کاش ہر دل میں دردِ وطن ہوتا
گُزشتہ روز ٹیلی وژن کے سامنے بیٹھا تھا کہ اچانک سے ساہیوال واقعہ کی خبر ہر چینل پر بریکنگ نیوز کی شکل اختیار کر گئی، ایسا لگا جیسے کسی منڈی میں گویا کوئی نیا مال آیا ہو اور اس کی بولی لگنے لگی ہو۔ خبر بلا شبہ دل کو دہلا دینے والی تھی جس میں چار قیمتی جانیں بے دردی کے ساتھ لے لی گئی مگر ساتھ ہی تعجب طاری ہونے لگا جیسا کے باقی دنیا کی تمام تَر کام تھم سے گئے ہوں۔
ابھی ٹی وی چینلز نے سودا بیچنا ہی شروع کیا تھا کہ ساتھ ہی ہمارے ملک کے درد مند سیاستدان بھی میدان میں اترے اور یہ گُمان ہوا کہ ان جیسے فکر مند طبقے کے ہوتے ہوئے عوام کے ساتھ زیادتی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا، مگر پھر خود کو حقیقت پسندی کا درس پڑھانے والے ناصر کو جنجھوڑا اور اس مفاد پرستی میلے کے گمان سے خود کو باہر نکالا تو احساس ہوا کہ یہ نا تو ہم یورپ و امریکہ کی طرح باشعور قوم ہیں اور نا ہی یہ میڈیا اور سیاستدان عوام کے لیے درد رکھنے والی مخلوق۔
اس ریس میں ہمارے نجی نشریاتی اداروں نے اس وقت دل کو ریزہ ریزہ کر دیا جب ان معصوم بچوں کو بھی نا بخشا اور ان کے انٹرویوز کیے گئے جنھوں نے اسی دن اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے والدین کو معافیاں مانگتے اور درندگی سے قتل ہوتا دیکھا۔ افسوس اس وقت اور شدت اختیار کر گیا جب نعشوں کو بھی گویا اس طرح سے فلمبند کیا گیا تاکہ ہیڈ لائن کا خاص حصہ بنایا جا سکے۔
بد قسمتی سے بھیڑ چال میں چھپے یہ وہ پارسا ہیں جو کسی کے جنازے کو بیچ کر بھی اپنی کامیابی کا جشن منانے سے گریز نہیں کرتے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ ہم غوروفکر کا شعور کھو کر ہر روز اس راہ پر چل پڑتے ہیں جس پر ہمیں مادر پِدر آزاد میڈیا لگا دیتا ہے اور پس پردہ اس کے پیچھے ان سیاسی کرداروں کا عمل ہو تا ہے جو براہِ راست تو ہمارے ہمدرد دکھائی دیتے ہیں مگر در حقیقت اور پس پردہ ان کا صرف ذاتی مفاد ہی اس کی اصل وجہ ہوتی ہے۔
بہت امید تھی کہ نئے دورِ حکومت میں مُلک میں انقلاب برپا ہوگا مگر عزتِ ماب سیاستدان نئی سیاسی پارٹی کا نقاب پہن کر وہی دہائیوں پرانی تدبیریں اختیار کرتے رہے اور حکومتی اداروں کا دفاع کرتے اور پھولوں کی مالا لیے لواحقین سے ہمدردی کرتے نظر آئے۔
مقصد ہر گز صرف تنقید کرنا نہیں اور نا ہی اس بات کو جھٹلانا ہے کہ اس موضوع کو اجاگر کیا گیا مگر کبھی کبھی دل بہت اداس ہو جاتا ہے کہ کاش ان تمام سیاستدانوں اور نام نہاد میڈیا ہاوسز کے دل میں وہ درد ہوتا جو جمہور اور اس وطن کی مٹی کا وفادار ہوتا۔


