اکسیویں صدی اور بچوں کی شامت
سنتے آئے تھے کہ اگلے دور میں خوب ترقی ہوگی مگر ایسی ترقی تو خدا کسی کو بھی نہ کروائے کہ جس دور میں معصوم پھولوں کی شامت آئی ہو اور جدید ٹیکنالوجی کا تمام تر استعمال ان شگوفوں پر ہی ہو ا ہو۔ بچوں کے ساتھ بہیمانہ رویوں کی مثالیں بیسویں صدی کے آخری عشرے اور اکسیویں صدی کے بیس سالوں میں بہت زیادہ دیکھنے میں آئی ہیں۔ کہیں سیاسی مہروں کے طور پر معصوم بچوں کو اغوا کر کے موت کی بھینٹ اتار دیا جاتا ہے ور کہیں اغوا برائے تاون کے لئے انہیں نامعلوم مقامات پر منتقل کر دیا جاتا ہے۔
وطن عزیز میں بڑھتے ظلم و ستم اور جبر کے واقعات نے پُوری قوم کو لرزا کر رکھ دیا ہے۔ بچے ہر جگہ غیر محفوظ ہیں۔ اُن کے ننھے دماغ اور کمزور جسم درندوں جیسی سختی برداشت نہیں کر پاتے وہ گلشن میں کھلنے کے لئے آتے ہیں مگر دیو ہیکل جنات نما انسانوں کے ہاتھوں زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔ ابھی آرمی پبلک سکول کے بچوں کے شہید ہونے کے زخم نہ بھرے تھے کہ ڈرون حملوں کے نام پر گزشتہ برس افغانستان میں 156 بچے شہید اور لا تعداد زخمی ہوگئے صرف غلط فہمی کی بنا پر۔ اُن میں سے کئی بچے والدین کی اکلوت اولاد تھے۔ ہم لوگ جانوروں کی نایاب نسل کے ختم ہونے پر ڈاکو منٹری فلمیں بنا کر اُن کے دنیا سے چلے جانے کا رونا روتے ہیں مگر وہ خاندان جو اکلوتے بچے کے ساتھ مارے جانے کے بعد صفحہ ہستی سے نیست ونابود کر دیے گئے اُن پر ایسی کوئی دستاویزی فلم نہیں بنائی جاتی۔ شیطانی سوچ کبھی کسی شادی ہال میں کبھی دربار پر کبھی ٹیوشن اکیڈمی اور کبھی ویران جگہوں پر اپنی مذموم و مکروہ خواہشات کی تکمیل کر کے مصوم پھولوں اور ننھی کلیوں کو مسل کر رکھ دیتی ہے۔ آرام و سُکھ چین سے شکم ماد ر میں نو ماہ تک محفوظ رہنے والا بچہ دُنیا میں آکر کس قدر غیر محفوظ اور عد م تحفظ کا شکار ہو جاتا ہے۔
پورن فلموں کی نحوست اور بری خبریں پہلے صرف مغربی ممالک میں تھیں اب ان کی گونج اسلامی ممالک تک سنائی دیتی ہے ان خبروں کی تفصیلات جان کر مائیں ڈر کر بچوں کو کلیجے سے چمٹا لیتی ہیں اور صرف آہوں کی آواز سنائی دیتی ہے۔ سفر میں کبھی یہ غُنچے جب اپنے والدین کے ساتھ اٹکھلیاں کرتے جاتے ہیں اپنے کسی عزیز یا رشتے داروں کی شادی پر ڈھولک کی ٹھا پ سننے اور اپنے ہم عمروں کے ساتھ طویل عرصے کے بعد ملاقات کرنے تو سفر میں ہی ان کی آنکھوں کے دیے بُجھ جاتے ہیں جب انہیں ریاستی جبر کا نشانہ بننا پڑتا ہے۔
گولیوں کی بوچھاڑ سے اُن کے امنگوں بھرے خواب لہو بھری تعبیر کا نمونہ بن کر سڑک پر بکھرے ملتے ہیں۔ اُن کے والدین کو بغیر کسی وجہ اور بغیر کسی مقصد کے جدید اسلحے کی نمائش کرتے ہوئے لا تعداد گولیوں سے بُھون کر رکھ دیا جاتا ہے اور پھر غلط فہمی کی بنا پر معافی مانگ کر کچھ رقم اُن کے کشکول میں پھینک دی جاتی ہے۔ کیا یہ کشکول وہ محبتیں واپس کر سکے گا جو والدین کی شکل میں اُن کے لیے نعمت خدا وندی تھیں یہ رقم اُن کی بے لوث محبتوں کا مدوا کیسے ہو سکتی ہے۔
اور وہ جنہوں نے اچانک ماں باپ کو مرتے دیکھا اُن کے ذہنوں پر کیسے اثرات مرتب ہوں گے کیا وہ بے حس لمحات کبھی فراموش کر سکیں گے۔ شاید نہیں۔ سکول جاتے بچے اغوا ہونے لگے ہیں کیونکہ اپنے اوقات سکول کے پابند یہ بچے صرف اپنی دُھن میں ہوتے ہیں، جلدی سے سکول پہنچنا اور اپنے ہم جماعتوں سے پیریڈ شروع ہونے سے پہلے خوش گیپیاں کرنا۔ سخت موسموں میں ایسی خواہشات لے کر بچے جب گھروں سے نکلتے ہیں تودولت و حرص کی ہوس رکھنے والے انہیں اُن کی مادر علمی پہنچنے سے پہلے ہی اُچک لیتے ہیں۔
ہفتہ دس دن بعد بھاری رقم بطور تاوان مانگی جاتی ہے جس میں ناکامی پر وہ ٹمٹماتے دیے بجھا دیتے ہیں۔ اگر بچہ کسی صاحب استطاعت کا نہیں تو پھر جنسی بُھوک کے تشفی کے بعد اُسے کسی ویران مقام پر پھینک دیا جاتا ہے شیطانی رقص کے مظاہرے کے طور پر۔ ان تمام حالات میں سیاسی گروہ بندیاں ایک ہونے کی بجائے ایک دوسری جماعت پر کیچڑ اچھالتی ہیں حکومتوں کے نقائص بیان ہوتے ہیں ایک دوسرے کی لغزشوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔
اگر تمام جماعتیں چاہے وہ حکومت میں ہیں یا اپوزیشن میں اپنے اپنے دائر ہ کار میں جرائم کی روک تھام کی سعی کریں تو کیا مجال کہ کوئی ان معصوم بچوں کی طرف آنکھ اُٹھا کر دیکھے کیونکہ حکومت ایک فرد کا کام نہیں، پوری قوم کا نام ہے۔ سماج کے ہر فرد پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وطن عزیز کی بھلائی کے لیے اپنا حصہ بقدر استطاعت شامل کرے اپنے عمل سے بھی اور قول سے بھی تب ہی ان معصوم کلیوں شگفتہ پھولوں اور ہنستے چہروں کی تابایانی قائم رہ سکتی ہے۔ بصورت دیگر ہولناک واقعات ایسے ہی افسردگی کی فضا بناتے رہیں گے۔


