ریاست ہو گی ڈائن جیسی؟

طویل عرصے سے سُنتے آئیں ہیں کہ ”ریاست ہو گی ماں کے جیسی“ ریاست کو ماں کہا جاتا ہے کیونکہ ماں کا دل نرم گداز سمندر جیسا گہرا اور آسمان کی طرح وسیع ہوتا ہے۔ ماں اولاد سے حد درجہ پیار کرتی ہے، نفرت کا شائبہ تک نہیں ہوتا۔ غلطی در غلطی پر معاف بھی کرتی ہے اور سینے سے بھی لگاتی ہے۔ کبھی کبھار اولاد کا لہجہ تلخ بھی ہو جاتا ہے تو معاف کرنے کا حوصلہ ماں کا

Read more

رُوداد ایک تربیتی ورکشاپ کی

جب مسقط کے اسکول میں ایک تربیتی ورکشاپ کے انعقاد کی خبر اُڑتے اُڑتے آئی تو ہر ایک حیران تھا کہ اسکول اور تربیتی ورکشاپ! یا اللہ خیر۔ اب بوڑھے طوطوں کو پڑھایا جائے گا، یعنی تعلیمِ بالغاں کا سیشن ہو گا۔ گو کہ طویل مدت سے اس تعلیمی ادارے میں کوئی تربیتی ورکشاپ نہیں ہوئی تھی۔ تربیتی ورکشاپ کا انعقاد اس لیے بھی ضروری ہوتا ہے کہ اساتذہ کئی سالوں سے لگے بندھے اصولوں کے تحت تدریسی فرائض انجام

Read more

وزیرِ اعلیٰ پنجاب اور دیگر خواتین سربراہ مملکت

موجودہ دور سوشل میڈیا کا دور ہے ہر ایک اسی کا دلدادہ ہے دنیا بھر میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد کے پاس ٹچ موبائل ہے۔ موبائل ہاتھ میں کیا آیا جو بات پہلے کئی دن بعد دوسروں تک پہنچتی تھی اب منٹوں سیکنڈوں میں پہنچ جاتی ہے۔ اس حوالے سے ٹک ٹاک اور واٹس ایپ سب سے زیادہ دیکھی جاتی ہیں۔ جس میں لوگ مختلف سوانگ بھر کے مختلف حرکتیں کرتے نظر آتے ہیں۔ آج سے کئی سال پہلے

Read more

سفید گلاب (افسانہ)

شہر کی سب سے خوبصورت سڑک کو دونوں جانب سے بڑے بڑے گھنے سرسبز درختوں نے ڈھانپ رکھا تھا اس دو رویہ سڑک کی خوبصورتی کو جو چیز بڑھا رہی تھی وہ درمیان میں بہتی ہوئی نہر تھی۔ نہر کا مٹیالہ پانی اٹکھیلیاں کرتے ہوئے رواں دواں تھا مگر ٹریفک نہ ہونے کے برابر تھی، کہیں اکا دکا گاڑی گزرتی دکھائی دے رہی تھی۔ نہر کنارے سڑک کو لاہور کے حسن کا جھومر سمجھا جاتا ہے مگر آج اس کا

Read more

نہاتی دھوتی رہ گئی تے نک اتے مکھی بہہ گئی

میاں صاحب کی سیاسی ولادت با سعادت تو جنرل جیلانی اور جنرل ضیا الحق کی عسکری چھتری تلے ہوئی، لیکن یہی چھتری بار بار چھن جاتی رہی، ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ قسمت کے دھنی ہیں، اقتدار کی راہداریوں سے بار بار نکالے جانے کے باوجود کچھ عرصے بعد اقتدار کے سنگھاسن پر براجمان ہو جاتے رہے۔ 2024 کا الیکشن انہی کی خواہش پر دو چیف کی رضا مندی سے شرمندۂ تعبیر ہوا، انہیں باور کرایا

Read more

مجھے میری محبوبہ سے بچاؤ! (طنز و مزاح)

محبوبہ تو محبوبہ ہوتی ہے چاہے جیسی بھی ہو۔ کچھ ناز نخرے دکھاتی ہیں اور کچھ ناز نخرے اٹھاتی ہیں، پر ہمارے والی تو انوکھی اولڑی بلکہ وکھری ٹائپ کی ہے۔ کوئین بننے کا بڑا شوق ہے لیکن پکی ”سیاپا کوئین“ ہے یعنی محبوبہ کم ماسی مصیبتے زیادہ ہے۔ چلتی پھرتی آٹومیٹک رائفل ہے کسی بھی وقت ڈزز ڈزز ہو سکتا ہے، عجیب عجیب پٹھے پٹھے خیال اس کے ذہن میں ایسے آتے ہیں جیسے آج کل حکومتی وزراء کے

Read more

سرخی (طنز و مزاح)۔

سرخی ہونٹوں کی ہو یا اخبار کی، نظریں سب سے پہلے ادھر ہی جاتی ہیں۔ اخبار کی سب سے بڑی سرخی آٹھ کالمی ہوتی ہے جبکہ خوبصورت ہونٹوں کی سرخی بڑی ظالمی ہوتی ہے۔ اپنی بیوی کی سرخی مشکل سے ایک کالمی نظر آتی ہے جبکہ کسی اور کی سرخی آٹھ کالمی ہونے کے ساتھ ساتھ ظالمی بھی لگتی ہے۔ سرخی واحد پراڈکٹ ہے جس پر تقریباً ہر خاتون کے نہ صرف جملہ حقوق بلکہ جمیلہ حقوق بھی محفوظ ہیں۔

Read more

لاک ڈاؤن، حجامت اور بیگم

لاک ڈاؤن کی بدولت گھر میں بیٹھے بٹھائے جہاں وزن بڑھا وہاں بال بھی اپنی حدود سے تجاوز کر کے ادھر ادھر بھٹکتے دکھائی دینے لگے۔ بچوں نے تو یہاں تک کہنا شروع کر دیا اب پونی باندھ لیں یا ہیئر کیچر لگا لیں جبکہ بیگم کہنے لگیں آپ نے زلفوں کو بہت سر پہ چڑھا رکھا ہے۔ ماتھے پر آئے بالوں کو شان بے نیازی سے پھونک مار کے اڑانا چاہا تو بیگم دیکھ کر بولیں اب اس عمر میں وحید مراد نہ بنیں۔ ہم نے بھی ترنت جواب دیا جب سامنے زیبا ہو تو وحید مراد کیا عمران ہاشمی بھی بنا جا سکتا ہے۔

Read more

لاک ڈاؤن: جذبہ حُب الزوجہ اور قیدِ بامشقت

حکومتی لاک ڈاؤن کا اعلان ہوتے ہی بیگم نے لاؤنج میں مشیرِاطلاعات کے انداز میں بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ گھروہ واحد جگہ بلکہ قلعہ ہے جس کی فصیلوں میں ہم سب محفوظ ہیں۔ اس موقع پر جذبہء حُب البیت پرجذباتی تقریر بھی کی اور کہا کہ گھر کا ہر فرد ایک سولجر کی طرح اس محاذ پر خون کا آخری قطرہ بہائے بغیر اپنے فرائض انجام دینے کا پابند ہوگا۔ اس سارے عمل میں آئسولیشن اور جسمانی فاصلہ یعنی

Read more

کرپشن کے کمبھ میلے سے بچھڑے سیاسی گدی نشینوں کا ملاپ

ماضی کی فلموں میں کمبھ میلہ اور اسی طرزکے کچھ میلوں ٹھیلوں کے مناطرعموماً دکھائی دیتے تھے۔ یہ میلے بھی عجیب ہوتے تھے۔ پہلے تو انہی میلوں ٹھیلوں کی وجہ سے کچھ لوگ بچھڑتے ہیں اور پھر بہت سے مصائب اور مشکلات جھیلنے کے باعث میلوں میں ہی بچھڑے ہوؤں کا ملاپ ہو جاتا۔ گزشتہ اتوار کو افطار ڈنر کے موقع پر کچھ اسی قسم کے مناظر دیکھنے کو ملے۔ کمبھ میلہ برصغیر کا سب سے مشہور میلہ ہے۔ یہ

Read more

میری بیوی، میری ملکیت۔۔۔ آخر کب تک؟

ہت تیرے کی۔
تیری کیا اوقات۔
اے پاؤ ں کی جوتی!

مجازیء خدا کے حکم سے سرکشی
اعضائے شاعری سے انکار
گستاخ
تاخ، تڑاخ
لباس تار تار
گیسوئے آبدار، اب گیسوئے بریدہ یعنی تراش تراش

یہ ہے اس دھرتی کے سپوت بلکہ کپوت کا بیانیہ، جن کے نزدیک بیوی زرخرید غلام کے سوا کچھ نہیں۔ یہ وہ معاشرہ ہے جہاں شوہر کو پہلی رات یہ درس دیا جاتا ہے کہ ”گربہ کُشتن روزِ اول“ اور یہ کہ ایک پتنی اپنے پتی دیو کی داسی بن کرہی زندگی بِتا سکتی ہے اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔

Read more

لہو رنگ تتلیاں اور جگنوؤں کا دیس

عمران انکل! میں اریبہ ہوں، اب ہوں بھی یا نہیں۔ آپ تو کم ازکم میرے نام سے واقف ہوں گے اگر نام سے نہیں تو میری تصویر ضرور آپ کی نظروں سے گزری ہو گی کیونکہ اُس دن ( سانحہ ساہیوال کے موقع پر) شایدآپ میری اور میرے خاندان کی تصویر دیکھ کر صدمے سے دوچار ہو گئے تھے۔ میں اُس سفید کارمیں دائیں طرف پیچھے سرخ رنگ میں رنگی ہوئی تھی جب کہ اُس دن شاید میرے کپڑوں کا رنگ کچھ اور تھا۔ جس انکل نے اندھا دھند فائرنگ کی انہوں نے سوچا ہو گا کہ یہ کیسی لڑکی ہے جوشادی پرتو جارہی ہے لیکن سرخ رنگ کا جوڑا نہیں پہنا۔ انہوں نے اتنی ہی گولیاں برسائیں جتنا میرا لباس سرخ ہو سکتا تھا۔

Read more

جناب وزیرِ اعظم! لفظ ”انصاف“ منوں مٹی تلے دفنا دیں یاغرقِ آب کر دیں

مانا کہ آپ سانحہ ساہیوال پر گہرے صدمے میں تھے اور صدمے سے باہر نکلنے کے لیے آپ کو کچھ سجھائی نہیں دے رہا تھا پھر آپ نے سی ٹی ڈی کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ٹویٹ کر کے خود کو اس صدمے سے نکالا جبکہ یہ قوم عرصہ دراز سے حالتِ صدمے میں ہی ہے اور اس سے باہر نکلنے کی آخری کوشش بھی ناکام ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ یہ وہی قوم ہے جس کے اذہان میں آپ نے گزشتہ بائیس برسوں سے انصاف اور تبدیلی کی پنیری لگائے رکھی آج جب اس پنیری کو قد آور درخت میں بدلنے کا وقت آیا تو آپ سب کے ہاتھ پاؤں پھولے ہوئے ہیں قومی اور صوبائی وزراء سانحہ ساہیوال پر آئیں بائیں شائیں کر رہے ہیں۔

Read more

مرزا غالب کا خط شرجیل میمن کے نام

ارے میاں شرجیل! کس حال میں ہو کس خیال میں ہو، مانا کہ تم صاحبِ فراش ہو، جانے کیوں نراش (نا امید) ہو اور ایسی باتیں کر رہے ہو جو سیدھی دل کو چیر رہی ہیں۔ ہرکارۂ خاص دیر سے آیا ہے، لیکن ارضی خبریں لایا ہے۔ قسم لے لو دل پرجو ہاتھ پڑا ہے، وہیں کا وہیں دھرا ہے۔ خدا کا خوف کرو ”مشروبِ خاص ‘‘کی اتنی ناقدری اور بے توقیری کہ دخترِ عنب اور آتشِ سیال کو شہد

Read more

اپوزیشن جماعتیں اور ٹوٹ بٹوٹ کی کھیر

جب عمران خان نے ایک شہسوار کی طرح اقتداری گھوڑے کی باگیں سنبھالی تو سیاسی پنڈتوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ معمولی اکثریت اور مضبوط اپوزیشن کی بنا پریہ اپنی منزل تک شاید ہی پہنچ سکے کیوں کہ اس سفر میں بے شمار کھائیاں اور ڈھلوانیں آتی ہیں ذرا سی غفلت سے پاؤں رپٹا تو اقتدار سے ہاتھ دھونا پڑے گا ۔ عمران کا سامنا ایک مضبوط اپوزیشن سے تھا اگر یہ گھورا سرپٹ بھاگے گا تو مشکل

Read more

ووٹ کی عزت صرف اورصرف پاکستان

ووٹر اور انتخابی امیدوار کا جنم جنم کا رشتہ ہے ووٹر وہ جنم جلا ہے جو ہمیشہ انتخابی امیدوار یا اس کی پارٹی کی چکنی چپڑی باتوں میں آ جاتا ہے۔ امیدوار ایسی لچھے دار باتیں کرتا ہے کہ ووٹر پانچ سال ان لچھے دار باتوں کی گتھیاں سلجھانے میں ہی گزار دیتا ہے۔ امیدوار کے وعدے محبوب کے وعدے کی طرح دراز ہوتے ہیں جو شایدروزِ قیامت ہی پورے ہوں۔ ووٹر ایسی خدائی مخلوق ہے جو ہر بار جھانسے

Read more

کوئی تو میاں صاحب سے پوچھے

ہمارے تین بار کے وزیرِ اعظم المعروف شہنشاہِ جمہوریت مع صاحبزادی یعنی مستقبل کی ملکہء جمہوریت لندن سے وطن پدھارکر سیدھے اڈیالہ کی سلاخوں کے پیچھے جا پہنچے ہیں۔ واپسی کے اس سفرمیں ن لیگ کے حامیوں کے انبوہِ کثیر کے ساتھ ساتھ صحافیوں اور اینکرز کا ایک جمِ غفیربھی ہمراہ تھا۔ اس سفر سے پہلے صرف لفافہ صحافی کی اصطلاح سُنائی دیتی تھی لیکن اس بار ”پری پیڈ جرنلسٹ“ اور ”ایزی لوڈ اینکرز“ کی اصطلاحیں بھی سنائی دے رہی

Read more

چڑھ جا سولی، رام بھلی کرے گا

میاں نواز شریف گزشتہ کئی برس سے بزعم خود ایسا لیڈر تصور کئے ہوئے ہیں کہ ان کا نام تاریخ کے صفحات میں سنہری حروف سے لکھا جائے اورخود کو طیب اردگان، مہاتیر محمد اور نیلسن مینڈیلا سے کسی طور کم نہیں سمجھتے۔ حالاں کہ محکمۂ زراعت والوں نے جس پودے کو خود اپنے ہاتھوں سے سینچا ہو، جس کی خود آبیاری کی ہو، جسے مخصوص کھاد کی عادت ڈالی ہو، جس کی آب و ہوا کا خاص خیال رکھا

Read more

ہم مہوش کے مجرم ہیں

اُس نے دھڑکتے دل کے ساتھ بس کے پائیدان پر قدم رکھا اور جب وہ دو قدم اوپر گئی تواسے انجانے خوف نے گھیر لیا کہ وہ کیسے ان سب کاسامنا کرے گی جیسے ہی اس کی نظر مسافروں پر پڑی تو ایسا محسوس ہوا کہ اسے ابھی یہاں نہیں آنا چاہیے تھا۔ بہر حال اس نے عزم و حوصلہ سے اپنا کام کرنا شروع کردیا۔ اس نے جس عمر میں بس ہوسٹس کا ذریعہ معاش اختیار کیا وہ عمر

Read more