرتے مرتے بھی ایک ہاتھ اٹھا فائرنگ سے منع کر رہا تھا کیونکہ ایک وجود میں دوسرا وجود پل رہا تھا۔ ان افراد میں 2 مرد اور 3 عورتیں تھیں، ایک عورت 7 ماہ کی حاملہ تھی۔ اطلاعات کے مطابق مقامی پاسبان نے پہلے ان افراد سے مختلف مقامات پر رشوت لی اور بعد میں جب یہ لوگ شکایت کے لیے سرحدی سپاہ کی چوکی کی طرف جانے لگے تو پاسبان نے سپاہ کو اطلاع کی کہ خودکش بمبار ان کی چوکی کی طرف آرہے ہیں۔

Read more

ساہیوال: کیا آپ چین سے سو جائیں گے؟

عام سا ایک واقعہ ہے ہزاروں خون آلود واقعات میں سے ایک۔ کٹے پھٹے لاشے دیکھ دیکھ کر یہ واقعہ بھی معمولی سا ہے چھوڑیں اس واقعے کو بھول جاتے ہیں۔ کون سا ہمارے اپنے بچے تھے۔ کون سا ہم مرے ہیں چھوڑیں سو جاتے ہیں

بچے ہی تو تھے دھکے دُھکے کھا کر پل جائیں گے ہمارے بچے تو ہمارے پاس ہیں چپکے سے سو رہے ہیں۔ سونے دیتے ہیں بس چپ چاپ سو جاتے ہیں صبح آنکھ کھلے گی تو نیا واقعہ ہو گا نیا مباحثہ اور نئی ہمدردیاں۔

چلیں سو جاتے ہیں۔ پھر ایک دن آئے گا۔ جب میں میں اور آپ اپنے بچوں کو گاڑی میں بٹھا کر کہیں جا رہے ہوں گے۔ ہلکی سی آواز میں ٹیپ پر گانے بج رہے ہوں گے، بچوں کے قہقہے اور ان کی ماں کی مسکراہٹ گاڑی کا اندرونی ماحول خوشگوار بنا رہی ہو گی۔ پاپا وہ دیکھیں کھیت کتنے پیارے ہیں۔ پاپا گاڑی روکیں میں نے یہاں سے چیز لینی ہے۔ بچے شور مچا دیں گے۔

Read more

پولیس سے بھی غلطی ہو جاتی ہے

مثل مشہور ہے کہ پولیس والوں کی نہ دوستی اچھی اور نہ ہی دشمنی۔ پولیس بھی ایک ایسا ہی ادارہ ہے جس میں کسی بھی دوسرے ادارے کی طرح اچھے یا برے لوگ موجود ہیں، عموماً پولیس کے اچھے کام کو اتنا سراہا نہیں جاتا جتنے کہ وہ حقدار ہوتے ہیں البتہ ان کی ذرا سی بھی دانستہ یا غیر دانستہ غلطی میڈیا کی بریکنگ نیوز بن جاتی ہے، شام کے اخبارات میں مصالحے دارشہ سرخیاں لگائی جاتی ہیں۔

ساہیوال میں جو ہوا بہت بہت برا ہوا۔ چند اہلکاروں کی مجرمانہ غفلت سے اس ادارے کی برسوں کی محنت اور لا تعداد کامیابیوں اور قربانیوں پر پانی پھر گیا۔ ہر وہ شخص جسے کسی بات کی سمجھ نہیں ہے وہ انٹیلجنس آپریشنز کا ایکسپرٹ بن گیا ہے۔ جو منہ میں آ رہا ہے کہا جا رہا ہے۔ ٹارگٹڈ آپریشنز میں امریکی سی آئی اے سے بھی متعدد غلطیاں ہوئی ہیں اور ان کی ٹیکنولاجیکل استعداد کسی سے چھپی نہیں۔ یقیناً جو ہوا بہت غلط ہوا پر کیا اس وجہ سے آپ سی ٹی ڈی کی سب کارکردگی پہ سیاہی پھیر دیں گے۔

Read more

اڑیں گے پرزے: غیر تربیت یافتہ پولیس!

پنجاب پولیس کے کارناموں پہ سالہا سال سے سر دھنتے آ رہے ہیں لیکن سنیچر کے سانحے نے دل ہلا کے رکھ دیا ہے۔

یہ ہی ملتان روڈ ، یہ ہی یوسف والا ٹول پلازہ، جہاں سے میں ہفتے میں دو سے تین بار گزرتی ہوں اور سوچتی ہوں ‘گر جنت برروئے زمین است۔۔’ اسی ٹول پلازہ پر چچا زاد بھائی کی شادی میں شرکت کے لیے جانے والے ‘مبینہ’ دہشت گرد، مہر خلیل، ان کی بیگم، 13 سالہ بچی اور ٹیکسی ڈرائیور ذیشان کو ‘مبینہ’ مقابلے میں گولیوں سے چھلنی کر دیا گیا۔

یہ سانحہ کسی غلط رپورٹ، کسی غلط فہمی، کسی بھتہ خوری، کسی وقتی اشتعال یا کسی لمحاتی غلط فیصلے کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔ چار انسانوں کی زندگیاں، تین معصوم بچوں کا مستقبل، پنجاب پولیس جیسے بڑے ادارے کے لیے جو ملک کے سب سے بڑے صوبے میں نہایت جاں فشانی سے قانون کی بالادستی قائم رکھے ہوئے ہے کوئی اہمیت نہیں رکھتا ہو گا۔

Read more

ایک دن میں دو عذاب: پہلے پولیس اور پھر میڈیا کی شوٹنگ

پولیس اور انسدادِ دہشت گردی کے محکمے کے ہاتھوں پاکستان کے شہر ساہیوال میں چار افراد کی ہلاکت اور بچوں کے زخمی ہونے کے واقعے پر جہاں سوشل میڈیا پر پولیس شدید تنقید کا نشانہ بنی وہیں مقامی میڈیا کو بھی لوگوں نے سوشل میڈیا پر تنقید کا نشانہ بنایا۔ اس واقعے کے بعد بچ جانے والے بچوں کو بجائے حفاظت میں لینے کے میڈیا سے بات کرنے دی گئی جس پر ڈان لاہور کے ایڈیٹر اشعر رحمٰن نے ٹویٹر

Read more

ساہیوال سی ٹی ڈی کا شرمناک اقدام

لاہور سے ملتان کی طرف جانے والے روڈ پر ساہیوال کے کے قریب ایک افسوس ناک واقعہ پیش آیا جس کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں لیکن کسی ایک میں بھی تفصیل نہیں ہے۔ ہم نے واقعے کی حساسیت کے پیش نظر اپنے طور پر کچھ تحقیق کی ہے جو ذیل کی سطور میں پڑھی جا سکتی ہے۔

Read more

ساہیوال:محکمہ انسدادِ دہشتگردی کے ’انکاؤنٹر` پر جے آئی ٹی

پاکستان کے شہر ساہیوال میں محکمہ انسدادِ دہشتگردی کے مبینہ انکاؤنٹر کے بعد جس میں دو عورتوں سمیت چار افراد ہلاک اور تین بچے معمولی زخمی ہوئے ہیں سوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی ہے۔ لوگ اس انکاؤنٹر میں پولیس کےدعوے پر سوال اٹھا رہے ہیں اور پولیس اور انسدادِ دہشت گردی کے محکمے پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک ہینڈ آؤٹ کے مطابق وزیرِ اعلیٰ نے

Read more

والدین کو مار کر بچے بازیاب کروانے والی سی ٹی ڈی

ویک اینڈ ہے۔ گاؤں میں چچا کی شادی ہے۔ آپ کے سب گھر والے خوش ہیں۔ آپ کی اہلیہ نے آپ کی تین اور پانچ سال کی بچیوں کو ایسی محبت سے تیار کیا ہے کہ ان کے معصوم چہروں پر نظر نہیں ٹکتی۔ پانچویں جماعت میں پڑھنے والا آپ کا بیٹا ہیرو لگ رہا ہے۔ تیرہ برس کی بیٹی خود ہی سج سنور گئی ہے۔ وہ اب بڑی ہو رہی ہے خود تیار ہونے کی شوقین ہے۔ اس شادی کی تیاری وہ تین مہینے سے کر رہی تھی۔ آپ نے گاڑی نکالی اور لاہور سے نکل کھڑے ہوئے۔ راستے میں اچانک پولیس کی ایک پک اپ قریب پہنچی اور آپ کی گاڑی پر سیدھی فائرنگ شروع کر دی۔ یہ بھی نہ دیکھا کہ گاڑی میں ننھے بچوں کے خوفزدہ چہرے ان کو دیکھ رہے ہیں۔ آپ نے گھبرا کر گاڑی روکی اور منتیں کرتے رہے کہ ہماری تلاشی لے لو، ہم سے پیسے لے لو، ہمیں مت مارو۔

فائرنگ ہوتی ہے۔ سامنے ونڈ شیلڈ سے سیدھی گولیاں آتی ہیں۔ مرنے سے پہلے آپ یہ دیکھتے ہیں کہ آپ کی برسوں کی رفیق آپ کی اہلیہ مر چکی ہے۔ آپ کے چھوٹے سے بیٹے کے گولی لگ چکی ہے اور بیٹی کا ہاتھ بھی زخمی ہے۔ آپ دم توڑ دیتے ہیں اور آپ کے یہ ننھے بچے ساری عمر کے لئے احساس محرومی لئے دوسروں کے ٹکڑوں پر پلنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ وہ کبھی سکون کی نیند نہیں سو پائیں گے۔ ان کی کھلی اور بند آنکھوں کے سامنے یہ قیامت کی گھڑی زندہ رہے گی۔ ساہیوال میں یہی ہوا ہے۔ یہ آپ کے یا میرے ساتھ بھی ہو سکتا تھا۔ ہماری قسمت اچھِی اور خلیل کی قسمت بری تھی کہ یہ تباہی اس کے خاندان پر ٹوٹی۔ لیکن کیا ہم ہمیشہ خوش قسمت رہیں گے یا اگلی باری ہماری اور ہمارے بچوں کی ہے؟

Read more

سی ٹی ڈی نے ننھے بچوں سے بھری گاڑی پر فائرنگ کر کے والدین مار دیے

ساہیوال میں انسداد دہشت گردی کے محکمے کے اہلکاروں نے فائرنگ کرکے مبینہ طور پر معصوم بچوں کے سامنے ان کے ماں باپ کو قتل کر دیا ہے ۔ سی ٹی ڈی کے مطابق کارروائی دہشت گردوں کے خلاف کی گئی تاہم مقامی لوگوں نے ایلیٹ فورس کے جعلی مقابلے کا بھانڈا پھوڑ دیا ۔

ساہیوال قادر آباد جی ٹی روڈ پر مبینہ طور پر سیکیورٹی اداروں کی کارروائی میں کار سوار دو مرد اور دو خواتین قتل کر دی گئی ہیں، عینی شاہدین کے مطابق کار میں بچے بھی موجود تھے جن کو مبینہ طور پر سیکیورٹی ادارے والے کارروائی کے بعد اپنے ساتھ لے گئے اس آپریشن کے بارے میں ابھی تک پولیس کو کچھ بھی علم نہیں ہے ۔

Read more