بچوں پر جنسی تشدد اور جنوبی پنجاب کے جاہل


بچے ہر گھر کے آنگن کے پھول، فطرتاً معصوم اور پیار کے طلب گار ہوتے ہیں۔ جنسی زیادتی کے واقعات میں نشانہ بننے والے معصوموں کی زندگیوں پر ایسے واقعات عمر بھر کے لیے منفی اثرات چھوڑ جاتے ہیں جو مجموعی طور پر ان کے مستقبل کے لیے نقصان دہ ہے۔ بچوں کے ساتھ ہونے والی جنسی زیادتی کے واقعات ایک بین الاقوامی مسئلہ بن چکا ہے اور بدقسمتی سے پاکستان بھی اس سنگین مسئلہ سے دوچار ہے۔ بچوں سے والدین کی معمولی سی عدم توجہی ان واقعات میں اضافہ کا باعث بن رہا ہے۔ قومی کمیشن برائے اطفال کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 14 سال تک کی عمرکے بچوں کی تعداد کل آبادی کا 35.4 فیصد ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق دنیا میں سالانہ 246 ملین یعنی 24 کروڑ 60 لاکھ لڑکے اور لڑکیاں سکول میں ہونے والے جنسی تشدد کا شکار بن چکے ہیں۔

وفاقی محتسب کی قصور میں جنسی زیادتی کے واقعات پر ایک رپورٹ کے مطابق بچوں سے زیادتی کے واقعات تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ متاثرین غریب، کمزور اور پسماندہ خاندانوں سے تعلق رکھتے جبکہ ملزم سیاسی، با اثر اور دولت مند طبقہ سے ہوتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 2017 ء میں پاکستان بھر مجموعی طور پر 4117 زیادتی کے واقعات ہوئے ان میں سب سے زیادہ پنجاب سے 1089 واقعات رپورٹ ہوئے۔ صرف قصور میں دس سالوں کے دوران زیادتی کے 272 واقعات رونما ہوئے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ گواہوں کو تحفظ فراہم نہیں کیا جاتا اور تمام کیسوں میں صرف دو اعشاریہ چھ فیصد کیسوں میں سزا ہوئی کیونکہ جاگیر داروں اور سیاستدانوں نے اپنے اثر و رسوخ سے ملزمان کی پشت پنائی کرتے ہوئے ان واقعات کو دبانے کی کوشش کی ہے۔

دین سے دوری اخلاقی اقدار کی کمی، منشیات کا استعمال، جسم فروشی اور جنسی مواد باآسانی موبائل اور انٹر نیٹ پر دستیاب ہونا اور غیر اخلاقی فلمیں معصوم بچوں سے جنسی زیادتی کے بڑھتے ہوئے گھناؤنے واقعات کی بنیادی وجہ کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ قومی کمیشن برائے اطفال کی بچوں کے ساتھ جنسی تشدد کے حوالے سے ایک رپورٹ کے مطابق نظام عدل میں بہت سی خامیوں کی نشاندہی گئی ہے جن میں پولیس تفتیش کے موقع پر رشوت، سفارش اور سیاسی اثر کا استعمال، مجرم کو بچانے کے لیے مظلوم کے خاندان پر دباؤ، غریب لوگوں کو مفت قانونی معاونت کانہ ملنا اورمظلوم کی بحالی کا کوئی باقاعدہ نظام نہ ہونا شامل ہے۔ اس کے علاوہ مقدمات کے اندراج میں حقائق کے پیش نظر دفعات کا اندراج نہ ہونا، میڈیکل میں تاخیر، ڈی این اے رپورٹس کاکئی کئی ماہ تک التواء ہونا اور نا تجربہ کار پولیس افسران کابھی تفتیش میں تاخیر ی حربے اختیار کرنا اہم وجوہات کے طور پر سامنے آئے ہیں۔

ایک رپورٹ کے مطابق صوبہ پنجاب میں ہر چوبیس گھنٹے کے دوران چھ سے سات بچوں پر جنسی تشدد کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ صرف سات ماہ (جنوری تا جولائی 2018 ) کے دوران پنجاب بھر میں کمسن بچوں سے ریپ، عصمت دری اوربدفعلی کے 1362 واقعات رپورٹ ہوئے جن میں 1357 مقدمات کا اندراج ہواہے۔ اگر ریجن کی سطح پر جائزہ لیا جائے تو لاہورر یجن میں 125، شیخورپورہ ریجن میں 123، گوجرانوالہ ریجن میں 194، راولپنڈی ریجن میں 125، سرگودھا ریجن میں 72، فیصل آباد ریجن میں 150، ساہیوال ریجن میں 71، ملتان ریجن میں 232، ڈیرہ غازی خان ریجن میں 145 اور بہاولپور ریجن میں 125 واقعات ہوئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق 505 بچوں کی عمریں تین سے آٹھ سال، 494 بچوں کی عمریں نو سے بارہ جبکہ 363 بچوں کی عمریں 13 سے 17 سال کے درمیا ن تھیں۔ بچوں پر جنسی تشدد کے جرم میں درج ہونیوالے مقدمات میں سے 932 کیسوں کے مکمل اور نامکمل چالان عدالتوں کو بھجوائے گئے ان میں سے 344 مقدمات متعلقہ تھانوں میں زیر تفتیش ہیں اور 81 مقدمات کو مختلف وجوہات پر خارج کیا گیا۔ بہاولنگر کے تین، وہاڑی اور شیخوپور ہ کے ایک ایک واقعہ کی ایف آئی درج نہیں کی گئی۔

بہاول پور میں بچوں کی جیل کے قیدی 13 سالہ کاشف کا کہنا ہے کہ وہ اپنے کیے پر بہت شرمندہ ہے اسے کو کمسن بچی سے جنسی زیادتی کے مقدمے میں 25 سال کی سزا ہو چکی ہے۔ بہاولنگر کا کاشف مقامی پرائیوٹ سکول کا پانچویں کلاس کا طالب علم اور چھ بہن بھائیوں میں سب سے بڑا ہے نے اپنے محلہ کی کمسن بچی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ کاشف کے خلا ف تھانہ ڈونگہ بونگہ ضلع بہاولنگر میں مقدمہ درج ہو ا تھا اورکیس کی سماعت کے بعد عدالت نے کاشف کو قید کی سزاسنائی۔ کاشف کا کہنا ہے کہ موبائل فون اور انٹرنیٹ پر غیر اخلافی فلمیں دیکھنے سے ذہن میں انتشار ابھرا۔

بہاولپور ڈویژن (بہاولپور، بہاولنگر اور رحیم یار خان اضلاع ) میں ہر 42 گھنٹے کے دوران ایک کمسن پر جنسی تشدد رپورٹ ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سات ماہ ( جنوری سے جولائی 2018 ) کے دوران بہاولپور ڈویژن میں کم عمر بچوں پر جنسی تشدد، ریپ، عصمت دری کے 125 واقعات رپورٹ ہوئے جن میں 79 بچے اور 46 بچیاں شامل ہیں۔ رپورٹ ہونیوالے 125 واقعات میں سے 122 کے مقدمات درج ہوئے۔ متاثرین میں تین سے آٹھ سال کے متاثرہ بچوں کی تعداد 47، نو سے بارہ سال کے بچوں کی تعداد 43 اور تیرہ سے سترہ سال کے بچوں کی تعداد 35 ہے۔

ریجن میں 33 مقدمات زیر تفتیش رہے 82 مقدمات کے مکمل یاغیر مکمل چالان عدالتوں کو بھجوائے گئے، 6 مقدمات میں صلح اور ایک مقدمہ میڈیکل رپورٹ میں الزام غلط ثابت ہونے پر خارج ہوا۔ بہاولپور ڈویژن میں ضلع کی سطح پر رپورٹ ہونیوالے کیسوں کا جائزہ لیا جائے تو سات ماہ کے دوران ضلع بہاولپور میں درج ہونیوالے 42 مقدمات میں 21 زیر تفتیش جبکہ 18 مقدمات کے چالان مکمل کرکے عدالت کو بھجوائے گئے، ایک مقدمہ میں فریقین کے درمیان صلح اور دومقدمات خارج ہوئے۔ ضلع رحیم یار خان میں بھی 42 کیسوں میں سے 27 کے نامکمل چالان یا زیر تفتیش اور 14 مقدمات کے چالان ہوئے جبکہ ایک کیس خار ج ہوا۔ اسی طرح ضلع بہاولنگر میں درج ہونیوالے 41 مقدمات میں سے 5 مقدمات میں فریقین کے مابین صلح ہو ئی جبکہ 24 مقدمات کے چا لان مکمل اور 12 مقدمات کے چالان نامکمل/زیر تفتیش رہے۔

جنسی تشدد و زیادتی جیسے مقدمات درج ہونے کے بعد سیاستدان، جاگیر دار اور دیگر افراد دونوں فریقین میں صلح کے لئے سرگرم ہو جاتے ہیں۔ کئی کیسوں میں تو مدعی کو بھاری رقم کے عوض یا مجبوراً صلح کرکے کیس سے دستبردار ہونا پڑتا ہے نتیجہ میں سفاک درندے سزا سے بچ نکلتے ہیں۔ ضلع رحیم یار خان کے 9 سالہ اشتیاق پر جنسی تشدد کے چار ملزما ن اور 10 سالہ شیر زمان کے مقدمہ میں نامزد دو ملزمان کومدعی، گواہان یا معززین علاقہ کے بیانا ت کے بعد مقدمات کو خارج کر دیا گیا۔

اسی طرح بہاولپور سے تعلق رکھنے والے ایک 7 سالہ متاثرہ بچے (ت) کے والدین کا کہنا ہے کہ آپ تصور ہی نہیں کر سکتے کہ ہمارے لیے وہ لمحہ کس حد تک تکلیف دہ تھا یہ صرف والدین ہی جان سکتے ہیں۔ جب بچے سے زیادتی کے ملزم کو گرفتارکرنے کے بعد کے بعدپہلے تو پولیس نے ملزم کو بھر پور فائدہ پہنچاتے ہوئے اس کو کم عمر قرار دے کر بچوں کی جیل میں بھجوا دیا تھا۔ پولیس کے اس اقدام سے ہمیں خاصی مایوسی ہوئی اسی طرح ایف آئی آر کے اندراج کے چوتھے ہی روز شہرکے معززین اور قریبی عزیزوں نے ملزم کو معاف کرانے کے لئے ہمارے گھر ڈیرے ڈال لیے اور ان میں ایسے افراد بھی شامل ہو گئے جنہیں انکار کرنا ہمارے لیے ممکن نہیں تھا اور مجبوراً ہمیں عدالت میں جا کر ملزم کی ضمانت کے لئے بیان دینا پڑا۔

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبایئے

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3