تبدیلی آ گئی ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان بائیس کروڑ عوام کا ملک ہے جسے قدرت نے بلا شبہ ہر اُس نعمت سے نوازا جسے انسانی تقاضوں کو پورا کرنے میں سو فیصد مدد ملتی ہے۔ پاکستان کا وجود ہی ایک بہت بڑی تبدیلی تھا جسے ہزاروں سال پر مشتمل غلامی کو پشِ پشت ڈال کے محمد علی جناح نے اپنے ساتھیوں، اپنی نیک نیتی اور انتھک کوششوں سے ایک نیا وجود فراہم کیا۔ نیا وجود بھلے زمین کا ہو، رقبے کا ہو، یا نسلِ انسانی کا تبدیلی ہی ہوتا ہے۔

زمانہ بدلا اور وقت کے تغیر نے لوگ تبدیل کیے۔ یہ ملک بنانے والے ایک ایک کر کے دنیا سے رخصت ہوتے گئے اور ان کی جگہ لوگ تبدیل ہوتے گئے اور اس ملک کو بھی اپنے مطابق تبدیل کرتے رہے۔ اس ملک پر فوجی آمروں سے زیادہ ”سیاسی آمروں“ نے قبضہ کیے رکھا۔ وہ کسی نہ کسی صورت میں اقتدار کے ایوانوں سے منسلک رہے۔ فوجی آمر آتا تو انہے ”تبدیلی کا درس“ دیتے اور خود اقتدار پہ براجمان ہوتے تو خود اپنی تبدیلی لے آتے۔ نسلوں سے یہ قوم ”طوطا“ اور ”مینا“ کی کہانیوں میں الجھے رہے۔

اس قوم کو ”جمہوریت“ کے لفظی داؤ پیچ سکھائے گئے۔ عوام کو یقین دلایا گیا کہ ”جمہوریت“ ہی وہ در ہے جہاں سے جنت ملے گی فقیر کو۔ اس ملک کو ایک ہی سیاسی مائنڈ سیٹ سے چلایا گیا جو ”بھٹو کی جمہوریت“ تھی۔ غریب کی کمزوری کا نعرہ جو قدرت سے منسلک ہے اور بدل نہیں سکتا وہ لگایا گیا۔ جو وعدہ رب کا ہے رزق دینے کا اس وعدے کا دعویٰ بنا کے نعرے کا رنگ دے کر بے یقین عوام کو سہانے خواب دکھائے گئے۔ اور یہ قوم ”جمہوریت کے دو خاندانوں“ میں معلق ہو گئی۔

جب تیسری نسلِ نے ہوش سنبھالا تو بھی اُن لوگوں کو زندہ پایا جن کے جمہوری نعروں کے قصے دادا جان سے سنتے تھے اور اب دادا جان کا چھبیسواں عرس بھی ہو چکا تھا لیکن ان دو سیاسی خاندانوں کے بھٹو کو زندہ پایا اور جو نہیں بھی بھٹو تھا اسے تبدیل کر کے بھٹو بنا دیا گیا۔ اس دو جماعتی نظام سے عوام تنگ تھے جو کہ تیسری دنیا کی جمہوریت میں بہت فطری عمل ایک تبدیلی آئی۔ اس تبدیلی کا نام عمران خان تھا۔ عمران خان کی سیاست بائیس سال پر محیط ہے جو لاہور کے ٹرک سے شروع ہوئی جس پر شوکت خانم چندہ مہم کا آغاز کیا گیا ڈی چوک کے کنٹینر پر اپنے عروج کو پہنچی۔

آج اس ملک کا وزیراعظم ایک نیا انسان جس کی وجہ سے لوگوں میں انصاف کا لفظ گونجا۔ وہ لوگ جو سسٹم تبدیل نہیں ہو سکتا کے غلام تھے، آج اپنے گھروں میں بجلی بند ہونے پر بھی باھر سڑکوں پر نکل کر احتجاج کرتے اور اپنا حق مانگتے ہیں۔ ماڈل ٹاؤن کا قتلِ عام ہو سیالکوٹ کے دو بھائیوں کا قتل ہو، زینب کی زیادتی سے لے کر ساھیوال میں پولیس کے ہاتھوں شادی پہ جاتی فیملی کا قتل سب کے خلاف آواز اُٹھانا اور ٹی وی کیمروں کے سامنے پولیس کے خلاف بر ملا بیان دینا جس پولیس کے خلاف بیان دینا تو دور کی بات تھی یہی وہ تبدیلی ہے جس کی بنیاد پر قائداعظم نے اس ملک کی بنیاد رکھی اور عمران خان نے دوبارہ شعور بیدار اور زندہ کیا۔ ابھی بہت کچھ بدلنا باقی ہے جسے وقت چاھئیے اور تبدیلی وقت کی محتاج ہے لیکن کوئی مجھ سے پوچھے کہ کچھ بدلا۔ تو میرا جواب ہاں میں ہو گا کہ ہاں تبدیلی آ نہیں رہی، ”تبدیلی آ گئی“ ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •