کرپشن کے کمبھ میلے سے بچھڑے سیاسی گدی نشینوں کا ملاپ

ماضی کی فلموں میں کمبھ میلہ اور اسی طرزکے کچھ میلوں ٹھیلوں کے مناطرعموماً دکھائی دیتے تھے۔ یہ میلے بھی عجیب ہوتے تھے۔ پہلے تو انہی میلوں ٹھیلوں کی وجہ سے کچھ لوگ بچھڑتے ہیں اور پھر بہت سے مصائب اور مشکلات جھیلنے کے باعث میلوں میں ہی بچھڑے ہوؤں کا ملاپ ہو جاتا۔ گزشتہ…

Read more

میری بیوی، میری ملکیت۔۔۔ آخر کب تک؟

ہت تیرے کی۔
تیری کیا اوقات۔
اے پاؤ ں کی جوتی!

مجازیء خدا کے حکم سے سرکشی
اعضائے شاعری سے انکار
گستاخ
تاخ، تڑاخ
لباس تار تار
گیسوئے آبدار، اب گیسوئے بریدہ یعنی تراش تراش

یہ ہے اس دھرتی کے سپوت بلکہ کپوت کا بیانیہ، جن کے نزدیک بیوی زرخرید غلام کے سوا کچھ نہیں۔ یہ وہ معاشرہ ہے جہاں شوہر کو پہلی رات یہ درس دیا جاتا ہے کہ ”گربہ کُشتن روزِ اول“ اور یہ کہ ایک پتنی اپنے پتی دیو کی داسی بن کرہی زندگی بِتا سکتی ہے اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔

Read more

لہو رنگ تتلیاں اور جگنوؤں کا دیس

عمران انکل! میں اریبہ ہوں، اب ہوں بھی یا نہیں۔ آپ تو کم ازکم میرے نام سے واقف ہوں گے اگر نام سے نہیں تو میری تصویر ضرور آپ کی نظروں سے گزری ہو گی کیونکہ اُس دن ( سانحہ ساہیوال کے موقع پر) شایدآپ میری اور میرے خاندان کی تصویر دیکھ کر صدمے سے دوچار ہو گئے تھے۔ میں اُس سفید کارمیں دائیں طرف پیچھے سرخ رنگ میں رنگی ہوئی تھی جب کہ اُس دن شاید میرے کپڑوں کا رنگ کچھ اور تھا۔ جس انکل نے اندھا دھند فائرنگ کی انہوں نے سوچا ہو گا کہ یہ کیسی لڑکی ہے جوشادی پرتو جارہی ہے لیکن سرخ رنگ کا جوڑا نہیں پہنا۔ انہوں نے اتنی ہی گولیاں برسائیں جتنا میرا لباس سرخ ہو سکتا تھا۔

Read more

جناب وزیرِ اعظم! لفظ ”انصاف“ منوں مٹی تلے دفنا دیں یاغرقِ آب کر دیں

مانا کہ آپ سانحہ ساہیوال پر گہرے صدمے میں تھے اور صدمے سے باہر نکلنے کے لیے آپ کو کچھ سجھائی نہیں دے رہا تھا پھر آپ نے سی ٹی ڈی کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ٹویٹ کر کے خود کو اس صدمے سے نکالا جبکہ یہ قوم عرصہ دراز سے حالتِ صدمے میں ہی ہے اور اس سے باہر نکلنے کی آخری کوشش بھی ناکام ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ یہ وہی قوم ہے جس کے اذہان میں آپ نے گزشتہ بائیس برسوں سے انصاف اور تبدیلی کی پنیری لگائے رکھی آج جب اس پنیری کو قد آور درخت میں بدلنے کا وقت آیا تو آپ سب کے ہاتھ پاؤں پھولے ہوئے ہیں قومی اور صوبائی وزراء سانحہ ساہیوال پر آئیں بائیں شائیں کر رہے ہیں۔

Read more

مرزا غالب کا خط شرجیل میمن کے نام

ارے میاں شرجیل! کس حال میں ہو کس خیال میں ہو، مانا کہ تم صاحبِ فراش ہو، جانے کیوں نراش (نا امید) ہو اور ایسی باتیں کر رہے ہو جو سیدھی دل کو چیر رہی ہیں۔ ہرکارۂ خاص دیر سے آیا ہے، لیکن ارضی خبریں لایا ہے۔ قسم لے لو دل پرجو ہاتھ پڑا ہے،…

Read more

اپوزیشن جماعتیں اور ٹوٹ بٹوٹ کی کھیر

جب عمران خان نے ایک شہسوار کی طرح اقتداری گھوڑے کی باگیں سنبھالی تو سیاسی پنڈتوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ معمولی اکثریت اور مضبوط اپوزیشن کی بنا پریہ اپنی منزل تک شاید ہی پہنچ سکے کیوں کہ اس سفر میں بے شمار کھائیاں اور ڈھلوانیں آتی ہیں ذرا سی غفلت سے پاؤں…

Read more

ووٹ کی عزت صرف اورصرف پاکستان

ووٹر اور انتخابی امیدوار کا جنم جنم کا رشتہ ہے ووٹر وہ جنم جلا ہے جو ہمیشہ انتخابی امیدوار یا اس کی پارٹی کی چکنی چپڑی باتوں میں آ جاتا ہے۔ امیدوار ایسی لچھے دار باتیں کرتا ہے کہ ووٹر پانچ سال ان لچھے دار باتوں کی گتھیاں سلجھانے میں ہی گزار دیتا ہے۔ امیدوار…

Read more

کوئی تو میاں صاحب سے پوچھے

ہمارے تین بار کے وزیرِ اعظم المعروف شہنشاہِ جمہوریت مع صاحبزادی یعنی مستقبل کی ملکہء جمہوریت لندن سے وطن پدھارکر سیدھے اڈیالہ کی سلاخوں کے پیچھے جا پہنچے ہیں۔ واپسی کے اس سفرمیں ن لیگ کے حامیوں کے انبوہِ کثیر کے ساتھ ساتھ صحافیوں اور اینکرز کا ایک جمِ غفیربھی ہمراہ تھا۔ اس سفر سے…

Read more

چڑھ جا سولی، رام بھلی کرے گا

میاں نواز شریف گزشتہ کئی برس سے بزعم خود ایسا لیڈر تصور کئے ہوئے ہیں کہ ان کا نام تاریخ کے صفحات میں سنہری حروف سے لکھا جائے اورخود کو طیب اردگان، مہاتیر محمد اور نیلسن مینڈیلا سے کسی طور کم نہیں سمجھتے۔ حالاں کہ محکمۂ زراعت والوں نے جس پودے کو خود اپنے ہاتھوں…

Read more

ہم مہوش کے مجرم ہیں

اُس نے دھڑکتے دل کے ساتھ بس کے پائیدان پر قدم رکھا اور جب وہ دو قدم اوپر گئی تواسے انجانے خوف نے گھیر لیا کہ وہ کیسے ان سب کاسامنا کرے گی جیسے ہی اس کی نظر مسافروں پر پڑی تو ایسا محسوس ہوا کہ اسے ابھی یہاں نہیں آنا چاہیے تھا۔ بہر حال…

Read more