بے بس پختون اور خچر خرخرہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سترہویں صدی کا زمانہ ہے، اورنگزیب عالمگیر کے اقتدار کا سورج پورے آب و تاب کے ساتھ چمک رہا ہے۔ خوشحال خان خٹک اپنے باب کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے پہلے شاہجہان اور اب اورنگزیب کے لئے اپنے لوگوں سے نبردآزما ہیں۔ مغل حکومت کے استحکام کے لئے اپنی قوم کے ایک باغی قبیلے کے ساتھ خونی جھڑپیں خوشحال خان کی زندگی کا معمول بن چکی ہیں۔ یہ لڑائی انہیں وراثت میں ملی ہے۔ ان کا باپ ایسی ہی ایک خونریز جنگ میں کام آ چکا ہے۔ نوجوان خوشحال اپنے باب کے ساتھ اس جھڑپ میں موجود ہے، ان کے لشکر میں شامل کوئی بندہ یوسفزیوں کی کاری ضربوں سے بچ نہیں پاتا، ایک تیر خود خوشحال کے بازو میں پیوست ہے لیکن وہ اپنے اعصاب پر قابو رکھتا ہے اور زخموں سے چور باپ کو اس خونی معرکے سے زندہ لے جانے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔ نرغے سے نکل کر دریائے کابل کے کنارے پہنچتا ہے، رات کی تاریکی میں ایک کشتی میں باپ کو لاد کر دریا پار کرتا ہے اور اکوڑہ خٹک اپنے گھر پہنچتا ہے۔ تیسرے دن باپ دارِ فانی سے کوچ کرتا ہے۔

خوشحال اپنے باپ کو دفنا کر گھر لوٹتا ہے تو اس کا قبیلہ اس کے سر پر دستار باندھتا ہے، خوشحال سردار بنتا ہے۔ اپنے مرشد حضرت شیخ رحم کار المعروف کاکا صیب کے آستانے پر حاضری دیتا ہے، دعائیں لے کر واپس ہوتا ہے، باپ کے چہلم سے فراغت پا کر دل گرفتہ خوشحال پوری طاقت سے یوسفزیوں پر حملہ آور ہوتا ہے، اپنی تلوار کو اپنے بھائیوں کے خون سے سرخ کر کے خوشحال جب واپس ہوتا ہے تو یوسفزیوں کے تین دیہات کو آگ کے شعلوں کی نذر کرنا نہیں بھولتا۔

خوشحال بحیثیت سردار اپنے پہلے معرکے میں سرخرو ہوتا ہے اور اس کے بعد پیچھے مڑ کر نہیں دیکھتا، جہاں کوئی مغل سلطنت کے خلاف سر اٹھاتا ہے، خوشحال اُن کے سر پر پہنچ جاتا ہے۔ اپنے لوگوں کے سروں کے مینار بناتا خوشحال مطمئن ہے کہ وہ مغل حکومت کے استحکام میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ اورنگزیب حکومت حاصل کرتا ہے تو خوشحال شاہجہان کو قصۂ پارینہ سمجھ کر تندہی سے اورنگزیب کی خدمت میں جت جاتا ہے۔ شکست خوردہ دارا شکوہ اٹک پہنچ کر خوشحال سے مدد طلب کرتا ہے لیکن خوشحال انکار کر دیتا ہے، اسے بدخشان کے مہم کے دوران داراشکوہ کا رعونت بھرا لہجہ اور تضحیک آمیز رویہ یاد ہے، جب خوشحال ساتھیوں سمیت ساری رات برف کے طوفان میں گھِرا موت سے بال بال بچ جاتا ہے، کئی دنوں سے بھوکا پیاسا خوشحال جب دارا سے ملتا ہے تو دارا اسے سخت جملوں سے نوازتا ہے اور اس کی اہلیت اور وفاداری پر سوال اٹھاتا ہے۔

حکمران کانوں کے کچے ہوتے ہیں، اورنگزیب کو خوشحال کے خلاف ورغلایا جاتا ہے، خوشحال کو دھوکے سے پشاور بلا کر گرفتار کر لیا جاتا ہے، زنجیروں میں جکڑا خوشحال دہلی روانہ کیا جاتا ہے، اورنگزیب کے دربار میں پیشی ہوتی ہے جہاں اورنگزیب خوشحال کو سنے بغیر پابندِ سلاسل کرنے کا حکم جاری کرتا ہے۔ رنتھبور آگرہ میں خوشحال کی اسیری کا صبر آزما دور شروع ہوتا ہے۔ پشاور میں گرفتاری سے لے کر رنتھمبور میں اسیری تک خوشحال اپنے بیٹوں اور بھائیوں سے رابطے میں رہتا ہے اور انہیں اپنی رہائی کے لئے جنگ سے گریز اور سفارتی کوششوں کی تلقین کرتا ہے۔ خوشحال قید میں اپنے وطن اور لوگوں سے دوری کا رونا دل خراش شاعری لکھ کر روتا ہے۔

آزاد منش خوشحال کے لئے زندان صرف زندان نہیں بلکہ فکر و عمل کی آزادی کا چھِن جانا ہے وہ ہر قیمت پر رہائی چاہتا ہے۔ شاہین کو اپنی شاعری میں ایک لافانی علامت کے طور پر پیش کرنے والے سردار شاعر کے لئے قید و بند کیا معنی رکھتا ہے، اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ اورنگزیب شاید خوشحال کی بے قراری بھانپ لیتا ہے، وہ اُسے ایک عجیب پیشکش کرتا ہے جو اُس کی سطحیت، اپنی رعایا کے مزاج سے لاعلمی یا جذبات سے لاپرواہی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

