مٹی کی مونا لیزا – اردو کے شاہکار افسانے


صغراں بی بی کا خیال ہے کہ وہ اگلی سے اگلی تنخواہ پر گلبرگ یا کینال پارک میں کسی جگہ ان بچوں کے لئے زمین کا چھوٹا سا ٹکڑا لے کر وہاں ایک چھوٹا سا تین چار کمروں والا مکان بنوا لے گی۔ دو چھوٹے بچے اب اسکول بھی نہیں جاتے لیکن انشاءاللہ تعالیٰ وہ بھی ایک دن سکول جانا شروع کر دیں گے اور جو دو بچے مزید پیدا ہوں گے وہ بھی سکول ضرور جائیں گے۔ اب کی دفعہ وہ انہیں کانونٹ میں داخل کروانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ جہاں وہ ہر صبح خدا کے بیٹے کی دعا پڑھیں۔ صغراں بی بی کو ممی کہیں، فرفر انگریزی بولیں اور اردو فارسی پڑھ کر تیل بیچنے کی بجائے مقابلے کے امتحان میں بیٹھیں اور اونچا مرتبہ اور لمبی کار اور چوڑے لان والی کوٹھی پائیں۔

کیلشیم کے ٹیکوں کا پورا سیٹ بیس روپے میں آتا ہے۔ یہ تو معمولی بات ہے۔ اب کی وہ اپنے خاوند سے کہے گی کہ ڈاک خانے سے پہلی تاریخ کو گھر آتے ہوئے دو سیٹ لیتے آؤ۔ اپنی کوٹھڑی والا ریفریجریٹر اس نے لال لال سیبوں، سرخ اناروں، موٹے انگوروں، مکھن کی ٹکیوں، تازہ انڈوں اور گوشت کے قتلوں سے بھر دیا ہے۔ بچے سارا مہینہ مزے سے کھائیں گے اور موج اڑائیں گے لیکن خدا کی دی ہوئی ہر نعمت کے ہوتے ہوئے بھی صغراں بی بی کے رخسار کی ہڈیاں باہر کو نکلی ہوئی ہیں۔

کمر میں مستقل درد رہتا ہے، چہرہ زرد ہو کر پیلا پر گیا ہے۔ آنکھیں پھٹی پھٹی سی، ویران ویران سی رہتی ہیں۔ ان آنکھوں نے کیا دیکھ لیا ہے؟ اس کی عمر پچیس سال سے زیادہ نہیں۔ مگر اس کا جسم ڈھل گیا ہے۔ اندر ہی اندر گھل گیا ہے۔ ہاتھ کی نسیں ابھر آئی ہیں۔ کنگھی کرتے ہوئے ڈھیروں بال جھڑتے ہیں۔ ہاتھ پیر ہر وقت ٹھنڈے رہتے ہیں جس طرح ریفریجریٹر میں کریم، پھل اور گوشت ٹھنڈا رہتا ہے۔ صغراں بی بی کی شادی کو پانچ سال ہو گئے ہیں اور خاوند نے اسے صرف چار بچے عطا کیے ہیں۔ خدا اسے سلامت رکھے ابھی اور بچے پیدا ہو ں گے۔

ہر پہلی تاریخ کو اس کے خاوند کو صغراں بی بی سے محبت ہو جاتی ہے۔ جب بیس روپے دودھ والا لے جاتا ہے تو محبت کے اس تاج کا ایک برج گرتا ہے۔ پانچ روپے کرایہ جاتا ہے تو دوسرا برج گرتا ہے۔ پھر بچوں کی فیسیں، کاپیاں، پنسلیں، کتابیں، راشن، دال، آٹا، نمک، مرچ، ہلدی، اوپلے، کپڑا، پریشانی، تفکرات، وسوسے، ملال اور نا امیدیاں اور یہ تاج محل گنبد سمیت زمین کے ساتھ آن لگتا ہے اور خاوند اپنی محبت کی پٹاری میں سے ڈنڈا نکال کر اپنی پہلی تاریخ کی محبوبہ کی پٹائی شروع کر دیتا ہے۔

ونڈر فول ہوم!
”ڈیڈی! آج آپ کامک نہیں لائے!“
”اؤ ممی! یہ جیلی گندی ہے اسے پھینک دیں۔“

”کم آن ڈارلنگ صغراں بی بی! آج الحمرا میں کلچرل شو دیکھیں۔ ڈانس، میوزک، وھاٹ اے تھرل! ہنی! بس یہ وائیٹ ساڑھی خوب میچ کرے گی اور اس کے ساتھ بالوں میں سفید موتیے کے پھولوں کا گجراما ئی مائی! یو آر سویٹ ڈارلنگ صغراں بی بی!“

ندی کنارے یہ کاٹیج کس قدر خوبصورت ہے۔ سرسبز لان، ترشی ہوئی گھاس، قطار میں لگے ہوئے پھولوں کے پودے ایک ملازم غسل خانے میں لکس صابن سے کتے کو نہلا رہا ہے۔ اس کے بعد تولیے سے اس کا جسم خشک کیا جائے گا۔ کنگھی پھیری جائے گی۔ گلے میں ایپرن باندھا جائے گا اور اسے دو آدمیوں کا کھانا کھلا جائے گا اور پھر فورڈ کار میں بیٹھ کر مال روڈ کی سیر کروائی جائے گی۔ آج اگر گوتم بدھ زندہ ہوتا تو وہ جانوروں کے ساتھ انسانوں کی اتنی شدید محبت کو دیکھ کر کتنا خوش ہوتا۔

آج اسے انسانی دکھوں اور مصیبتوں کو دیکھ کر محل چھوڑ کر جنگل میں جا بیٹھنے کی کبھی بھی ضرورت محسوس نہ ہوتی بلکہ وہ محل ہی میں اپنی بیوی بچے اور اور لونڈیوں کے ساتھ رہتا۔ کتوں کی ایک پوری فوج رکھتا، شام کو کلب میں جا کر دوستوں کے ساتھ تاش کھیلتا، سینما دیکھتا اور بچوں کو ساتھ لے کر انہیں کار میں سیر کرواتا۔ اس کے بچے رنگ دار قمیض اور جینز پہن کر گردن اکڑا کر، چھوٹی سی چھاتی پھلا کر، پتلی سی کمر مٹکا کر، کالج والے بس سٹاپوں، اعلٰی ہوٹلوں اور ناچ گھروں کے چکر لگاتے۔

وہ رات کو ایک بجے سوتے اور صبح منہ اندھیرے گیارہ بجے اٹھتے اور دانت صاف کیے بغیر چائے پیتے، اخبار میں فلموں کا پروگرام دیکھتے۔ گرمیاں کبھی مری اور کبھی سوئٹرز لینڈ میں بسر کرتے اور اپنے باپ کا نام روشن کرتے اور اسے کبھی بال منڈوا کر شاہی لبادہ پھینک کر ننگے پاؤں نروان حاصل کرنے کے لئے جنگل کا رخ نہ کرنے دیتے۔

اف! مائی گڈنس! لوہاری دروازے کی اس گندی گلی میں کس قدر حبس ہے۔ یہ لوگ کیسے چارپائی گندی نالیوں پر ڈال کر سو رہے ہیں۔ وھاٹ اے پٹی! مجھے ان لوگوں سے بڑی گہری ہمدردی ہے۔ میں ان کے تمام مسائل سے واقف ہوں۔ میں ہر ہفتے ان کی پھیکی اور بے رس زندگی پر ایک افسانہ لکھتا ہوں۔ میرا خیال ہے کہ میں ان لوگوں کی زندگی پر ایک پر مغز تحقیقی مقالہ لکھ کر سبمِٹ کروا دوں۔ بڑا ونڈر فل سبجیکٹ ہے۔ ڈاکٹریٹ تو وہ پڑی ہے جس طرح وہ کھری چارپائی پڑی ہے، جس پر تین پھنسیوں زدہ بچے اور ایک بچہ زدہ ماں سو رہی ہے۔ میں ناک پر رومال رکھے، پرنالوں سے اپنے اجلے کپڑے بچاتا، ان لوگوں کا گہرا مطالعہ کرتا بدبو دار گلی سے باہر نکل آیا ہوں۔

لاہور میں قیامت کی گرمی پڑ رہی ہے لیکن اس ہوٹل کی فضا کس قدر خنک ہے، ائیرکنڈیشنر بھی خدا کی کتنی بڑی نعمت ہے۔ آج ہوٹل میں بڑی رونق ہے۔ سایہ دار دھیمے قمقموں کی ملائم روشنی میں لوگوں کے چہرے کتنے خواب آور دکھائی دے رہے ہیں۔ یہ کہیں خواب ہی تو نہیں۔ میرا خوابصغراں بی بی کا خواب، اس کے ڈاکئے خاوند کا خواب! ہر ی اوم! وہ پونی ٹیل والی لڑکی کتنی پیار ی ہے اور وہ بلیک ٹشو کی چست قمیض والی دوشیزہ جس کے بالوں میں ریل کے گجرے ہیں، کانوں میں زہریلے رنگ کے نگینے ہیں اور جس کا چہرہ باقاعدہ اور قوت بخش غذاؤں کے اثر سے کھانا کھانے والے چاندی کے چمچ کی طرح چمک رہا ہے اور وہ مرغن چہرے والی موٹی عورت جس کی آدھی آستینوں والی قمیض بازوؤں پر گوشت کے اندر دھنس گئی ہے۔

اس عورت کا چہرہ موم کے بت کی طرح ہے۔ بے حس اور ٹھنڈا۔ اس کی گاڑی چودہ گز لمبی ہے اور غسل خانے کا فرش بارہ مربع گز ہے۔ اس نے ریڈیو گرام جرمنی سے منگوایا ہے۔ قالین ایران سے، عطر فرانس سے، کیمرہ امریکہ سے، خاوند پاکستان سے حاصل کیا ہے۔ جتنے پیسوں کا صغراں بی بی کے ہفتے بھر کا راشن آتا ہے اتنے پیسے یہ بیرے کو ٹپ کر دیتی ہے۔ اس کے بنگلے میں چار کتے اور سات بیرے رہتے ہیں۔ یہ ہمیشہ چاندی کے کافی سیٹ میں کافی پیتی ہے۔ چاندی کے برتنوں میں بڑی خوبی یہ ہوتی ہے کہ ایک تو انہیں زنگ نہیں لگتا دوسرے وہ نان پوائزنس ہوتے ہیں۔ ایک سیٹ اپنے گھریلو استعمال کے لئے لوہاری دروازے کی گلی والے ڈاکئے کو بھی خرید لینا چاہیے۔

یہ ہوٹل تو بالکل جنت ہے۔ ایک جوڑا سب سے الگ بیٹھا ہے۔ لڑکی دبلی پتلی سی ہے۔ چست کپڑوں نے اسے اور دبلا بنا دیا ہے۔ بال ماتھے پر ہیں۔ ناخنوں پر ریڈ انڈین گلابی رنگ کا پالش چمک رہا ہے۔ اسی شیڈ کی لپ اسٹک کی ہلکی سی تہہ پتلے پتلے ہونٹوں پر ہے۔ چہرے پر نسوانی نزاکت کے ساتھ ساتھ جذبات کا دھیما دھیما ہیجان سا ہے۔ کان اپنے ساتھی کی باتوں پر ہیں اور بے چین آنکھیں موقع ملنے پر ایک ایک میز کا جائزہ لے رہی ہیں۔ لڑکے کی گردن کالی بو اور بارڈر کالر میں بری طرح پھنسی ہوئی ہے۔ ان کے سامنے کولڈ کافی کے گلاس ہیں۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3