سرائیکی صوبے کا ڈھول
شدید خواہش ہے کہ سرائیکی صوبہ ضرور بنے۔ آج کل سرائیکی عوام پہلے سے زیادہ سرگرم ہیں۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں ہے کہ سرائیکی خطہ بے شمار محرومیوں کا شکار ہے۔ یہ امر دلچسپی سے خالی نہیں ہے کہ موجودہ حکومت میں وزیر اعظم اور وزیرخارجہ سمیت با اختیارحکومتی اور ریاستی کلیدی عہدوں پر سرائیکی خطہ سے تعلق رکھنے والے کئی افراد براجمان ہیں۔ با الفاظ دیگر وفاق اور پنجاب میں سرائیکی حکمران ہیں۔ مگر سرائیکی صوبے کے لئے تحریک چلانے والی کیسی پارٹی اور تنظیم کا نہ وہ حصہ ہیں اور نہ ہی کھل کر سرائیکی صوبے کی حمایت کرتے ہیں۔ اس کے باوجود سرائیکی عوام کے ووٹ حاصل کرکے اقتدار کے مزے لوٹتے ہیں۔
حیران کن امر ہے کہ سرائیکی عوام ہر بار انہیں ہی منتخب بھی کرتے ہیں۔ دوسری جانب دیکھا جائے تو سرائیکی خطہ میں صوبے کی مانگ کرنے والی کئی پارٹیاں، تنظیمیں اور گروپ کام کررہی ہیں۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ ہر سرائیکی صوبے کا حامی ہے۔ مگر جب صوبے کے نام ہر عام انتخابات میں کو ووٹ دینے کی باری آتی ہے تو پیپلزپارٹی، مسلم لیگ اور تحریک انصاف کے امیدوارکامیاب ہوتے ہیں۔ سرائیکستان پارٹی کو کوئی ووٹ نہیں پڑتا ہے۔
فرزند سرائیکستان کی بے بسی اور معصومیت پر افسوس ہوتا ہے کہ بجائے سرائیکی صوبے کے نام پر ووٹ لے کر فتحیاب ہونے والے امیداور اظہار تشکر کے جذبات لے کر فرزند سرائیکستان کے پاس آتے سرائیکی صوبہ بنانے کا عزم دہراتے ہیں۔ اس کے برعکس سرائیکی صوبے کی مانگ کرنے والے منتخب نمائندوں کے پچھے پچھے پھرتے نظر آتے ہیں۔ سلفیاں بناکر بغلیں بجھا رہے ہوتے ہیں کہ فلاں ایم پی اے، فلاں ایم این اے اور فلاں وزیر سے ملاقات کی ہے۔
وسیب کی اجرک پہنا کر صوبہ بنانے کی یاد دہانی کراتے ہوئے پائے جاتے ہیں۔ جس کا صاف مطلب ہے کہ سرائیکی صوبے کی ہنڈیا کوئی چڑھاتا ہے اور کھانے کے لئے کوئی اور آجاتے ہیں۔ یہ سلسلہ برس ہا برس سے یونہی چل رہا ہے۔ ثابت ہوتا ہے کہ اتحاد کا فقدان ہے کہ صوبے کی مانگ کرنے والی ریجنل پارٹیوں کے سربراہان میں قائدانہ صلاحیتوں کی شدید کمی ہے کہ جو خود قیادت کرنے کی بجائے تقلد پسند ہیں۔ جس کے باعث تمام موافق حالات میسر آنے پر بھی مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام ہیں۔
پارلیمنٹرین سے حمایت کی بھیک مانگنے کی بجائے براہ راست عوام کے پاس جانے کی ضرورت ہے۔ بین الصوبائی تفہیم پیدا کرنے سمیت ہم خیال ریجنل پارٹیوں اور گروپس سے ملکر پریشر گروپس تشکیل دیے جا سکتے تھے۔ لیکن دوعملی کے باعث تضادات کا شکار ہیں۔ ایک جانب طرز سیاست وفاقی پارٹیوں کی سی ہے۔ دوسری جانب موقف یہ اپنایا جاتا ہے کہ ہم اقتدار نہیں چاہتے ہیں۔ وزیر، وزیراعلی، ایم پی اے بننا ہماری منزل نہیں ہے۔ اگر اقتدار منزل نہیں ہے تو پھر پارٹیاں بنانے اور پارٹی سیاست کرنے کی بجائے پریشر گروپس بنائے جاتے۔
اگر پارٹیاں بناکر جدوجہد کی جارہی ہے تو یہ دوغلی پالیسی کیوں اپنائی جاتی ہے کہ اقتدار ہماری منزل نہیں ہے۔ یہ کیاحماقت ہے کہ جدوجہد کرکے اقتدار کے لئے کیسی اور کو مدعو کیا جائے۔ خدا کے لئے سنجیدگی اختیار کی جائے۔ اپنی اپنی ذات کے جھنڈے گاڑنے کے خواب دیکھنے کی بجائے اتحاد کی جانب بڑھا جائے۔ سلفی سیاست چھوڑ کر حقیقی بنیادوں پر ریجنل ازم کی سیاسی فلاسفی پر پارٹیوں کو تعمیر کیا جائے۔ حق حکمرانی کاتصور اجاگر کیا جائے۔
یہ جدوجہد میں شامل ریجن کے سیاسی کارکنوں آئینی اور سیاسی حق ہے۔ بصورت دیگر پارٹیاں ختم کرکے صرف پریشر گروپ بناکر کام کیا جائے۔ سیاسی پارٹیاں پریشر گروپوں کاطرز نہیں اپناتی ہیں۔ سیاسی پارٹیاں سیاسی قوت کے حصول کی سیاست کرتے ہوئے اپنے اہداف اور مقاصد حاصل کرتیں ہیں۔ ریجنل سیاسی جماعتوں کے لئے آج کا عہد زریں ہے۔ وفاقی پارٹیاں عوامی نقید کی زد میں جس کو مزید تقویت دے کر ریجن کی سیاسی قوتیں اپنے لئے راستہ بنا سکتیں ہیں۔
رانا فراز نون سمیت سرائیکی صوبے کی مانگ کرنے والی جماعتوں کے سربراہان کووفاقی سیاسی جماعتوں کے ساتھ پینگیں بڑھانے کی بجائے زیادہ سے زیادہ ریجن کے مسائل، وفاق کی جانب سے ریجن کو نظر انداز کرنے، وفاقی پارٹیوں کی لوٹ مار، ریجن کے وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم کو موضوع بناتے ہوئے اپنی مہم چلانے کی ضرورت ہے۔ وفاق کی ریجنلائزیشن، ریجن کی داخلی خودمختاری کی بات کی جائے وفاق کی پارٹیوں کو خطہ میں کلی طور پر مسترد کیا جائے۔ لڑائی کی صوتحال پیدا کی جائے۔ جب تک پارلیمان اور صوبائی اسمبلی میں صوبہ بنانے کی تحاریک پیش نہیں کرتے تب تک خطہ میں کیسی بھی ایم پی اے، ایم این اے، وزیر کا داخلہ بند کر دیا جائے۔ ڈھول بجانے سے صوبے بنتے ہیں اور نہ خواہشوں کی تکمیل ہوتی ہے۔


