بیٹی سے زیادتی ثابت کرنے کے لئے باپ کی جھوٹی گواہی: سپریم کورٹ برہم


چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نےشیخو پورہ کی رہائشی شبانہ کے ساتھ زیادتی سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران اپنے ریمارکس میں کہا ہے کہ ہائی کورٹ نے جھوٹی گواہی کیوں نہ پکڑی، جو جج انصاف نہ کرسکیں وہ گھر جائیں، تفتیش عدالت کا کام نہیں۔

متاثرہ خاتون کے والد کے جھوٹی گواہی دینے پر اظہار برہمی کرتے ہوئےچیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ کیس کے مرکزی گواہ اور مدعی  بشیر احمد نے جھوٹی گواہی دی۔ بشیراحمد نے عدالت کے سامنے بھی دو بیان بدل دیئے، یہ آدمی ذہنی طور پر معذور لگتا ہے، جب تک ان جھوٹے گواہوں سے نہیں نمٹیں گے، انصاف نہیں ہو سکتا۔  جھوٹی گواہی پر ملزم کو سزائے موت ہو سکتی تھی، کیوں نہ بشیر کو جھوٹی گواہی پرعمر قید کی سزا سنا دیں، کارروائی کریں تو لوگ کہیں گے بیٹی کا ریپ ہو گیا اور باپ کو اندر کر دیا۔

سرگودھا کی لڑکی سے مبینہ زیادتی سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اپنے ریمارکس میں کہا ہے کہ انصاف وہی سمجھا جا رہا ہے جو مرضی کا ہو۔ خلاف فیصلہ آجائے تو انصاف نہیں ہوتا۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ 29 جنوری کو آسیہ بی بی کی رہائی کے خلاف نظر ثانی اپیل پر سماعت کرے گا۔ بنچ میں جسٹس قاضی فائز عیسی اور جسٹس مظہر عالم میاں خیل شامل ہیں۔آسیہ بی بی کی رہائی کیخلاف قاری محمد سلام نے سپریم کورٹ میں نظر ثانی اپیل دائر کر رکھی ہے۔

جمعرات کو چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 2 رکنی بنچ نے شیخو پورہ کی رہائشی شبانہ کے ساتھ زیادتی سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ تفتیشی افسرکو پتا ہوتا ہے کون سچا؟ کون جھوٹا گواہ ہے؟، لڑکی کے جسم پر تشدد کے کوئی نشانات نہیں، سیشن کورٹ نے ملزم کوعمر قید کی سزا سنائی، دوسرا ملزم شانی عدالت میں پیش نہیں ہوا، ہائی کورٹ بہت بڑی عدالت ہوتی ہے، اس کیس میں ہائی کورٹ نے شواہد کو نظرانداز کیا اور سیشن کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔ جج کا کام انصاف کرنا ہوتا ہے جو انصاف نہیں کر سکتے وہ گھر چلے جائیں۔ سپریم کورٹ نے ملزم بشیر احمد عرف کاکا کی سزا کالعدم قرار دے دی۔

دریں اثنابدھ کو سپریم کورٹ میں سرگودھا کی لڑکی سے مبینہ زیادتی سے متعلق کیس کی سماعت چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے کی۔ سپریم کورٹ نے لڑکی سے زیادتی کیس میں ملزم ندیم مسعود کو آٹھ سال بعد مقدمے سے بری کر تے ہوئے معاملہ نمٹا دیا۔

Facebook Comments HS