ریاست مدینہ، 28 بریگیڈ اور پنجر پیر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”خونخوار بھیڑیے“ کا چاند کہلانے والا، نئے سال کا پہلا چاند گرہن 21 جنوری کی صبح تک جاری رہا، جسے سپر مون بھی کہا جاتا ہے۔ جنوری کے پہلے مکمل چاند یعنی بدرکو قدیم امریکیوں نے بھیڑیے کا نام دیا۔ سال 2019 کا پہلا مکمل چاند گرہن پاکستان سمیت جنوبی ایشیائی ممالک میں نہیں دیکھا گیا۔ سپر بلڈ وولف مون کا نظارہ شمالی، وسطی اور جنوبی امریکا سمیت یورپ کے چند ممالک میں دیکھاجا سکا۔ اس نطارے کو کئی لوگوں نے اپنے کیمروں میں قید کرلیا اور لمحوں تک اس کا نظارہ دیکھتے رہے۔

دنیا کے مختلف ممالک میں چاند پر گرہن کا دورانیہ تقریباً 60 منٹ تک رہا، اس دوران چاند کسی سرخ گیند کی طرح نظر آنے لگا۔ یہ رواں سال کے 3 سپر مون میں سے پہلا ہے، دوسرا سپر مون 19 فروری، تیسرا رواں برس مارچ میں ہوگا۔ چونکہ یہ چاند گرہن جنوری میں آیا، اسی لیے اسے وولف سپر مون کا نام دیا گیا، اسی طرح فروری اور مارچ کے چاند گرہن کو بھی الگ الگ نام دیا جائے گا۔ وجہ یہ ہے کہ سورج کی روشنی جب زمینی فضا میں سے گزرتی ہے تو نیلی روشنی کی نسبت لال رنگ کی روشنی زیادہ مڑ جاتی ہے اور چاند جزوی گرہن کے وقت لال اور پھر مکمل گرہن کے وقت پورا سیاہ ہو جاتا ہے۔ اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ چاند گرہن کے وقت چاند کا اصل رنگ لال ہوجاتا ہے جو اصل میں ان کی غلط فہمی ہے، چاند کا اپنا رنگ ”گرئے“ (grey) ہی رہتا ہے لیکن اس پر پڑنے والی روشنی کے رنگ میں تبدیلی آنے کی وجہ سے اس کا ظاہری رنگ سرخ ہو جاتا ہے، اس لیے اس کو ”خونی چاند“ کہا جاتا ہے۔

جس وقت دنیا کے اکثر ممالک سال کے پہلے خونی چاند کا نظارہ کررہے تھے۔ اس سے چوبیس گھنٹے پہلے ہی پاکستانی عوام سال کے پہلے خونی سورج گرہن کا سرعام نظارہ کرچکے تھے۔ ساہیوال کے جی ٹی روڈ پر تڑ تڑ فائرنگ کے شور میں دہشت گردی کے چڑھتے سورج داعش کو گہن لگتا دیکھ کر عوام جوق در جوق ویڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پر شئیر کررہے تھے۔ دل کے کمزور بعض حضرات تو یہ جذباتی مناظر پوسٹ کرتے ہوئے فرط جذبات سے دھاڑیں مار مار کر ایسے روتے پائے گئے جیسے قیامت بپا ہوگئی ہو۔

حالانکہ انتہائی محترم وزیراطلاعات پنجاب فیاض الحسن اور وزیر قانون راجہ بشارت نے بجا ارشاد فرمایا کہ دہشت گردوں کے بھی بچے ہوتے ہیں، سی ٹی ڈی نے ان دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی جن کا کئی دن سے تعاقب کیا جا رہا تھا۔ یہ مقامی پولیس نہیں، سی ٹی ڈی تخریب کاروں اور دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کرتی ہے اور جب بھی وہ کارروائی کرتی ہے تو مقامی پولیس کواس وجہ سے اعتماد میں نہیں لیتی کہ چیزیں لیک آؤٹ نہ ہو جائیں۔ اس کے باوجود وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے ساہیوال کے واقعہ میں ”جاں بحق“ دہشت گرد خاندان کے لیے دو کروڑ روپے کی مالی امداد اور بچوں کے تمام تر تعلیمی اخراجات بھی اٹھانے کا اعلان کردیا مستزاد اہل خانہ کو تعلیم کے ساتھ میڈیکل کی بھی فری سہولت حاصل ہو گی۔

کیا اس کے بعد بھی کسی کو شک ہے کہ ریاست ماں جیسی نہیں ہوتی۔ کچھ فتنہ انگیزوں کو تعجب ہے کہ صدرمملکت رنجیدہ اور وزیراعظم سمیت پورا ملک صدمے کی حالت میں کیوں ہے۔ اب انہیں کون بتائے کہ ریاست مدینہ کی خوشحالی اور عوام کی ترقی کے لئے ان کا سند یافتہ صادق و امین والی ریاست پے در پے دوروں کے بعد قطر روانہ ہوتے ہوتے بھی سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر یقین دلا گیا کہ سانحہ ساہیوال پر عوام کا غم و غصہ بالکل جائز اور قابلِ فہم ہے۔ واپسی پر نہ صرف یہ کہ اس واقعے کے ذمہ داروں کو عبرت ناک سزا دی جائے گی بلکہ پنجاب پولیس کے پورے ڈھانچے کا جائزہ لے کر اس کی اصلاح کا آغاز بھی ہو گا۔

سانحہ ساہیوال میں مارے جانے والے دہشت گرد ڈرائیور ذیشان کی والدہ مطالبہ کررہی ہے کہ میر ے بیٹے پر سے دہشتگردی کا الزام ختم کیا جائے، ذیشان کی ایک بیٹی ہے، لوگ انگلیاں اٹھائیں گے کہ یہ دہشتگرد کی بیٹی ہے۔ عندلیب عباس کی دیورانی نے میرے بیٹے کو پڑھایا اور ہم اس کے گھر میں ہی رہے۔ عندلیب مجھے اچھی طرح جانتی ہیں اور وہ یہ بھی اچھی طرح جانتی ہیں کہ یہ بچے کیسے پڑھے اور یہ گھر کیسے بنا۔ میرے بیٹے کے بارے میں سکول اور محلے سے بھی پوچھ لیا جائے کہ وہ کیسا تھا، میرے بیٹے نے آئی سی ایس کر رکھا تھا، کچھ تو خدا کا خوف کریں، ہم ایسے لوگ نہیں، اگر کوئی ثبوت تھا تو اس کو پکڑ لیتے، مارتے نہ تاکہ پتہ چل جاتا کہ وہ کیسا تھا؟ اب تو اگر ثبوت بھی دیں گے تو ہم مانیں گے نہیں کیونکہ اس کو تو مار دیا گیا۔ اب اس دکھیاری نیم پاگل ماں کو کیا پتہ کہ ذیشان اس کا نہیں دراصل داعش کا بیٹا تھا۔

ستم در ستم یہ کہ ساہیوال سمیت ملک بھر میں اس قسم کے اکا دکا واقعات میں ہم من حیث القوم یہ بھول ہی گئے کہ ملک کے سب سے زیرک بزرگ سیاستدان چودھری شجاعت حسین نے خبردار کیا کہ فوجی عدالتیں آج بھی قوم کی ضرورت ہیں، اس اہم معاملے کو بیان بازی کی نذر نہیں کرنا چاہیے۔ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ آج جو لوگ فوجی عدالتوں کی مخالفت کر رہے ہیں انہیں کس چیز کا ڈر ہے۔ اس دوران تشویشناک خبر یہ ہے کہ آل پاکستان مسلم لیگ کے قائد پاکستان کے سابق صدر ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف ایک نامعلوم بیماری میں مبتلا ہیں جس کی وجہ سے وہ تیزی سے کمزور ہو رہے ہیں اور اپنے خلاف غداری کیس کا سامنا کرنے کے لئے پاکستان واپس نہیں آ سکتے۔

پرویز مشرف کے ساتھ رعایت ہونی چاہے، وہ صرف اس شرط پر پاکستان آئیں گے کہ ان کا فری ٹرائل ہو اور انہیں علاج کی سہولت کے لئے باہر جانے کی اجازت دی جائے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ ہماری جماعت نے پرویز مشرف کو عام انتخابات سے قبل پاکستان لانے کی کوشش کی تھی تاہم اس راستہ میں کئی رکاوٹیں ڈال دی گئیں۔ ڈاکٹر امجد نے مزید کہا کہ وکلا سے مشاورت ہو رہی ہے کہ مشرف صاحب کو واپس کب اور کیسے آنا چاہے کیونکہ وہ چاہتے ہیں کہ عدالتوں میں پیش ہوں۔ مختصر قوت حافظہ رکھنے والی قوم کو یاد ہو کہ یہ وہی صدر مشرف ہیں جن پر 31 مارچ 2014 کو 3 نومبر 2007 میں آئین معطل کرنے پر فرد جرم عائد کی گئی تھی تاہم وہ مارچ 2016 میں علاج کی غرض سے پاکستان سے دبئی چلے گئے اور پھر تاحال واپس نہیں آئے اور اب عدالتوں سے مفرور ہیں۔

پولیس مقابلوں اور دہشت گردی میں مارے جانے اور مہنگائی کی چکی میں پسنے والے تمام پاکستانیوں کے لئے مژدہ جانفزا یہ ہے کے سو فیصد سچی پیش گوئیاں کرنے والے عالم اسلا م کے پیشوا اور عالمی شہرت کے حامل پیر پنجر مد ظلہ فرماتے ہیں کہ 2019 میں مملکت خداداد پاکستان میں صدارتی نظام نافذ ہوجائے گا، منتخب وزیر اعظم عمران خان قومی و صوبائی اسمبلیاں توڑ کر بڑا کام دکھائے گا اور پورے نظام کو کھینچ اور توڑ کر بلدیاتی نظام کو طاقت دے گا، قومی خزانہ سے لوٹی گئی ایک ایک پائی واپس لائے گا۔ پچھلی حکومت کا سربراہ فاسد آدمی ہے۔ سب سے بڑی پیش گوئی یہ ہے کہ فوج میں اٹھائیسویں بریگیڈ بنائی جائے گی۔ عمران خان کے بیٹھے بیٹھے پاکستان میں اللہ کے نبی کا دین نافذ ہوگا۔ یہ ملک دین کے لئے بنا ہے اور اسلام کا ہیڈ کوارٹر اسلام آباد ہوگا۔

مجھ گنہگار سمیت پوری قوم پر فرض ہو چکا کہ وہ بغیر گھبرائے، بغیر ہچکچائے صدارتی نظام کے تحت مضبوط بلدیاتی اداروں، فوج کے 28 ویں بریگیڈ اور اسلام آباد کے اسلام کے ہیڈ کوارٹر بننے پر مارچ تک فوراً ایمان بالغیب لے آئے کہ یہ حکومت جو ویسے بھی خلائی (خدائی) فضل و کرم سے پیران تسمہ پا کی دین ہے بالآخر ان کی نجات دہندہ بن کر ریاست مدینہ کا وجود با سعود قیام میں لانے والی ہے جو ان کے ہر دکھ درد کا مداوا ہوگی۔ بن کے رہے گا نیا پاکستان۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •