مٹی کی مونا لیزا – اردو کے شاہکار افسانے
”روشی ڈارلنگ! میں پرومس کرتا ہوں کل سے صنوعی کے ساتھ کوئی کنسرن نہیں رکھوں گا۔“
”شٹ اپ بگ لائرتم مجھ سے فلرٹ کر رہے ہو۔“
”فار گاڈ سیک ڈونٹ تھنک لائیک دیٹ آئی نو یو ڈارلنگ!“
”لائی، جھوٹ، بالکل جھوٹ۔“
”میں یو کے سے واپس آتے ہی تم سے شادی کر لوں گا۔“
”تم وہاں شادی کر کے آؤ گے۔“
”نو نیورتم خود دیکھ لو گی۔ پھر ہم دونوں یو کے چلے جائیں گے اور وہیں جا کر سیٹل ہو جائیں گے۔ میں اس گندے شہر سے بور ہو گیا ہوں بیرا!“
”یس سر۔“
”ایک کریم پف“
”یس سر۔“
”ووڈ یو لائیک مور ڈارلنگ؟“
”نو تھینک یو“
میں بھی سوچ رہا ہوں کہ یو کے جا کے سیٹل ہو جاؤں۔ میں بھی اپنی گندی گلیوں سے بور ہو گیا ہوں۔ شاید میں صغراں بی بی اور اس کی گلی میں کھڑی چارپائی پر ماں کے ساتھ سونے والے پھنسی زدہ بچوں کو بھی لیتا جاؤں۔
”بیراتھری سکویش مور۔“
اوپر گیلری کو جانے والی سیڑھیوں کے پاس والی میز پر تین میڈیکل سٹوڈنٹ بیٹھے باتیں کر رہے ہیں۔ گفتگو برشی باردوت کے کولھوں، ایگاتھا کرسٹی کے ناولوں اور پکاڈلی کی پر اسرار گلیوں سے ہو کر میڈیکل پیشے میں آ کر ٹھہر گئی ہے۔
”یار! میں تو فائنل سے نکل کر سیدھا لندن چلا جاؤں گا۔ یہاں کوئی فیوچر نہیں ہے۔“
”بالکل میں بھی وہیں جا کر پریکٹس کروں گا۔ برادر وہاں پیسہ بھی ہے اور مریض بھی بڑے پالشڈ ہوتے ہیں۔“
”یار میں تو یو کے جا کر کینسر ٹریٹمنٹ میں سپیشلائز کروں گا۔ یہاں کینسر سپیشلسٹ کے بڑے چانسز ہیں۔ بیس روپے فیس رکھوں گا اور ایک سال بعد اپنا کریم کلر کی ففٹی ایٹ ماڈل شو ہو گی اور گلبرگ میں ایک کوٹھی“
”بھئی یار تم نے ہل مین کیوں بیچ دی؟“
”چھکڑا ہو گئی تھی۔ آئل بڑا کھانے لگی تھی۔“
”شی! مس قریشی آ رہی ہے۔“
”صدیقی! تم نے اس کی بڑی بہن مسز ارشاد کو پرسوں گرفن میں دیکھا تھا؟ ارے بھئی۔ تم ساتھ ہی تو تھے۔ کیا کلاس ون عورت ہے۔“
”نو ڈاؤٹ بالکل لولو بریجڈا“
سب لوگ پاکستان سے باہر جا رہے ہیں۔ کوئی برشی باردوت کے پاس، کوئی لولو بریجڈا کے پاس، کسی کو بیوی لئے جار ہی ہے، کوئی بیوی کو لئے جا رہا ہے، کسی کو پیسہ کھینچ رہا ہے اور کسی کو پالشڈ قسم کے مریض۔ ہم لوگ کہاں جائیں؟ میرا بھائی ڈاکیہ کہاں جائے گا؟ صغراں بی بی کہا ں جائے گی؟ اس کے بیمار بچوں کا علاج کون کرے گا؟ مثانے کی بیماری میں نیم حکیم سے گردے کی درد کی دوا کھا جانے والے دیہاتی کہاں جائیں گے؟ ان لوگوں کا علاج پاکستان میں کون کرے گا؟ کونے والی میز پر ایک پاکستانی آدمی امریکیوں کی طرح کندھے اچکا کر اپنے ساتھی کو کہہ رہا ہے۔
”بڑی پرابلم بن گئی ہے۔“
”کیسی پرابلم؟“ ۔
سب ڈرائینگ روم لورز ہیں، ٹھنڈی نشست گاہوں میں، انناس کے قتلے اور کولڈ کافی کا گلاس سامنے رکھ کر محبت کی سرد آہیں بھرنے والے عاشق ہیں۔ یوکلپٹس کی پتیوں کا فرنچ عطر کانوں پر لگا کر کہانیاں لکھنے والے افسانہ نگار ہیں۔ قوم، مذہب، ملت اور سیاست کے نام پر اپنی گاڑیوں میں پٹرول ڈلوانے والے اور اپنی کوٹھیوں میں نئے کمرے بنوانے والے درد مندانِ قوم ہیں۔ عشرت انگیزی ہے، تصنع آمیزی ہے، زر پرستی ہے، خود پسندی ہے، جعلی سکے ہیں کہ ایک کے بعد بنتے چلے جا رہے ہیں۔
روشنی کے داغ ہیں کہ ایک کے بعد ایک ابھرتے چلے جا رہے ہیں۔ انہیں صغراں بی بی کے بچوں کی پھنسیوں سے کوئی سروکار نہیں۔ انہیں اس کے ڈاکیے خاوند کے تاج محل کی بربادی کا کوئی علم نہیں۔ انہیں کھرّی چارپائی پر گندے نالے کے پاس رات بسر کرنے والوں سے کوئی دلچسپی نہیں۔ دھان زمین میں اگتا ہے یا درختوں پر لگتا ہے انہیں کوئی خبر نہیں۔ یہ اپنے ملک میں اجنبی ہیں۔ یہ اپنے گھر میں مسافر ہیں۔ یہ اپنوں میں بیگانے ہیں۔ چیک بک، پاسپورٹ، کار کی چابی، کوٹھی اور لائسنسیہی ان کا پاکستان ہے۔ یہ وہ باسی کھانے ہیں جن کی تازگی ریفریجریٹر بھی برقرار نہ رکھ سکا۔ یہ دو سورجوں کے دمیان کا پردہ ہیں۔ یہ کھلے ہوئے متبسم لبوں کے درمیان تاریک لکیر ہیں۔ یہ اس غار کے منہ پر تنا ہوا جالا ہیں جہاں چاند طلوع ہو رہا ہے
اب رات آسمان کی راکھ میں سے تاروں کے انگارے کریدنے لگی ہے۔ لوہاری دروازے کی تنگ و تاریک گلی میں حبس ہے، بدبو ہے، گرمی ہے، مچھر ہیں، پسینہ ہے، ٹوٹی پھوٹی کھڑی چارپائیوں کی بینگی ٹیڑھی قطاریں ہیں، نالیوں پر جمی ہوئی گندگی ہے۔ چارپائیوں سے نیچے لٹکتی ہوئی گلی کے فرش پر لگی ہوئی ٹانگیں ہیں۔ کمزور باسی چہرے ہیں۔ پھٹے پھٹے ہونٹ ہیں۔ صغراں بی بی اپنے چاروں بچوں کو پنکھا جھل رہی ہے۔ کوٹھڑی میں حبس کے مارے دم گھٹا جا رہا ہے۔
گندے نالے والی کھڑکی میں گرم ایشیائی رات کے سبز چاند کی جگہ اوپلوں کا ڈھیر پڑا سلگ رہا ہے۔ اس کا ڈاکیہ خاوند پاس ہی پڑا خراٹے لے رہا ہے۔ پنکھا جھلتے جھلتے اب صغراں بی بی بھی اونگھنے لگی ہے۔ اب پنکھا اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر نیچے گر پڑا ہے۔ اب کمرے میں اندھیرا ہے۔ خاموشی ہے۔ چار بچوں کے درمیان سوئی ہوئی مٹی کی مونا لیزا کے ہونٹ نیم وا ہیں۔ چہرہ کھنچ کر بھیانک ہو گیا ہے۔ آنکھوں کے حلقے گہرے ہو گئے ہیں اور رخساروں پر موت کی زردی چھا گئی ہے۔ اس پر کسی ایسے بوسیدہ مقبرے کا گمان ہو رہا ہے، جس کے گنبد میں دراڑیں پڑ گئی ہوں، جس کے تعویذ پر کوئی اگر بتی نہ سلگتی ہو اور جس کے صحن میں کوئی پھول نہ کھلتا ہو۔

