جسٹس ثاقب نثار: تم سے پہلے وہ جو اک شخص یہاں تخت نشیں تھا


کیسا قحط الرجال ہے کہ جسٹس کارنیلئس کی نشست پر جسٹس افتخار چوہدری اور جسٹس ثاقب نثار ایسے لوگ براجمان ہو رہے ہیں۔ جسٹس ثاقب نثار کی ریٹائرمنٹ کے بعد ایک سوال پھر سے سر اٹھا رہا ہے کہ عدلیہ پر تنقید ہو سکتی ہے یا نہیں، جج سے سوال کیا جا سکتا ہے یا نہیں اور توہین عدالت کس عمل پر نافذ کی جا سکتی ہے۔ تفصیل میں جانے سے پہلے جسٹس ثاقب نثار کا خصوصی شکریہ۔ ہمارے ایسے سر پھروں کو یہ خوش فہمی تھی کہ جسٹس افتخار چوہدری سے بد تر چیف جسٹس کوئی نہیں ہو سکتا۔

جسٹس ثاقب نثار نے یہ خوش فہمی بھی ہوا کر دی۔ اگر آپ کوئی ایسی کتاب مرتب کرنا چاہیں جس میں وہ تمام کام درج ہوں جو ایک جج کو یا چیف جسٹس کو نہیں کرنے چاہئیں تو جسٹس ثاقب نثار زبانی ایک نشست میں کتاب مرتب کروا سکتے ہیں، بلکہ جج صاحب کی سرگرمیوں پر مشتمل ٹی وی فوٹیجز سے بآسانی ایک فلم بھی تیار کی جا سکتی ہے۔

ایک صحافی ٹی وی پروگرام میں جسٹس ثاقب نثار کے طرز عمل پر سوال اٹھائے تو آپ توہین عدالت نافذ کر دیتے ہیں، ڈیم فنڈ کی قانونی حیثیت پو سوال کریں تو توہین عدالت نافذ، ہسپتالوں میں چھاپوں پر تنقید تو توہین عدالت۔ گذشتہ تین سالوں میں اتنا تو پتہ چلا کہ اس ملک میں اصل مقدس گائیں کون ہیں۔ فوجی بیچارے تو ویسے ہی بدنام ہیں، اسی ملک میں ایوب کتا ہائے ہائے اور گو مشرف گو کے نعرے بھی لگے اور فوجی کے عمل کو کسی بھی وقت عدالت میں غیر قانونی ثابت کیا جا سکتا ہے۔ جج کے غیر قانونی عمل پر کیسے سوال کیا جائے اور چہ جائیکہ ثابت کیا جائے، محض سوال اٹھانے پر ہی توہین عدالت کا قانون حرکت میں آجاتا ہے۔

معلوم نہیں جسٹس ثاقب نثار کی انا کی قیمت یہ قوم کتنے برس تک ادا کرے گی۔ اور یہ ڈیم فنڈ کہاں جائے گا؟ آیا اس سے ڈیم کی سائٹ پر موصوف کی جھونپڑی تعمیر کی جائے گی یا مزاجِ یار کوئی اور مصرف تجویز کرے گا؟

کچھ سوال پیش خدمت ہیں، اگر کوئی مجاہدِ فیس بک جواب سے مطلع فرمائے تو عنایت ہو گی۔

تیرہ 13 ارب روپے مالیت کے اشہارات ٹی وی چینلز اور اخبارات میں مفت چلوا کر ان کا بیڑہ غرق کیا گیا، اور صرف 9 ارب روپے کے عطیات ڈیم فنڈ میں جمع ہوئے، جس میں سے بیشر حصہ افواجِ پاکستان کی تنخواہوں سے کٹوتی کی شکل میں جمع ہوا۔ دوسری طرف دونوں بڑے ڈیموں کے لئے درکار رقم تقریباً چودہ سو ارب روپے ہے۔ مطلب صاف واضح ہے۔ ایک ایسا کام جو آپ کی اس ڈرامے بازی سے ہو نہیں سکتا، پوری قوم کو یرغمال بنا کر آپ نے محض اپنی مقبولیت کے لئے ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا رکھا ہے، اس کا جواب کون دے گا؟

سپریم کورٹ آف پاکستان کا ڈیم فنڈ قائم کرنا، اس عمل کی قانونی حیثیت کی وضاحت؟ پاکستان بلکہ پوری دنیا کی آئینی تاریخ میں ایسی کوئی نظیر؟ شنید ہے کہ بہت جلد یہ عمل غیر قانونی قرار دیا جائے گا۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے سرکاری اشتہارات میں شہباز شریف، مراد علی شاہ اور پرویز خٹک کی تصاویر شائع ہونے پر ان کو ذاتی جیب سے ادائیگی کا حکم دیا۔ کیا ڈیم فنڈ کے لئے چلنے والے اشتہارات جو سرکاری اداروں نے ہی مختلف ایڈورٹائزنگ ایجنسیز سے تیار کروا کر ادائیگیوں کے لالچ میں مفت چلوائے، ان اشتہارات میں چیف جسٹس کی ذاتی تشہہیر کی قیمت جج صاحب اپنی ذاتی جیب سے ادا کریں گے؟

جسٹس ثاقب نثار نے ایک موقع پر اس امر پر انتہائی مایوسی کا اظہار کیا اور نظامِ انصاف پر تنقید کی کہ انہوں نے خود چھاپہ مار کر شرجیل میمن کے کمرے سے شراب کی بوتلیں برآمد کیں لیکن ثابت نہیں کر سکے۔ جج صاحب شکر کریں آپ ہیروشپ کے مارے اس ملک میں تھے، کسی مہذب ملک میں ایسے چھاپے کا سوچنے پر ہی معطل ہو جاتے۔ آپ جب چیف جسٹس کو ایس ایچ او یا اے ایس آئی کی سطح پر لے آئیں گے تو گلہ کس سے کر رہے ہیں؟

ایک اور موقع پر (اپنی ریٹائرمنٹ سے ایک دن پہلے ) موصوف نے پاکستان کے نظام انصاف کو دنیا کے بہترین نظاموں میں سے ایک قرار دیا۔ ناچیز اس کنفیوژن کا شکار ہے کہ ان کے کس بیان کو درست مانا جائے۔ اگر اول الذکر کو تو موصوف خود اور جناب کے بھائی بند اس کے سب سے بڑے ذمہ دار ہیں۔ ثانی الذکر بیان کو درست تسلیم کرنے کی اس لئے کوئی وجہ نہیں کہ عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کی تعداد اور کورٹ کچہریوں کے چکر میں زندگیاں گنوانے والوں کے چہرے اس کی نفی کرتے ہیں۔

ایک طرف یہ صورتحال کہ چندوں کے ذریعے ڈیم تعمیر کرنا ممکن نہیں تو دوسری طرف سپریم کورٹ کے اپنے کرنے کے کام زیر التوا پڑے ہیں۔ گذشتہ کئی سالوں سے نظامِ انصاف کی بہتری اور مقدمات کی رفتار تیز کرنے کے لئے آوازیں بلند ہو رہی تھیں۔ کئی ایسے مقدمات کا فیصلہ سنایا گیا کہ پندرہ پندرہ بیس بیس سال کے سماعتوں کے بعد جب کسی ملزم کو رہائی ملی تو اس سے پہلے وہ زندگی کی قید سے نجات پا چکا تھا۔ دادا کا مقدمہ پوتا بھگتتا ہے، نسل در نسل چلنے والے مقدمات کی وجہ سے اب فریقین کوشش کرتے ہیں کہ عدالتوں سے باہر ہی کوئی حل تلاش کیا جائے۔

انگریزی مقولہ ہے کہ انصاف میں تاخیر انصاف سے انکار کے مترادف ہے، لیکن خیر! صورتحال یہ ہے کہ 2009 میں افتخار چودھری کی بحالی کے وقت سپریم کورٹ آف پاکستان میں زیر التوا مقدمات کی تعداد 19055 انیس ہزار پچپن تھی جبکہ جسٹس ثاقب نثار کی ریٹائرمنٹ کے وقت سپریم کورٹ میں اکتالیس ہزار سے زائد مقدمات التوا کا شکار ہیں۔ 9 برسوں میں سپریم کورٹ میں زیر التوا مقدمات کی تعداد میں 100 فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے۔ اس پہ مستزاد یہ کہ جج صاحب نے ارشاد فرمایا کہ وہ کام کی زیادتی کی وجہ سے صرف تین گھنٹے سوتے ہیں!

جج صاحب کا جب دل کیا ہسپتالوں پر چھاپے مارے، سرکاری ہسپتال تو کجا نجی ہسپتالوں کو بھی نہیں بخشا۔ کوئی آنے والا منصف شاید بتا پائے کہ ان چھاپوں کی آئینی حیثیت کیا تھی۔ جج صاحب کا جب دل کیا جس بیوروکریٹ کی پگڑی اچھالی۔ ہر کام کرنے والے بیورو کریٹ کو رسوا کیا۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ فواد حسن فواد کی نیب میں گرفتاری کے بعد بھی جسٹس ثاقب نثار انہیں خصوصی طور پر طلب کر کے ان سے کام کرواتے رہے۔ حسین نقی ایسے نجیب صحافیوں کی سرِ بازار تذلیل کی، وزیراعظم سے لے کر ایک سیکشن افسر تک ہر ایک کے کام میں رخنہ ڈالا۔

بس نہیں کیا تو اپنا کام نہیں کیا۔ کس قانون کے تحت آپ نے ڈیم فنڈ کے لئے دورے کیے، کس قانون کے تحت مجرموں کو ہونے والے جرمانے ڈیم فنڈ میں جمع کروائے گئے۔ چاپلوس پسند ایسے کہ نعیم بخاری جیسے جید وکیل نے بھی بولنے کا موقع مانگا تو یہ پیشکش کی ہر منٹ کے بدلے ایک ہزار روپے ڈیم فنڈ میں جمع کروائیں گے۔ کس قانون کے تحت بھائی؟ 12 دسمبر کو ایک سابق جج کو تحقیقات کے لئے نیب نے طلب کیا تو جج صاحب نے ڈی جی نیب کی کلاس لی اور کہا کہ تم لوگ اپنی اوقات سے تجاوز کر رہے ہو۔ جج صاحب آپ کے پیٹی بند بھائی ہر قانون سے مبرا اور ایک خود مختار ادارے کو اس کی اوقات آپ سکھائیں گے؟

مورخ لکھے گا کہ اس ملک میں ایک ایسا منصفِ اعلیٰ بھی تھا جو بیک وقت ماہر توانائی، ماہر معیشت، ماہر ثقافت، ماہر عمرانیات، ڈیم فنڈ کا مہتمم، آبادی کنٹرول کرنے والا جن اور جانے کیا کیا تھا، بس اسے ایک کام نہیں آتا تھا، اور وہ تھا اس کا اپنا کام۔ جج صاحب آپ سے پہلے افتخار چوہدری جیسی ایک عفریت بھی اس ملک پر مسلط ہوئی تھی اور اسے بھی اپنی مقبولیت کا اتنا ہی گھمنڈ تھا۔ تم سے پہلے جو شخص یہاں تخت نشیں تھا، اسے بھی اپنے خدا ہونے کا اتنا ہی یقین تھا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد سیاسی جماعت بنا کر اسے اپنی اوقات سمجھ آ گئی۔ انشا اللٰہ آپ کو بھی افاقہ ہو گا۔

اور المیہ یہ بھی نہیں کہ بیسیوں منصفوں میں ایک آدھا ایسا جج بھی آ جائے، المیہ تو یہ ہے جب ایک ادارے کو ایسی طاقت کا چسکا لگ جائے پھر جاتے جاتے ہی جاتا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اور قانون کی تشریح کرنے والے جب قانون کی دھجیاں بکھیرنے پر آ جائیں تو کون آئین کا پرسہ دے اور کسے دے۔

Facebook Comments HS