پختون سردار، ایک عظیم شاعر، فلسفی، مورخ، مدبر، جنگجو عرضیکہ ایک عدیم النظیر کردار کو پیشکش کی جاتی ہے کہ وہ اپنے خاندان کے مرد و زن کو دہلی بلا لے اور بدلے میں رہائی کا پروانہ حاصل کرے۔ خوشحال جو کہ قید میں ایک ماہی بے آب کی طرح تڑپتا ہے چونک جاتا ہے اور اپنے بیٹے اشرف خان جو کہ خود ایک قادرالکلام شاعر ہے کو پیغام دیتا ہے کہ ایک لمحہ ضائع کیے بغیر اپنے کنبے کو لے کر کسی محفوظ مقام کو کوچ کر جائے۔

سو سے زائد گھرانوں پر مشتمل خوشحال کا کنبہ رات کی تاریکی میں رختِ سفر باندھتا ہے اور اکوڑہ خٹک سے نکل کر اپنے جانی دشمنوں یوسفزیوں کے دیار کا رخ کرتا ہے۔ یوسفزئی دیرینہ دشمنی بھلا کر خوشحال کے آل کو اپنی پناہ میں لیتے ہیں ؛ جن کے ساتھ عمر بھر کشت و خون میں گزارے تھے ان کے لیے کٹ مرنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔

بات طویل ہوگئی، مدعا صرف یہ بیان کرنا ہے کہ پختونوں کے لئے چادر اور چار دیواری کیا معنی رکھتے ہیں ؛ اس کے تقدس کے لئے وہ اپنی نسلیں خاک میں ملانے کے لئے تیار رہتے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ میں پختونوں کے علاوہ ان کی روایات کا قتلِ عام امریکہ کے لئے کوئی معنی نہیں رکھتا۔ تعجب امریکہ کے طرزعمل پر بالکل نہیں لیکن یہ ہمارے اپنے محافظوں کو کیا ہو گیا ہے کہ اپنے ہی لوگوں کے دلوں میں نفرت کے شعلوں کو ہوا دے رہے ہیں۔

کیا شمالی وزیرستان کے ایک آٹھ دس سالہ بچے کی آنکھوں سے چھلکتے درد پر کوئی غور کرنے کے لئے تیار ہے؟ اس کے لہجے میں پوشیدہ بے بسی کیسا طوفان برپا کرسکتی ہے، کیا کسی کو اندازہ ہے؟ شمالی وزیرستان کے خیسور علاقے سے تعلق رکھنے والا یہ بچہ زبان کی لکنت کے باعث روانی سے بول نہیں سکتا، بچہ کہتا ہے کہ اس کے باپ اور بھائی کو فوج اٹھا لے گئی۔ دو سیکیورٹی اہلکار آئے روز آتے ہیں، سیدھے گھر میں داخل ہوتے ہیں، چارپائی منگواتے ہیں، بستر لگانے کا حکم دیتے ہیں اور گھر میں بیٹھک لگا لیتے ہیں۔

بچہ لاچاری کی تصویر بنا ہے، معصوم اپنے بھائی اور باپ کی رہائی کی درخواست بھی نہیں کرتا کیونکہ گھر کے سربراہ کے طور پر اُسے اِس سے بڑا مسئلہ درپیش ہے؛ باپ بھائی کو نہیں چھوڑنا تو نہ چھوڑیں لیکن ہمارے گھر آنا بند کردیں۔ کبھی کبھار تو لگتا ہے کہ پاک فوج کی وردی میں دشمن کے سپاہی پھر رہے ہیں۔ شرم نہیں آتی ایسے بے غیرتوں کو جو کہ ایک طرف زخم سے چُور پختونوں کی دلجوئی کے بجائے نمک پاشی کررہے ہیں تو دوسری جانب وطن عزیز کے دفاع کے لئے سر ہتھیلی پر رکھے ہمہ وقت تیار سپاہیوں کے لازوال قربانیوں کا بھی مذاق اڑا رہے ہیں۔

منظور پشتین نے یونہی طوفان نہیں اٹھا رکھا ہے اس بحر کی تہہ میں بہت سارا ایسا کچھ ہے جو اضطراب پیدا کر رہا ہے، اس سے پہلے کہ یہ اضطراب طوفان کی شکل اختیار کر لے پاک فوج کو اس کا سدباب کرنا ہوگا۔ وہ افسر جس کے ماتحت فوجی بلا کسی خوف کے لوگوں کے گھروں میں گھس جائیں، کسی طور ایسے حساس مقام پر ڈیوٹی کے لائق نہیں۔ اُس کو اِن دونوں سورماؤں کے ساتھ گھر بھیجنا چاہیے اور اگر ایسا کرنے میں فوج کے قواعد و ضوابط حائل ہیں تو انہیں فوج کے خچروں کو ”خَر خَرہ“ کرنے کی ڈیوٹی دی جائے، کہ یہ انسانوں کے ساتھ رہنے یا کام کرنے کے لائق نہیں۔

خرخرہ کے لئے اردو زبان میں کیا لفظ استعمال ہوتا ہے، عدنان کاکڑ صاحب، ظفر عمران صاحب کے ساتھ مشاورت کر کے ہماری رہنمائی کر سکتے ہیں۔ اگر ان کے علم میں نہیں تو کسی دن ہم سب کے لئے منظور پشتین کا انٹرویو لے کر ان سے پوچھ لیں۔ نہ جانے منظور پشتین کے معاملے میں میڈیا کی مکمل زبان بندی کیوں ضروری ہے؟ اگر اتنا ہی بڑا مسئلہ ہے تو سنسر کرکے چلا لیا کریں کہ لوگوں کو پتہ تو چلے وزیرستان سوچ کیا رہا ہے اور وہاں ہو کیا رہا ہے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •