قصوروار کون۔۔
آج شام کی فراغت میں تنہا بیٹھا تو دن بھر کی خبریں دماغ میں گردش کرنے لگیں جو کہ نا چاہتے ہوئے بھی بار بار ہر چینل پر الفاظ و انداز بدلے سوچ میں نقش ہو چکی تھیں تو کسی سیاسی پارٹیکی جانبداری کیے بغیر ملکی حالات کا جائزہ لینے لگا۔ سب سے پہلے میڈیا چینلز کی کامیابی کا اعتراف کرتے ہوئے دماغ میں معاشی بحران اور مہنگائی کی گھنٹی بجنے لگی اور امریکی ڈالر کی اڑان اور پاکستانی روپیہ پریشانی میں نظر آئے اور ان کے سامنے چاہتے ہوئے بھی کسی اور پریشانی کی ہمت نہ ہوئی کہ سوچ وچار میں مدمقابل آسکے۔ گویا کہ باقی سب مسائل جیسے پاکستان میں کسی اہمیت و توجہ کے قابل ہی نہ ہوں
Read more
