مستقبل میں ساہیوال جیسے واقعات سے کیسے بچا جائے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ساہیوال کا سانحہ ناقابل فراموش ہے اس کی جتنی مذمت کی جائے کم جائے۔ پاکستان میں ایسے واعات مسلسل رونما ہو رہے ہیں۔ کچھ میڈیا کے سامنے آ جاتے ہیں جبکہ مبینہ طور پر ایسے واقعات کی بڑی تعداد میڈیا کے کیمروں سے اوجھل ہے۔ یوں ہم پاکستانی شہری غیر یقینی صورتحال سے گزر رہے ہیں۔ میری رائے میں اگر ہم کھوکھلی مذمت تک محدود رہتے ہیں تو یہ سلسلہ رکنے والا نہیں۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ ایسے سانحات سے کیسے مؤثر طور پر نمٹا جائے؟ بطور شہری ہماری کیا ذمہ داری ہے اور کیا سوشل سائنسز بالخصوص سیاسیات کا علم اس سلسلے میں ہماری کوئی مدد کرتا ہے؟

میری رائے میں ہمیں درج ذیل باتوں پر نہ صرف غور کرنے کی ضرورت ہے بلکہ ہمیں ان کی روشنی میں ایک مؤثر آواز بھی بننا ہو گا اور عملی طور پر ایک بھرپور کردار بھی ادا کرنا ہو گا۔

اول یہ کہ ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ ریاست کا ہماری سوسائٹی میں کیا کردار ہے اور یہ کہ کیا دوسرے ممالک میں بھی ایسے واقعات ہوتے ہیں یا ہوتے تھے؟ اگر مہذب دنیا میں ایسے واقعات نہیں ہوتے … اور بالفرض کسی انسانی غلطی سے ہو بھی جائیں تو وہاں کی سیاسی اشرافیہ ایسی عذر خواہیاں نہیں کرتی جیسی تحریک انصاف کی قیادت کر رہی ہے … تو اس کے اسباب کیا ہیں؟ اور اہم سوال یہ کہ ساہیوال جیسا سانحہ کیوں قابل مذمت ہے اور ہمارے لئے اس میں کیا سبق ہے؟

سوشل سائنس بالخصوص سیاسیات کا علم ہمیں یہ بتاتا ہے کہ ریاست ہمارے سماج کا محض ایک ادارہ ہے اور سماج ایک خاص جغرافیہ میں رہنے والے تمام انسانوں کے مجموعہ کا نام ہے۔ فرد، سوسائٹی اور ریاست کی اس ترتیب میں میں واحد زندہ وجود صرف انسان ہے جبکہ باقی دونوں عناصر صرف انسانوں سے ہی وجود میں آتے ہیں۔ اس لئے فرد ہی ان میں سب سے اول ہے اور اس پوری درجہ بندی میں اس کی اہمیت مقدم ہے۔

تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ انسانوں نے اپنے وہ چند امور جو وہ انفرادی حیثیت سے سرانجام نہیں دے سکتے تھے ان کی بہترین بجاآوری کے لئے ریاست نام کے ادارے کو قائم کیا اور اسے ان امور کو سرانجام دینے کے لئے فوج، پولیس، قانون اور ٹیکسز کی شکل میں طاقت، وسائل اور آئینی جواز بھی بہم مہیا کئے اس شرط پر کہ یہ طاقت و وسائل اور آئین ان انسانوں کی جان و مال اور دیگر بنیادی حقوق کے تحفظ کے لئے استعمال میں لائے جائیں گے۔ اس سارے معاملے کو سوشل کنٹریکٹ کہتے ہیں۔ یاد رہے کہ کسی بھی ریاست کی قانونی و اخلاقی حیثیت صرف اس وقت تک قائم رہتی ہے جب تک وہ اس سوشل کنٹریکٹ پر قائم رہتی ہے۔

یہاں یہ بنیادی بات بھی یاد رہے کہ ریاست ماں یا باپ یا بہن یا بھائی نہیں ہوتی۔ یہ انسانی رشتے ہیں- جبکہ ریاست ایک سماجی ادارہ ہے جس سے فرد کا رشتہ ایک جمہوریت میں شہریت کی صورت میں جبکہ بادشاہت میں رعیت کی صورت میں قائم ہوتا ہے اس کا بنیادی کام انسانی حقوق کا تحفظ کرنا ہے۔ یہ ہماری غلط فہمی ہے کہ ریاست ماں ہوتی ہے۔ جب ہم ریاست کو ماں کہتے ہیں تو دراصل ہم ماں کے رتبہ کو گرا رہے ہوتے ہیں۔ ماں تو خلیل احمد کی تھی جس نے جب یہ سنا کہ اس کا بیٹا بہو اور پوتی مارے گئے ہیں تو وہ یہ صدمہ برداشت نہ کر سکی۔ مائیں مجسم محبت و پیار ہوتی ہیں جبکہ ریاست کا خمیر طاقت پر اجارہ داری سے اٹھتا ہے۔ ریاست کے سینے میں ماؤں جیسا دل نہیں ہوتا کیونکہ ریاست کوئی زندہ وجود تھوڑی ہے۔

یاد رہے کہ دنیا کی ہر ریاست سرکش ہوتی ہے۔ ضروری ہے کہ اسے لگام میں رکھا جائے۔ اس کا محاسبہ کیا جاتا رہے۔ اسی لئے لبرل اصول ہے کہ ریاست کے فرمانبردار نہ بنو بلکہ اسے شک کی نظر سے دیکھو۔ ریاست کو شہریوں کا فرمانبردار ہونا چاہئے نہ کہ شہریوں کو ریاست کا۔ جمہوریت اس صورت میں اپنے متبادلات میں سب سے بہتر نظام ہے کیونکہ ہم اس کے ذریعے سے ریاست پر نظر رکھتے ہیں، اپنے نمائندوں کی مدد سے ریاستی اداروں کا احتساب کرتے ہیں اور جہاں دیکھتے ہیں کہ کوئی ریاستی اقدام شہریوں کے بنیادی انسانی حقوق کو سلب کر رہا ہے تو ہم اس کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں۔ اگر جمہوریت میں یہ خوبی نہ رہے تو اس جمہوریت میں اور آمریت میں رتی برابر بھی فرق نہیں رہتا۔ ہمیں بنیادی انسانی حقوق اور ریاست کی یہ ذمہ داری کہ وہ ان انسانی حقوق کا تحفظ کرے، کے بنیادی فلسفہ کو نہ صرف سمجھنا ہو گا بلکہ اس کے لئے آواز اٹھانی ہو گی۔

ساہیوال سانحہ کے تناظر میں بنیادی انسانی حقوق کا تصور ہمیں دو چیزوں پر خاص طور پر زور دینے کی تاکید کرتا ہے۔

اول یہ کہ فیئر ٹرائل ہر شہری کا بنیادی انسانی حق ہے۔ ریاست کسی بھی شہری کو چاہے اس کے پاس مصدقہ اطلاعات بھی ہیں کہ وہ مجرم ہے، بغیر عدالتی کارروائی کے سزا نہیں دے سکتی۔ فیئر ٹرائل سے مراد ایک ایسی مکمل آزاد عدالتی کاروائی ہے جس میں ہر ملزم کو اپنا وکیل کرنے کا بنیادی حق حاصل ہو، فیصلہ محض دستیاب ثبوتوں کی مدد سے کیا جائے، عدالتی کاروائی خفیہ نہ ہو، جج متعصب نہ ہوں، ملزم کو پتا ہو کہ کون اس پر الزام لگا رہا ہے اور ان الزامات کی نوعیت کیا ہے، بار ثبوت الزام لگانے والے پر ہو کہ وہ اپنے دعوی کو ثابت کرے اور یہ کہ ملزم کسی بھی عدالتی فیصلہ کو اعلیٰ عدالتوں میں چیلنج بھی کر سکے۔ فیئر ٹرائل کا بنیادی انسانی حق کسی بھی صورت میں معطل نہیں ہو سکتا۔ اگر کوئی ریاست کسی کو ماورائے عدالت سزا دیتی ہے تو وہ ایک مجرم ریاست تصور کی جائے گی اور یوں وہ سوشل کنٹریکٹ کے اس بنیادی تصور سے روگردانی کرتے ہوئے اپنا وہ آئینی و اخلاقی جواز کھو بیٹھے گی جس کی بنیاد پر وہ قائم ہوئی۔ تمام شہریوں کو فیئر ٹرائل کے اس حق کے لئے آواز بلند کرنی ہو گی ہر ایک پاکستانی شہری کے لئے جو اس ملک کے کسی بھی گوشے میں مقیم ہے بغیر کسی علاقائی لسانی صنفی اور نظریاتی تفریق کے۔

دوسری بات یہ کہ فوجی عدالتیں فیئر ٹرائل کے بنیادی انسانی حق سے متصادم ہیں اور ان کی کسی بھی صورت میں اجازت نہیں دی جا سکتی۔ یہاں تک کہ بنیادی انسانی حقوق کے اس تصور کی رو سے…، کہ پارلیمان ہو یا سپریم کورٹ یا کوئی اور ادارہ، کسی بھی صورت میں بنیادی انسانی حقوق کو معطل نہیں کر سکتا…، پارلیمان بھی فوجی عدالتوں کو قانونی جواز نہیں دے سکتی۔ اس سلسلے میں ہم شہریوں کو ہم آواز ہو کر فوجی عدالتوں کی مخالفت کرنی ہو گی اور اپنے عوامی نمائندوں پر دباؤ بڑھانا ہو گا کہ وہ کوئی ایسی قراردار منظور نہ کریں جو بنیادی انسانی حقوق سے متصادم ہو۔ پاکستان کی اہم ضرورت ہے کہ یہاں قانون کی حکمرانی ہو اور ہمارا نظام انصاف صاف شفاف اور ممکن حد تک بروقت فیصلے کرنے والا ہو۔

پڑھنے والوں سے درخواست ہے کہ بطور شہری سوشل سائنسز میں دلچسپی لیں اور بنیادی انسانی حقوق کے تصور کو خدارا سمجھیں۔ کھوکھلے نعروں اور مذمتی بیانات سے نکلیں اور اپنے حقوق کے لئے پرامن انداز میں کھڑے ہوں اور آواز بلند کریں جو فیصلہ کن بھی ہو اور مثبت نتائج بھی دے تاکہ ساہیوال جیسے سانحات دوبارہ کسی بھی شہری کے ساتھ نہ ہوں۔ یہی اس وقت کا سب سے بہترین ردعمل ہے اور ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ذیشان ہاشم

ذیشان ہاشم ایک دیسی لبرل ہیں جوانسانی حقوق اور شخصی آزادیوں کو اپنے موجودہ فہم میں فکری وعملی طور پر درست تسلیم کرتے ہیں - معیشت ان کی دلچسپی کا خاص میدان ہے- سوشل سائنسز کو فلسفہ ، تاریخ اور شماریات کی مدد سے ایک کل میں دیکھنے کی جستجو میں پائے جاتے ہیں

zeeshan has 152 posts and counting.See all posts by zeeshan