نعیم الحق کے ٹویٹ اور جمہوری اداروں کا کردار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور نعیم الحق نے تین ٹویٹ پیغامات کے ذریعے یہ واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ حکومت نیب کے زیر حراست اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کا قومی اسمبلی میں داخلہ بند کرسکتی ہے۔ کل بجٹ سیشن کے دوران شہباز شریف نے ساہیوال سانحہ کی بنیاد پر وزیر اعظم کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ وزیراعظم ان کی تقریر کے دوران تقریباً ساڑھے تین ماہ کی غیر حاضری کے بعد اسمبلی میں آئے تھے۔ تاہم حکمران جماعت کے نازک مزاج لیڈروں کو وزیر اعظم کے خلاف اپوزیشن کی سخت بیانی ناگوار گزری ہے اور نعیم الحق نے اس کا اظہار رات گئے اپنے ٹویٹ پیغامات میں کیا ہے۔ تاہم ان پیغامات کے بعد اپوزیشن کے رویہ اور کردار سے زیادہ یہ سوال ابھر کر سامنے آیا ہے کہ برسر اقتدار پارٹی ملک میں کس قسم کی جمہوریت چاہتی ہے۔ اور کیا حکومت کے نمائندے ان اخلاقی حدود کا پاس کرتے ہیں جس کا تقاضا اپوزیشن سے کیا جا رہا ہے۔

سیاست میں ایک دوسرے پر حرف زنی معمول کی بات ہے اور خاص طور سے اسمبلی میں نکتہ چینی کے دوران اسے قبول بھی کیا جاتا ہے۔ اپوزیشن کی ترش کلامی کے جواب میں حکومت دھمکیوں کا سہارا نہیں لیتی بلکہ پارلیمانی رکھ رکھاؤ سے معاملہ کو سنبھالنے کی کوشش کرتی ہے۔ پارلیمنٹ میں بحث کے دوران اپوزیشن کی طرف سے سخت الفاظ کا استعمال بھی کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے ۔ تاہم نعیم الحق نے جس طرح اپوزیشن لیڈر کو ملنے والے ایک پارلیمانی استحقاق کو حکومت کا احسان بنا کر پیش کرنے کی کوشش کی ہے اور جس طرح نیب کے زیر حراست اپوزیشن لیڈر کے پروڈکشن آرڈر منسوخ کرنے کی دھمکی دی ہے، اس کی روشنی میں حکومت کے جمہوری مزاج اور پارلیمانی روایت پر اعتماد کے بارے میں سوال اٹھائے جا سکتے ہیں۔

عام طور سے قومی اسمبلی میں ہونے والی باتوں کا موقع پر ہی جواب دے کر حساب برابر کرلیا جاتا ہے۔ یوں بھی پارلیمنٹ میں اکثریت رکھنے والی جماعت کام سے غرض رکھتی ہے کیوں کہ وہ اکثریت کی بنیاد پر قوانین اور تجاویز منظور کروا سکتی ہے جبکہ اپوزیشن کو یہ سہولت حاصل نہیں ہوتی۔ اس لئے عام طور سے اپوزیشن لیڈر سخت باتوں اور جوشیلی تقریوں کے ذریعے دل کی بھڑا س نکالتے ہیں۔ تاہم اس بار وزیر اعظم کے معاون خصوصی نے اجلاس کے بعد گھر جا کر ٹویٹ پیغامات میں شہباز شریف کو ہدف تنقید بناتے ہوئے باور کروایا ہے کہ وہ نیب کی حراست سے اسپیکر کے خصوصی اجازت نامہ پر اسمبلی میں آتے ہیں اور دھمکی دی ہے کہ اگر انہوں نے اپنا طرز عمل تبدیل نہ کیا تو انہیں دی جانے والی یہ سہولت ختم کی جاسکتی ہے۔ ان کے پاس اپنا رویہ تبدیل کرنے کا یہ آخری موقع ہے۔

نعیم الحق نے یکے بعد دیگرے تین پیغامات میں کہا کہ ’قومی اسمبلی میں ضیائی مارشل لا کے ناجائز بچے شہباز شریف اور ان کے چمچوں کا رویہ افسوسناک ہے۔ یہ طرز عمل فنانس بل سے پہلے ہونے والے معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔ یہ قابل مذمت ہے۔ شہباز شریف کے پروڈکشن آرڈر منسوخ کرنے کا وقت آگیا ہے‘۔ دوسرے اور تیسرے ٹویٹ میں اس دھمکی کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے فرمایا ہے کہ ’ اگر وہ اپنے چمچوں کے ساتھ مل کر وزیر اعظم کی توہین کے لئے اسمبلی میں آتے ہیں تو انہیں پتہ ہونا چاہئے کہ اسمبلی میں آنے کے اجازت نامہ کا یہ مقصد نہیں ہوتا۔ انہیں اخلاقی کمیٹی کے فیصلوں اور رولز آف بزنس کی پاسداری کرنی چاہئے۔ شہباز شریف فیصلہ کرلیں کہ کیا انہیں قومی اسمبلی میں مثبت کردار ادا کرنا ہے۔ وہ اپنے چمچوں سے کہیں کہ مناسب رویہ کا مظاہرہ کریں۔ انہیں اور ان کے چمچوں کو قومی اسمبلی میں وزیر اعظم پر ذاتی حملے کرنے کی جرات کیسے ہوئی۔ کیا وہ جیل میں سڑتے رہنا چاہتے ہیں؟ کیا ان کا پروڈکشن آرڈر واپس لے لیا جائے؟ یہ آخری موقع ہے‘۔

حکومت کے نمائیندے غور کریں تو جان سکتے ہیں کہ وہ اپوزیشن سے جس ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں ، اس کا اظہار ان ٹوئٹر پیغامات میں مفقود ہے۔ اپوزیشن لیڈر کو ضیا کے مارشل لا کا ناجائز بچہ قرار دیا گیا ہے۔ ایسے میں اپوزیشن کے لیڈر اگر وزیر اعظم کو ’لاڈلا‘ یا ’ نامزد کردہ‘ قرار دیتے ہیں تو اس پر کیسے اعتراض کیا جا سکتا ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ملک میں جمہوریت کے فروغ اور پارلیمنٹ کی سربلندی کے لئے حکومت اور اپوزیشن مل کر جد و جہد کرتیں تاکہ اس ملک میں جمہوریت کو جن قوتوں سے خطرہ لاحق رہتا ہے انہیں اپنی حدود میں رہنے پر مجبور کیا جا سکے۔ اگرچہ یہ بات درست ہے کہ نواز شریف اور شہباز شریف سابق آمر ضیا الحق کی سرپرستی کی وجہ سے سیاست میں آئے تھے اور انہوں نے بعد میں بھی اپنی سیاسی قوت کے لئے عسکری اداروں کے ساتھ تعلقات استوار رکھے تھے۔ تاہم یہ بھی اتنا ہی بڑا سچ ہے کہ مسلم لیگ (ن) کو عسکری اداروں سے تصادم کی پاداش میں ہی گزشتہ سال ہونے والے انتخابات میں سیاسی ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ تحریک انصاف کی انتخابی کامیابی بظاہر ووٹوں کی اکثریت ہی کی وجہ سے ممکن ہوئی تھی لیکن ان ووٹوں کے حصول میں جن عوامل نے کردار ادا کیا تھا وہ وہی تایخ ساز عناصر ہیں جو اس سے پہلے بھی ملک میں حکومتیں بناتے اور گراتے رہے ہیں۔

سیاست میں اداروں کی مداخلت پاکستان کی جمہوری تاریخ کا المناک باب ہے۔ لیکن ملک میں برسر اقتدار آنے والی متعدد حکومتیں، اس علت پر قابو پانے میں کامیاب نہیں ہوسکیں۔ کیوں کہ اپوزیشن میں ہوتے ہوئے ہر سیاسی پارٹی کا ہدف جمہوریت کا فروغ اور پارلیمانی اداروں کی بالادستی کی بجائے حکومت کو گرانا اور اقتدار کا حصول ہی ہوتا ہے۔ اس مقصد کے لئے وہ انہی اداروں اور کرداروں کا آلہ کار بننے پر آمادہ ہوتے ہیں جن کی مداخلت سے ملک میں جمہوریت اور پارلیمنٹ بے اعتبار ہوچکی ہے۔ تحریک انصاف اگر پارلیمنٹ کو بااختیار اور معاشرے میں جمہوری مزاج کو مضبوط کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے تو اسے اپوزیشن کو دھمکیاں دینے کی بجائے اس کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے پارلیمنٹ کو فیصلے کرنے کا اصل مرکز بنانے کی کوشش کرنی چاہئے۔ اسی طرح اپوزیشن کو بہرصورت حکومت کے خلاف شور و غل کرنے اور درپردہ غیر جمہوری اداروں سے ساز باز کرنے کی حکمت عملی اختیار کرنے کی بجائے شفاف پارلیمانی کلچر کے لئے اکثریتی پارٹی کی طرف دست تعاون دارز کرنا چاہئے۔ موجودہ حالات میں حکمران اور اپوزیشن جماعتیں اس سے برعکس رویہ اختیار کئے ہوئے ہیں۔

تحریک انصاف اور وزیر اعظم کے نمائندوں کو اس وقت شہباز شریف کی بات کو رد کرنا چاہئے تھا جب انہوں نے عرب ملکوں سے ملنے والی مالی امداد کا کریڈٹ فوج کے سربراہ کو دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ سب تو آرمی چیف کی کوششوں کی وجہ سے ممکن ہؤا ہے۔ لیکن عمران خان سمیت حکمران پارٹی کے کسی لیڈر نے اس معاملہ پر تبصرہ کرنے اور اپوزیشن لیڈر کی بات کو مسترد کرنے کا حوصلہ نہیں کیا ۔کیونکہ انہیں اندیشہ ہے کہ ایسا کرنے سے ’سول ملٹری ایک پیج ‘ پر ہونے کا جو بھرم ختم ہوتے دیر نہیں لگے گی۔ یہی وجہ ہے کہ اصولی طور پر فوجی عدالتوں کے خلاف ہونے کے باوجود تحریک انصاف فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کے لئے آئینی ترمیم لانا چاہتی ہے۔ اور انہی اپوزیشن پارٹیوں کو رام کرنے کی کوشش کررہی ہے جن سے وہ کسی صورت تعاون نہ کرنے کا اعلان کرتی رہتی ہے کیوں کہ اس کے نزدیک مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے سب لیڈر بدعنوان ہیں اور انہیں جیلوں میں ہونا چاہئے۔ اس قسم کے اعلان اور دعوے کرتے ہوئے حکومت کے نمائندے نہ صرف یہ کہ جمہوری روایت کو بھول جاتے ہیں بلکہ عدالتوں کی خود مختاری کو بھی خاطر میں لانے پر تیار نہیں ہوتے۔

نعیم الحق نے اپنے ٹویٹ پیغام میں شہباز شریف کے بارے میں ہتک آمیز رویہ اختیار کرنے کے علاوہ اپوزیشن کے دیگر اراکین اسمبلی کو اپوزیشن لیڈر کا ’چمچہ ‘ قرار دیا ہے۔ انہیں غور کرنا چاہئے کہ کیا یہ لفظ پارلیمانی اخلاقیات اور تہذیب سے مطابقت رکھتا ہے؟ نعیم الحق نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں شہباز شریف کے پروڈکشن آرڈر منسوخ کرنے کی دھمکی دے کر دراصل اپنی سیاسی حیثیت سے تجاوز کیا ہے۔ انہوں نے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے گویا اسپیکر قومی اسمبلی کا اختیار پارٹی کی صوابدید کے تابع ہے۔ اس طرح انہوں نے اس عہدہ کی غیر جانبداری کے نام نہاد بھرم کو بھی نقصان پہنچایاہے۔ مثبت اور صحت مند پارلیمانی روایت کے مطابق اسپیکر اکثریتی پارٹی سے تعلق کے باوجود، ایوان چلانے کے لئے اپوزیشن کے ساتھ بھی مساوی سلوک اختیارکرنے کا پابند ہوتا ہے۔ اب وزیر اعظم کے معاون خصوصی یہ بتا رہے ہیں کہ اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اپنے ضمیر اور پارلیمانی روایت کے پابند نہیں ہیں بلکہ پارٹی اور حکومت کی مرضی کے تابع ہیں۔

ملکی سیاست میں بدزبانی اور الزام تراشی کی روایت کو تحریک انصاف اور اس کی قیادت نے مستحکم کیا ہے۔ حکومت میں ہونے کے باوجود اس پارٹی کے لیڈر اپوزیشن کے بارے میں بدزبانی اور توہین آمیز کلمات کہنے سے باز نہیں آتے۔ حکومت اور اس کے نمائیندے اگر اس مزاج کو بدلنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے انہیں اپنا رویہ تبدیل کرتے ہوئے مثبت مثال قائم کرنا چاہئے۔ نعیم الحق کے ٹویٹ پیغامات البتہ اسی منفی پارلیمانی کلچر کی تصویر کشی کررہے ہیں جو تحریک انصاف کا عمومی رویہ رہا ہے۔

 

 

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1655 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali