ساہیوال اور آرمی پبلک سکول پر اتنا شدید عوامی رد عمل کیوں ہوا؟
ہم تیسری دنیا کے ایک ملک میں رہتے ہیں اور ہر دم اس کی قیمت چکاتے ہیں۔ انسانی جان کی ہمارے ملک میں کوئی خاص اہمیت نہیں ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ آرمی پبلک سکول پشاور میں سوا سو بچے اور ساہیوال میں محض چار افراد کے مار دیے جانے پر اتنا شدید عوامی ردعمل آیا ہے؟ اگر یہ توجیہہ دی جائے کہ بچے اور خواتین بھِی اس گاڑی میں تھے اس لئے زیادہ ردعمل آیا، تو پھر پیر کو پنجگور سے کراچی جانے والی بس پر ویسا ردعمل کیوں نہیں آیا جس میں 27 افراد جل کر کوئلہ ہو گئے۔ میڈیا سے بمشکل یہ پتہ چل رہا ہے کہ مرنے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے، مگر ابھی تک کوئی ایسی رپورٹ نظر سے نہیں گزری جو بتاتی ہو کہ کتنے بچے اور خواتین جل مرے ہیں۔ اسی سے میڈیا اور عوام کی اس واقعے میں عدم دلچسپی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
ایک توجیہہ تو یہ ہے کہ میڈیا کو ریٹنگ بڑے شہروں سے ملتی ہے، اس لئے بڑے شہروں کی چھوٹی خبر بھی، دور دراز علاقوں کی بہت بڑی خبر سے زیادہ اہم قرار پاتی ہے۔ کراچی یا لاہور میں گاڑی میں آگ لگنے سے اگر ایک شخص بھِی زندہ جل جاتا تو کہرام مچ جاتا۔ اس بدقسمت گاڑی میں کوئی ایک بچہ بھی ہوتا تو ایک ہفتے سے پہلے وہ خبر میڈیا سے نہیں ہٹنی تھی۔ دوسری طرف لسبیلہ میں 27 افراد کے جل مرنے پر بھی فوکس نہیں کیا گیا۔
اس کی بنیادی وجہ انسانی فطرت ہے۔ جو واقعہ ہمارے آس پاس رونما ہو، اس میں ہماری دلچسپی زیادہ ہوتی ہے۔ اگر پنجگور اور لسبیلہ والوں سے پوچھیں گے تو ان کو ساہیوال میں بہت کم دلچسپی ہو گی اور وہ اپنے علاقے کے واقعے پر سخت دلگرفتہ ہوں گے۔ واقعہ خوفناک ہو تو ہمیں یہ خوف بھی ستاتا ہے کہ یہ ہمارے ساتھ نہ ہو گیا ہوتا۔ بلوچستان، وزیرستان اور فاٹا ہم میں سے بیشتر نے زندگی بھر نہیں دیکھا ہوتا، ہم میڈیا کی خبروں سے فرض کر لیتے ہیں کہ ادھر بے پناہ شورش برپا ہے اور جنگ ہو رہی ہے۔ ادھر سے جانی نقصان کی خبریں آتی رہتی ہیں۔ ہم خود کو تسلی دے لیتے ہیں کہ ہماری جان کو اس سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ ہماری یہ تسلی اپنی جگہ لیکن ادھر کے مظلوم ہی جانتے ہیں کہ ان پر کیا گزر رہی ہے۔
کبھِی پڑھا تھا کہ مارکیٹنگ کا ایک اصول ہوتا ہے کہ گاہک کی توجہ کھینچنی ہو تو اسے ماڈل میں خود اپنا عکس دکھائی دینا چاہیے۔ اب اشتہارات میں آپ کو خوبصورت حسیناؤں کے علاوہ عام زندگی کے موٹے ٹھگنے بوڑھے عام سے ماڈل بھی دکھائی دیتے ہیں۔ ان ماڈلز میں گاہک اپنا عکس دیکھتا ہے اور سوچتا ہے کہ یہ شے جس کی مارکیٹنگ کی جا رہی ہے، ہم جیسے لوگوں کے لئے بنی ہے۔ یہ شخصی شناخت اہم ہے۔
