جناب وزیرِ اعظم! لفظ ”انصاف“ منوں مٹی تلے دفنا دیں یاغرقِ آب کر دیں


مانا کہ آپ سانحہ ساہیوال پر گہرے صدمے میں تھے اور صدمے سے باہر نکلنے کے لیے آپ کو کچھ سجھائی نہیں دے رہا تھا پھر آپ نے سی ٹی ڈی کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ٹویٹ کر کے خود کو اس صدمے سے نکالا جبکہ یہ قوم عرصہ دراز سے حالتِ صدمے میں ہی ہے اور اس سے باہر نکلنے کی آخری کوشش بھی ناکام ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ یہ وہی قوم ہے جس کے اذہان میں آپ نے گزشتہ بائیس برسوں سے انصاف اور تبدیلی کی پنیری لگائے رکھی آج جب اس پنیری کو قد آور درخت میں بدلنے کا وقت آیا تو آپ سب کے ہاتھ پاؤں پھولے ہوئے ہیں قومی اور صوبائی وزراء سانحہ ساہیوال پر آئیں بائیں شائیں کر رہے ہیں۔

سانحہ ساہیوال پر پوری قوم کو امید تھی کہ تحریکِ انصاف مظلوموں کی آواز بنے گی اور ان کو انصاف ملے گا اُلٹا سب وزاراء انہیں دہشت گرد ثابت کرتے رہے۔ انصاف کس چڑیا کا نام ہے وہ عرصہ ہوا اُڑ چکی اس کی جگہ ظلم اور نا انصافی کے گدھ عرصہ دراز سے قوم کاجسم نوچ نوچ کر کھارہے ہیں۔ چونکہ آپ انصاف کے سب سے بڑے داعی تھے معاشرے میں ظلم و نا انصافی کے خلاف آواز بلندکرنے میں آپ کا کوئی ثانی نہ تھا اور اسی ناطے سے اپنی جماعت کا نام بھی تحریکِ انصاف رکھا۔

بالآخر اسی قوم نے آپ کی لبیک پر گزشتہ عام انتخابات میں تحریکِ انصاف کو کروڑوں ووٹوں سے فتحیاب کرایاتاکہ انصاف کا بول بالا ہو سکے۔ آج جب اللہ نے آپ کے ہاتھ میں زمامِ اقتدار دی ایسے میں تبدیلی توایک طرف رہی انصاف کس شے کا نام ہے اس کوسرے ہی سے بھول گئے۔ ایوانِ اقتدار کی بھول بھلیوں میں گم ہو کر اپنے مقصد سے کوسوں دور ہو گئے۔ آج آپ صاحبِ اقتدار ہیں صرف یہ کریں کہ لفظ ”انصاف“ کو تمام لغات سے نکال کرمنوں مٹی تلے دفنا دیں یا اسے سمندر میں غرق کرا دیں۔ بقول غالب

ہوئے مر کے ہم جو رسواء، ہوئے کیوں نہ غرقِ دریا
نہ کبھی جنازہ اٹھتا نہ کہیں مزار ہوتا

لہذا دفن کرنے کی بجائے غرقِ آب کر دیں تو بہتر ہوگا اگر دفن کریں گے تو کوئی نہ کوئی ڈھیری باقی رہے گی پھر رسوائی کا اندیشہ رہے گا چونکہ آپ قطر روانہ ہوچکے ہیں تو لگے ہاتھوں واپسی کا سفر بحرِ مُردار کی جانب کر لیں جہاں بڑے اہتمام سے اس لفظ کو غرق آب کرتے ہوئے یہ فریضہ اپنے ہاتھوں سرانجام دیں۔ نہ یہ لفظ ہو گا نہ کوئی آئندہ اس سے متعلق سوال کر سکے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ اپنی جماعت کانام تبدیل کر کے ”تحریکِ فروغِ کرپٹ افراد“ رکھ لیں۔ آپ نے اپنے ساتھ اقتدار میں جتنے کرپٹ لوگوں کو ملایا ہوا ہے اگر کسی اور جماعت نے ساتھ ملائے ہوتے تو آپ نے ان کا جینا مشکل کر دینا تھا۔

آپ کی حکومت سے یہی توقع تھی کہ دودھ اور شہد کی نہریں نہ بہہ سکی تو کوئی بات نہیں مگر خون کے دریا تو نہیں بہائے گی۔ مگر یہاں کا ہر سیکورٹی ادارہ لائسنس ٹو کِل کا حامل ہے جس بے گناہ اور معصوم کو چاہے دہشت گرد یا داعش کا الزام لگا کر اگلی دنیا کا راستہ دکھاتا ہے۔ گزشتہ کچھ عرصہ سے عرب شہزادے پاکستان میں تلور کا شکار کھیلنے کے لیے آ رہے ہیں اس سلسلے میں سابقہ اور موجودہ حکومتیں تمام وسائل مہیا کر تی رہی ہیں۔ لیکن اپنی عوام کو ”پولیس شہزادوں“ کے سامنے تیتر بٹیروں کی طرح چھوڑا ہو ا ہے وہ جو جب چاہتے ہیں جہاں چاہتے ہیں کراچی، لاہور ہو یا کوئی اور جگہ وہ ان کا آسانی سے شکارکرلیتے ہیں۔

سانحہ ساہیوال آپ کی حکومت کے لیے پہلا ٹیسٹ کیس تھا مگر آپ کی حکومت اس امتحان میں فیل ہوتے دکھائی دے رہی ہے۔ معصوم بچوں کی موجودگی میں دن دیہاڑے لوگوں کے سامنے گولیاں مار کر مشن مکمل کیا گیا بعدازاں سی ٹی ڈی کی طرف سے مختلف اور متضاد بیانات جاری کیے گئے جو کہ جھوٹ پر مبنی تھے۔ ریاست مدینہ کے دعوے داروں نے اس لفظ کی حرمت کا بھی پاس نہیں رکھا معصومو ں کے ساتھ درندگی کا مظاہرہ کرنے والوں کا ساتھ دیتے رہے۔ پنجاب کے وزیرِ قانون نے تو حد ہی کر دی بجائے مظلوموں کی داد رسی کی جاتی اُلٹا سی ٹی ڈی کے ترجمان بنے دکھائی دیے۔ رجہ بشارت نے قوم کو سانحہ ماڈل ٹاؤن کے حوالے سے رانا ثنا اللہ کی یاد تازہ کرا دی۔

آپ کی حکومت کو چاہیے تھا کہ اقتدار میں آتے ہی عدالت عظمی اور عدالتِ عالیہ کے چیف صاحبان کے ساتھ مل کر انصاف کے حصول پر بات کرتے اور سالہاسال سے جاری مقدمات کو نبٹانے کا کوئی لائحہ عمل تیار کیا جاتا اب موجودہ چیف جسٹس صاحب سے یہ امید ہے کہ وہ اس سلسلے میں کچھ پیش رفت کریں گے۔

آپ اپوزیشن میں رہتے ہوئے سابقہ حکومت پر کڑی تنقید کرتے تھے خود حکومت میں آتے ہی نقیب اللہ محسود کیس کو ٹیسٹ کیس کے طور پر لیتے اورمکمل تفتیش اور تحقیق کر کے راؤ انوار اور اس جیسے لوگوں کو کیفرِ کردار تک پہنچاتے اس کے ساتھ ساتھ ماڈل ٹاؤن کیس اور سانحہ بلدیہ کو بھی اپنے انجام تک پہنچانے میں اپنا پورا زور لگاتے مگر آپ دوسرے معاملات میں الجھے رہے اور یہ سانحہ ہو گیا اب بھی وقت ہے کہ اس سانحہ کی غیرجانبدارانہ تحقیق کر کے اس کے حقیقی اور مرکزی کرداروں کو کیفرِ کردار تک جلد از جلد پہنچایا جائے اسی میں حکومت کی نیک نامی ہوگی اگر ایسا نہ ہو سکا تو عوام یہ کہنے پر مجبور ہو جائیں گے۔

کیوں کیتے نی ماڑے پیدا
کیہ سی تینوں ایہدا فیدا
نہ کوئی کُلیہ نہ کوئی قیَدا
تگڑے لیندے مار مرا
اللہ میاں تھلّے آ

Facebook Comments HS