سائیں کو پتا بھی ہے یا نہیں! پیغام بنام وزیراعلی بلوچستان


موت زندگی اللہ کے ہاتھ میں ہے ہم سب نے ایک دن جانا ہے مگر موت اور زندگی کے درمیان کچھ معاملات ہوتے ہیں خاص کر کسی حادثے کی صورت میں جس کو سنجیدہ لینا ضروری ہوتا ہے۔ اور اس کے لئے کوشش اور تیاری ضروری امر ہوتی ہے جس کو ہونے سے پہلے کے انتظامات کہا جاتا ہے جو کسی ریاست کے اداروں کی اولین ذمہ داریوں میں سے ایک ہوتی ہے۔

جیسے سیلاب آنا، زلزلہ، مسافر کوچ میں آگ لگنا، روڈ ایکسڈینٹ وغیرہ اتفاقیہ حادثے ہیں۔ جبکہ ان کے لئے حفاظتی اقدامات حادثے سے پہلے کرنا متعلقہ علاقے جگہ ملک ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے جس کو کوشش کا نام دینا میں یہاں ضروری سمجھونگا۔ اکثروبیشتر دیگر ترقی یافتہ ممالک میں ان حادثات کے دوران سیفٹی اور فوری طور پر ایمرجنسی کی صورت میں سہولیات مہیا کرنے سے مالی نقصان تو ہوجاتا ہے مگر جانی نقصان پر قابو پایا جاتا ہے۔

مگر ہمارے ہاں ایسا نہیں ہے زلزلہ، سیلاب اور آگ کا لگ جانے کے بعد مالی نقصان کے ساتھ جانی نہ ہو تو صحافی کے لئے اچھی خبر ملتی ہے نہ ذمہ دار ادارے کو فنڈز کی امید ہوتی ہے نہ کسی سیاسی رہنما کی تشہیر ممکن ہے اور نا ہی عوام کے لئے کوئی خاص شغل میلہ یا مستی۔

اپنی تحریر میں زیادہ مال مصالحہ بھرنے سے پہلے میں اپنا اورسائیں کا وقت ضائع ہونے سے بچانے کے لئے گزشتہ رات پیش آنے والے ایک درد ناک حادثے کو اپنے قلم کی ضبط میں لانے کی کوشش کرونگا اور سائیں سرکار تک معاملہ پہنچانا ضروری سمجھتے ہوئے حادثے کا مختصر احوال بتانے کی گستاخی کرونگا۔

سائیں کے آبائی شہر اور حلقہ انتخاب تحصیل بیلہ ضلع لسبیلہ میں مین آر سی ڈی روڈ بیلہ کراس کے مقام پر ایک مسافر کوچ میں آگ لگنے کا افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے۔ جس میں 26 سے زائد لوگ جھلس کر خاک ہوگئے۔ آپ کی اطلاع کے لئے عرض ہے مسافر کوچ کراچی سے پنجگور جارہی تھی۔ جبکہ آگ بجھانے کے لئے سیکورٹی وریسکیو کے اداروں کے افراد کچھ دیر میں پہنچ گے تھے مگر تیز آگ کے سامنے لاچار تھے۔

آپ کو بتانا چاہونگا آپ کے شہر بیلہ کی ایک ہی خستہ حال فائربریگیڈ گاڑی جو آپ کے شہر والے محل کے ساتھ ہی میونسل کمیٹی کے آفیس میں کھڑی ہوتی ہے جب تک ایک گھنٹے میں ایک ہی چکر لگا پائے تب تک بہت دیر ہوگی تھی۔ سب کچھ جل کر خاکستر ہوچکا تھا جو چند لوگ باہر نکلے وہ اپنی مدد آپ کے تحت نکلے۔ اسی دوران متعلقہ علاقے کے واحد سول ہسپتال جس میں ایمرجنسی نافذ کی گئی تھی حتاکہ ایمرجنسی کا نافذ ہونا اور ایمرجنسی صورت میں متعلقہ ہسپتال میں سہولیات کے ہونے میں زمین آسمان کا فرق تھا۔ کیونکہ ہذا ہسپتال میں سر درد کے علاوہ اکٹر اوقات دیگر سارے مریض ریفر کرنے کے لئے ہوتے یہ بتانا ضروری سمجھونگا اس ہسپتال کا فاصلہ آپ کے گھر سے چند قدموں کی مسافت پر واقع ہے۔ جس میں سہولیات کی عدم دستیابی کا آپ کو ہر ہفتے بتایا جاتا ہوگا جبکہ آپ خود اس کی حالت زار سے اغماض نہیں کرسکتے۔

سائیں! حادثہ بے شک مسافر کوچ میں غیر قانونی ڈیزل یا پٹرول کی اسمگلنگ کی وجہ سے پیش آیا ( چلتی کا نام گاڑی ہے مگر ڈیزل پٹرول اسمگل کرنے والی اور سی این جی والی ویگنز کا نام خونی گاڑی ہے ) ۔ یا آگ لگ جانے کی وجہ چاہیے کوئی اور ہی کیوں نہ ہو۔ مگر اس کے ذمہ داران میں اصولی طور پر وہ سارے حکومتی اور ادارتی لوگ ہیں جن کے حج عمرے اس اسمگل ہونے والے ایرانی ڈیزل پٹرول سے ملنے والے حصے سے ہوتے ہیں اور کچھ آپ کے شہر میں بنیادی حفاظتی انتظامات کا ناقص ہونا بھی اس حادثے کا ذمہ دار ہے۔ جبکہ دنیا جانتی ہے پاکستان کا صوبہ بلوچستان جہاں پر ڈیزل پٹرول کی ترسیل مسافر گاڑیوں میں کی جاتی ہے جس کا تمام اعلی افسران کو پتا ہوتا ہے لیکن سفر کرنے والے عام عوام ہیں تو اُنکا کسی حادثے میں مرجانا کوئی بڑا مسئلہ نہیں سمجھا جاتا۔

سائیں آپ باخوبی جانتے ہیں۔ حادثہ کسی بھی نوعیت کا ہو جبکہ جانچ پڑتال متعلقہ سکیورٹی اداروں کا کام ہوتا ہے مگر ہمارے ہاں اس طرح کے خونی حادثات کی تحقیقات ہوتی ہی نہیں اگر ہوتی ہیں تو رپورٹس منظر عام پر نہیں آتی، اگر منظر عام پر آہ بھی جائیں تو اس طرح کے حادثات کے روک تھام کے لیے کچھ بھی اقدامات نہیں کیے جاتے بس جو جل گئے سو جل گئے جو بچ گئے سو بچ گئے قصہ مختصر وسلام۔

دوبارہ آپ کے کی خدمت میں عرض ہے کہ! حادثہ آپ کے حلقہ انتخاب آپ کے شہر میں پیش آیا ہے جس نے آپ کے شہر میں ناقص ریسکیو سسٹم اور ناقص حفاظتی انتظامات کو عیاں کیا ہے اور یہ آپ کے شہر کے لوگ جانتے ہیں پہلے سے ہی اب بات پورے بلوچستان تک پہنچی ہے امید ہے نہ صرف معاملے کی تحقیقات کریں گے بلکہ فوری ایکشن لینگے۔

Facebook Comments HS