اسی وجہ سے جب آرمی پبلک سکول پشاور میں دہشت گردی ہوئی تھی تو ملک بھر میں مائیں اپنے بچوں کو تھام کر رہ گئیں۔ وہ انہیں سکول بھیجنے سے انکاری ہو گئیں۔ ان کو یہی لگا کہ قسمت تھی کہ یہ دوسروں کے بچے مرے، ان کی جگہ ہمارے بچے بھی مر سکتے تھے۔ غمزدہ ماؤں اور باپوں میں سب کو اپنا عکس دکھائی دے رہا تھا۔ جیتے جاگتے بچوں کو خون میں نہاتے دیکھ کر سب اپنے بچوں کو سینے سے لگا رہے تھے۔ دہشت گردوں کا مقصد یہی تھا کہ ملک بھر کو دہشت زدہ کر دیا جائے۔
ساہیوال واقعے میں بھی یہی شخصی شناخت کا عنصر کارفرما ہے۔ آپ نوٹ کریں کہ جن لوگوں نے سڑکوں پر آ کر احتجاج کیا وہ اہل محلہ تھے۔ ان کو اس حادثے کے بعد اپنی جان خطرے میں دکھائی دے رہی تھی۔ جو لوگ سوشل میڈیا پر احتجاج کر رہے ہیں ان پر غور کریں۔ ہمارے جیسے مڈل کلاسیے ہیں جن کے لئے پہلی گاڑی خریدنا ایک بڑا کارنامہ ہوتا ہے۔ اس گاڑی میں وہ اپنی فیملی کو لے کر سیر تفریح کے لئے نکلتے ہیں۔ کبھِی شہر میں کھانے پینے۔ کبھی دوسرے شہروں میں رشتے داروں سے ملنے۔ کبھِی تفریحی مقامات پر گھومنے پھرنے۔
ہر مڈل کلاسیا یہی سوچ رہا ہے کہ یہ گاڑی ہماری بھی ہو سکتی تھی جس پر کسی سوال جواب کے بغیر فائر کھول دیا گیا۔ اس پر ستم ان تین بچوں کی تصویروں نے ڈھایا جو زندہ چھوڑ دیے گئے۔ کیا ان تین بچوں کو دیکھ کر آپ کو اپنے بچوں کا خیال نہیں آ رہا ہے؟ کیا آپ یہ نہیں سوچ رہے ہیں کہ خدانخواستہ آپ خود اس طرح لاش میں تبدیل کر دیے جاتے تو آپ کے بچے اس طرح بے یار و مددگار کھڑے ہوتے اور ان کی باقی ماندہ زندگی محرومیوں کے سائے میں گزرتی؟
ہمیں اپنی ذات کا خیال آ رہا ہے۔ اس لئے ہم شدید غم اور غصے میں ہیں۔ یہ فیملی ہماری اپنی فیملی کا عکس ہے۔ اسے مار ڈالا گیا ہے۔ ہمیں مار ڈالا گیا ہے۔
اسی دن دو موٹرسائیکل سواروں کو گوجرانوالہ میں اسی فورس نے مارا ہے۔ ان دونوں میں ہمیں اپنا عکس دکھائی نہیں دیا۔ ہم نے اس واقعے کو اہم نہیں سمجھا۔ اسے ہم روٹین کی خبر سمجھ کر اگنور کر گئے۔
یہ کہا گیا کہ اس گاڑی کو دہشت گرد استعمال کرتے رہے تھے۔ اس لئے اسے ٹریک کیا جا رہا تھا اور اس کے شہر سے باہر نکلنے پر اس کے خلاف کارروائی کی گئی۔ میڈیا کی بعض اطلاعات کے مطابق ذیشان نے یہ گاڑی کہیں سے کرائے پر لی تھی اور بطور ڈرائیور اس بدقسمت خاندان کے ساتھ گیا تھا۔ اب حکومت ایک منٹ کے لئے یہ تو سوچے کہ آج کل اوبر اور کریم کا دور ہے۔ کل میں یا آپ اپنی فیملی کو ایک ایسی بے نشان ٹیکسی میں بٹھا کر لاہور سے شیخوپورہ جائیں تو کیا اس بنیاد پر ہماری فیملی پر بغیر کسی سوال جواب کے گولیوں کا مینہ برسا دینا جائز ہو گا کہ تین دن پہلے چند دہشت گرد وہ کریم ٹیکسی استعمال کرتے رہے تھے؟
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


