ساہیوال اور آرمی پبلک سکول پر اتنا شدید عوامی رد عمل کیوں ہوا؟


یووال نوح ہراری ایک اہم مفکر کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ اپنی کتاب ”اکیسویں صدی کے لئے اکیس سبق“ میں وہ دہشت گردی پر بھی ایک مختصر سا تبصرہ کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ”دہشت گرد تعداد میں بہت تھوڑے ہوتے ہیں۔ وہ کوئی بڑا جانی یا مالی نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ کروڑوں شہریوں میں وہ سال بھر میں چند درجن مار سکتے ہیں۔ لیکن ان کا اصل مقصد خوف پیدا کرنا ہوتا ہے۔ “

”دہشت گرد یہ امید کرتے ہیں کہ گو وہ اپنے دشمن کو بہت چھوٹا سا نقصان پہنچائیں گے، لیکن اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے خوف اور کنفیوژن کے باعث وہ اپنی دشمن حکومت کو پریشان کر دیں گے۔ حکومت عوام کو مطمئن کرنے کے لئے غیر ضروری طور پر شدید ردعمل دے گی۔ اس ردعمل کے دوران حکومت سے غلطیاں بھی سرزد ہوں گی، ظلم اور زیادتی بھی ہو گی، عوام کی رائے تبدیل ہو گی اور وہ اپنی حکومت کو دشمن سمجھنے لگیں گے۔ نتیجے میں دہشت گردوں کی عوامی حمایت میں اضافہ ہو گا۔ “

”دہشت گرد ایک مکھی جیسے ہوتے ہیں۔ وہ چینی برتنوں کی دکان میں ایک کپ تک نہیں توڑ سکتی۔ وہ اسے کیسے تباہ کر سکتی ہے؟ وہ ایسا کرے گی کہ ایک تنومند سانڈ تلاش کرے گی اور اس کے کان میں بھنبھنانا شروع کر دے گی۔ سانڈ خوف اور غصے سے پاگل ہو جائے گا۔ اور دکان میں موجود ہر برتن کو کرچی کرچی کر ڈالے گا۔ “

”یہی نائن الیون کے بعد امریکہ میں ہوا جب اسلامی بنیاد پرستوں نے امریکی سانڈ کو مشرق وسطی کی چینی برتنوں کی دکان توڑنے پر مائل کر دیا۔ اور اب وہ دہشت گرد اس تباہی سے طاقت پکڑ رہے ہیں۔ اور دنیا میں ایسے جلد اشتعال میں آنے والے سانڈوں کی ہرگز بھی کوئی کمی نہیں ہے۔ “

یووال نوح ہراری درست کہتے ہیں۔ ایسے مشتعل اور خوفزدہ سانڈوں کی دنیا میں ہرگز کوئی کمی نہیں ہے۔ ہم خوف کا شکار ہیں۔ ہمارا خوف ہماری حکومت کو خوفزدہ کرتا ہے۔ نتیجے میں ساہیوال جیسے واقعات ہو جاتے ہیں۔ ہم مزید خوفزدہ ہو جاتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ ہماری حکومت ہمیں تحفظ نہیں دے رہی ہے۔ ہم اس ملک کو چھوڑ دیں یا کیا کریں۔ حکومت پر یہ عدم اعتماد ہی دہشت گردوں کا مقصد ہے۔

ساہیوال واقعے کے بعد حکومت نے بڑی غلطی یہ کی کہ عوامی خوف کو کم کرنے کے لئے انہیں تسلی نہیں دی۔ مختلف کہانیاں بیان کرتی رہی اور بدلتی رہی۔ نتیجہ یہ کہ رہا سہا اعتماد بھی پاش پاش ہو گیا۔ بہتر ہوتا کہ خبر آتے ہی وزیراعلی اپنی میانوالی کی فیتے کاٹنے کی مصروفیات ترک کر کے سیدھا ساہیوال پہنچتے اور وہاں اپنا کیمپ آفس لگا لیتے۔ ان کی وہاں موجودگی ہی عوام کے لئے ایک بڑی تسلی کا باعث ہوتی کہ ہمارا نمائندہ معاملات کو خود دیکھ رہا ہے۔

اس کے بعد وزرا کے ذریعے الٹے سیدھے بیانات دلوانے کی بجائے، جن سے حکومت کی اپنی کریڈیبلٹی تباہ ہو گئی، وزیراعلی عوام کو تسلی کے دو بول بولتے اور یقین دلاتے کہ ”جو بھِی ذمہ دار ہو گا اس کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا اور اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ آئندہ ایسا نہ ہو“، تو حالات اتنے زیادہ نہ بگڑتے۔ پنجاب حکومت تو فیل ہو گئی۔ اب وزیراعظم عمران خان کو خود اس معاملے کو مناسب انداز میں دیکھنا چاہیے اور عوام کا غم بانٹنے اور ان کے خوف کو دور کرنے پر فوکس کرنا چاہیے۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1544 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar