بہتر ہے وہ گناہ جو زندگی دے دے

لیکن۔!
کل ہی ڈاکٹرز نے خبر دی ہے کہ یہ دونوں نابینا افراد اب دیکھنے کے قابل ہوجائیں گے۔
یعنی کہ۔!
وہ تاریکی سے نکل کر رنگ ونور کے جہان میں واپس آجائیں گے۔ مدتوں بعد دیکھ پائیں گے کہ والدین کے خد وخال کتنے بدل گئے۔ دیکھ پائیں گے کہ بچے اب دکھنے میں کیسے لگتے ہیں۔ آئینے میں خود کو دیکھ پائیں گے کہ ہم کیا سے کیا ہوگئے۔ جس سمت سے آواز آئے گی اس سمت پہ کان ہی نہیں نگاہ بھی رکھیں گے۔ یہ رستہ کہاں کو جارہا ہے اور یہ سامنے کیا لکھا ہے، سب دکھائی اور سمجھائی دینے لگے گا۔ اب وہ لکھ سکیں گے اور پڑھ بھی سکیں گے۔ دیکھ سکیں گے اور دکھا بھی سکیں گے۔ جان سکیں گے اور پہچان بھی سکیں گے۔ وہ زندگی جو روٹھ گئی تھی، اب جی اٹھے گی۔
سوچیے۔!

پتہ ہے۔؟
یہ سب ایک گناہ کا نتیجہ ہے۔ ایک گناہ، جو ایدھی نے اپنی آنکھیں عطیہ کر کے انجام دیا ہے۔ جی ہاں ایدھی کی آنکھیں دو نابینا شہریوں کو لگادی گئی ہیں۔
خدا ہی جانے!
گناہ اور ثواب کے پیمانے کیا ہوتے ہوں گے، کچھ بھی ہوں اس سے زندگی کو کوئی غرض نہیں۔
بس۔!
اتنا ہم جانتے ہیں کہ وہ کار ثواب، جو کسی کی زندگی چھین لے، اس سے کہیں بہتر ہے وہ گناہ، جو کسی کو زندگی دے دے۔


خوب فرمایا۔ اللہ اکبر کہہ کر دوسروں کو چیتھڑوں میں تبدیل کر کے جنت کے حصول سے بہتر ہے کہ انسان آنکھیں عطیہ کر کے دوزخ میں چلا جائے۔