کلانچ کا سفر
طویل خشک سالی کے بعد پسنی کے دیہی علاقوں میں بارش کا حال سنکر مجھے بہت خوشی ہوئی۔ کیونکہ چند مہینے پہلے کلانچ کے ایک سفر میں درختوں کو اجڑے ہوئے دیکھا تھا۔ سر سبز کھیتوں میں ویرانی تھی اور لوگ پینے کے پانی کے لئے ترس رہے تھے۔ مال مویشیاں مررہے تھے۔
بارش کا آنکھوں دیکھا حال دیکھنے کے لئے ہمیں کلانچ کا سفر کرنا تھا۔
بارش کے بعد آج موسم بھی سہانا تھا۔ اس سہانے موسم کی لطف اٹھانے کے لئے ہم اپنی منزل کلانچ کی طرف روانہ ہوئے تھے، اور ہمیں گاؤں کے نظارے دیکھنے تھے، جہاں طویل خشک سالی کے بعد بارش ہوئی تھی۔ پسنی سے نکل کر ہم کلانچ کی طرف روانہ ہوئے، میرے ساتھ اس سفر میں حسب روایت صمد داؤد گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ پر ڈرائیونگ کررہا تھا جبکہ منیر رمضان بھی اس سفر میں ہمارے ساتھ تھے۔ ہم کلانچ کے دشوار گزار سڑک پر پہاڑوں کے درمیان اپنے سفر کو جاری رکھے ہوئے تھے اور پانی سے بھرے کھیتوں کو دیکھ کر قدرت کا شکر ادا کررہے تھے۔
کلانچ کے دشوار گزر راستے پر سفر کرنا ویسے بھی کسی اذیت سے کم نہیں ہوتا ہے۔ خراب روڑ کی وجہ سے آدھے گھنٹے کا سفر طے کرنے میں دو سے تین گھنٹے لگتے ہیں۔ منیر رمضان ہمیں کلانچ کے مختلف گاؤں کے بارے میں تفصیل بتا رہا تھا۔ بارش کی پانی جگہ جگہ جمع تھی، اور راستے میں کئی کھیت سیراب نظر آرہے تھے۔ طویل خشک سالی کے بعد کلانچ کے مختلف گاؤں میں لوگوں کے چہروں پر خوشی کے آثار واضح نظر آرہے تھے۔ ہمیں صرف اس بات کا ڈر تھا کہ کئی ہمارا گاڑی برساتی پینے میں پھنس نہ جائے۔
طویل خشک سالی کی وجہ سے درخت اجڑے ہوئے تھے۔ کھیتوں میں پانی بھرا ہوا تھا اور پرندوں کی چہچاہٹ موسم بہار کی آمد بتارہے تھے۔ بچے خوشی سے پھولے نہیں سما رہے تھے اور دہقان کاشت کاری کے تیاری میں مصروف نظر آئے۔ بارش کے بعد کا منظر بہت حسین نظر آرہا تھا۔ چرواہے بھیڑ بکریوں کو چرا رہے تھے۔ اسی اثنا ہماری نظر ایک چرواہے پر پڑی تو گاڑی کو روکنا پڑا۔ بلوچی حال حوال کے بعد ہمارا موضوع بارش کے بارے میں تھا۔ ان کے ساتھ دو بچے بھیڑ بکریوں کے ساتھ اپنے گھروں کی طرف جارہے تھے۔ بوڑھا شخص کلانچ میں طویل خشک سالی کے بعد بارش سے کافی خوش نظر آرہا تھا۔ کیونکہ طویل خشک سالی کی وجہ سے کلانچ کے کئی گھرانے شہروں کی طرف نقل مکانی کرچکے تھے۔ کلانچ کے لوگوں کا ذریعہ معاش کاشت کاری اور غلہ بانی ہے۔
سورج غروب ہوتے ہی ہم کلانچ سے نکل کر واپس پسنی کے لئے روانہ ہوئے کیونکہ رات کو ہمیں واپس اپنے شہر کی طرف لوٹنا تھا۔


